فکر کی تشکیل
Al-Risala, April 2020, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک قاریٔ الرسالہ نے یہ سوال کیا ہے کہ فکر کی تشکیل میں سب سے زیادہ کن عناصر پر توجہ دینی چاہیے ۔ (حافظ اے ایچ دانیال ، پٹنہ، بہار)
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ تاریخ ایک مسلسل سفر کا نام ہے۔ بہت زیادہ آبجیکٹیو مطالعہ کے ذریعے سب سے پہلے یہ جاننا ہے کہ اس سفر میں ہم کہاں ہیں۔ یہ سب سے پہلی شرط ہے۔ دورِ جدید دراصل نئے مواقع وجود میں آنے کا زمانہ ہے۔ جس چیز کو جدید تہذیب کہتے ہیں، وہ دراصل جدید مواقع (new opportunities) کا دوسرا نام ہے۔ لیکن عین اسی زمانے میں یہ ہوا کہ مغل سلطنت اور عثمانی سلطنت کے سقوط کا واقعہ پیش آگیا۔
یہ واقعہ کسی کے ظلم یا سازش کی بنا پر نہیں ہوا، بلکہ وہ مسابقت کی بنا پر ہوا۔ یہ دنیا مسابقت (competition) کی دنیا ہے۔ یہاں مسلسل طور پر افراد اور قوموں کے درمیان مسابقت جاری جو فرد یا قوم مسابقت میں اسٹیڈ کرتے ہیں، ان کو زندگی ملتی ہے، اور جو اسٹیڈ نہیں کرتے، وہ زندگی کے میدان میں پیچھے چلے جاتے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلم لیڈروں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ جو واقعہ بربنائے مسابقت ہوا تھا، اس کو انھوں نے بربنائے ظلم سمجھ لیا، اور مفروضہ ظالموں کے خلاف لڑائی لڑنے میں مشغول ہوگئے۔ یہ بلاشبہ اندازے (assessment) کی غلطی اب تمام مسلم رہنماؤں پر یا ان کے ماننے والوں (followers) پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعلان کریں، تاکہ وہ اپنے عمل کی زیادہ صحیح منصوبہ بندی کر سکیں۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کا جو واقعہ پیش آیا، اس کا تقاضا تھا کہ تمام مسلمان، عرب وعجم، اپنے عمل کی ری پلاننگ کریں۔ اس کے برعکس، انھوں نے یہ کیا کہ جدید قوموں کو دشمن قرار دے کر ان سے لڑنا شروع کر دیا۔ یہ اندازے کی سنگین غلطی تھی۔ کے مسلمان اپنے اس غلط اندازے کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔