Al-Risala · April 2020

الفاظ کا جنگل

Al-Risala, April 2020, pp. 46–47

By Maulana Wahiduddin Khan

کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ مسلسل طور پر بولتے ہیں۔ ان کے الفاظ کبھی ختم نہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس الفاظ کا خزانہ ہے، لیکن یہ الفاظ معانی سے خالی ہوتے ہیں۔ کے الفاظ میں نہ کوئی تجزیہ ہوتا ہے، نہ کوئی وزڈم (wisdom)، نہ کوئی گہری معنویت۔ آپ ان کی باتوں کو گھنٹوں سنتے رہیے، لیکن ان کی باتوں میں آپ کو کوئی حکمت یا کوئی دانشمندی کی بات نہیں ملے گی_ حتی کہ آپ اس سے بھی بے خبر رہیں گے کہ انھوں نے کیا کہا۔ ان کی باتوں میں آپ کو کوئی ٹیک اوے (takeaway) نہیں ملے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے پاس حافظہ (memory) ہوتا ہے، مگر ان کے پاس دانش مندی (wisdom) نہیں ہوتی۔ ان کے پاس گہرا مطالعہ نہیں اقبال نے ایک شعر کہا تھا، وہ شعر یہ ہے:

قلندر جز دو حرف لااِلہ کچھ بھی نہیں رکھتا فقیہِ شہر قاروں ہے لُغت ہائے حجازی کا اقبال نے یہ شعر خواہ جس معنی میں کہا ہو، وہ ایک اور اعتبار سے بالکل درست ہے، اور وہ ہے آج کل کے لکھنے اور بولنے والے لوگوں کا طبقہ۔ آج کل جو لوگ اسٹیج پر بولتے ہیں، یا مجلات میں لکھتے ہیں، ان کی باتوں کو سنیے یا پڑھیے۔ ان سب کا خلاصہ تقریباً ایک ہے۔ الفاظ کی بھر مار، لیکن معانی کا وجود نہیں۔

اس مسئلے پر غور کرنے کے بعد میں نے سمجھا ہے کہ خواہ تقریر کا معاملہ ہو، یا تحریر کا، وہ با معنی اس وقت بنتی ہے، جب کہ صاحبِ تحریر یا صاحبِ تقریر میں تخلیقی صلاحیت (creativity) موجود صرف تعلیمی سند یا مطالعہ اس مقصد کے لیے کافی نہیں۔ بڑے سے بڑا آدمی خواہ وہ سند یافتہ ہو، یا صاحبِ مطالعہ، کبھی وہ با معنی تقریر یا تحریر کا مالک نہیں بن سکتا۔ ضروری ہے کہ اس کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پائی جائے۔ تخلیقی فکر کے بغیر آدمی باتوں کو دہر اسکتا ہے، لیکن وہ کسی با معنی تحریر یا تقریر کو وجود میں نہیں لاسکتا۔ با معنی تقریر یا تحریر ہمیشہ تخلیقی فکر کا نتیجہ ہوتی ہے، نہ کہ تکرار

الفاظ کا نتیجہ ۔ تخلیقی فکر کا مالک کون ہے، یہ وہ انسان ہے، جو آخری حد تک کھلا ذہن (open mind) رکھتا ہو، جو اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر خالص موضوعی (objective) انداز میں رائے قائم کر سکتا ہو۔ فارسی کا ایک مثل ہے: یک من علم را، دہ من عقل می باید۔ یعنی ایک من علم کے لیے دس من یہ بات اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ آدمی بولنے سے زیادہ سوچے، وہ بولنے سے زیادہ تجزیہ (analysis) کرے۔ وہ ظاہری اہمیت کی چیزوں سے اوپر اٹھ کر معنوی اہمیت کی چیزوں میں گم ہوجائے۔ اس کے اندر مثبت سوچ (positive thinking) پائی جاتی ہو۔ تعصب سے دور ہو۔ اس کا ذہن نفرت اور انتقام کے جذبات سے خالی ہو۔ وہ غیر متاثر انداز میں واقعات کا تجزیہ کرے۔ وہ اپنے قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچے ۔

تخلیقی فکر فطرت کا عطیہ ہے۔ تخلیقی فکر ایک خدا داد صلاحیت ہے۔ تخلیقی انسان کے اندر وہ صفت ہوتی ہے، جس کو حدیث میں دعا کی شکل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقّاً، وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلاً، وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ، وَلَا تَجْعَلْهُ مُلْتَبِساً عَلَيْنَا فَنَضِلَّ (تفسیر ابن کثیر، 1/427)۔ یعنی اے اللہ، ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا، اور اس کے اتباع کی توفیق دے، اور باطل کو باطل کی صورت میں دکھا، اور اس سے بچنے کی توفیق دے، اور اس کو ہمارے او پر غیر واضح نہ بنا کہ ہم گمراہ ہوجائیں۔ اسی طرح یہ دعا: اللَّهُمَّ أَرِنَا الْأَشْيَاءَ كَمَاهِي (تفسیر الرازی، جلد 13 ، صفحہ 37)۔ یعنی اے اللہ، مجھے چیزوں کو اسی طرح دکھا، جیسا کہ وہ ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ذہنی ارتقا کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر تخلیقی فکر پیدا ایسا آدمی ہر لمحہ اپنے لیے انٹلیکچول فوڈ حاصل کرتا رہتا ہے۔ اس کی ذہنی زندگی کبھی اور کسی حال میں ختم نہیں ہوتی۔ جو لوگ صرف تکرار الفاظ کو جانتے ہوں، وہ الفاظ کا جنگل اگا سکتے ہیں، لیکن معانی کا باغ وجود میں نہیں لاسکتے۔ الفاظ کا جنگل اگانے کے لیے حافظہ (memory) کافی ہے۔ اگر کسی کا حافظہ اچھا ہو، تو وہ بہ آسانی الفاظ کا جنگل اگا سکتا ہے۔ لیکن معانی کا باغ اگانا ایک بالکل مختلف چیز ہے۔ معانی کا باغ صرف وہ لوگ اگا سکتے ہیں، جو تخلیقی فکر کے حامل ہوں۔

Printed page