Al-Risala · January 2020

All roads lead to Rome

Al-Risala, January 2020, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

رومن امپائر کے عروج کے زمانے میں اس کے اندر بیشتر یورپ، شرقِ اوسط اور افریقہ کے شمالی ساحلی ممالک شامل تھے۔ رومیوں نے جو سڑکیں، عمارتیں اور پل بنائے، وہ اتنے شاندار تھے کہ ان کے بنائے ہوئے بعض پل اسپین میں دو ہزار برس بعد بھی آج تک باقی ہیں۔ رومن لا آج بھی یورپ، امریکا کے قانون کی بنیاد ہے، وغیرہ۔

مگر رومن امپائر اپنی ساری عظمتوں کے باوجود ختم ہوگئی۔ اب اس کا نشان یا تو پرانے

کھنڈروں میں ہے یا ان کتابوں میں جو لائبریریوں کی زینت بننے کے لیے رکھی جاتی ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے انسان اگر نصیحت لے تو وہ کبھی گھمنڈ میں مبتلا نہ ہو۔ بتاتے ہیں کہ آنکھ والا وہ ہے، جو اپنے عروج میں زوال کا منظر دیکھے۔ جو اپنی بلند عمارتوں کو پیشگی بات ہے نہ کہ ولا واہب ہے، اس کا جواب اس کی روح میں دیسی ( ریت طور پر کھنڈ رہوتا دیکھ لے۔

شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی (1983-1898) علمائے دیوبند میں سے تھے۔ انھوں نے ایک مرتبہ وعظ میں کہا تھا، جس کا خلاصہ یہ ہے :

"میرے نزدیک آج کل جھگڑے اور فساد کی بنیاد یہ ہے کہ ہر شخص سواسیر بننا چاہتا ہے، کوئی شخص سیر بن کر رہنا نہیں چاہتا۔ اگر خود کو سیر اور دوسروں کو سواسیر سمجھنے کا جذبہ پیدا ہو جائے تو آج ہی یہ سارے جھگڑے اور فساد ختم ہو جائیں۔ " (صحبت با اہل دل) یہ نہایت صحیح بات ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سارے جھگڑوں کی جڑ لوگوں کا یہی جذبہ ہے۔ کوئی شخص یہ نہیں سوچتا کہ بس چند دن کی زندگی تک یہ سارے جھگڑے ہیں ، اس کے بعد انسان ہوگا اور اس کا خدا ہوگا۔ پھر تو نہ کوئی سیر ہوگا اور نہ کوئی سوا سیر۔ آہ، انسان آج سیر بن کر رہنے پر راضی نہیں حالاں کہ اس پر وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ نہ ہی سیر رہے گا اور نہ سو اسیر ۔ بلک وہ کچھ نہ ہوگا۔ کیوں کہ اللہ کے مقابلہ میں کسی کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر لوگ جان لیں کہ بالآخر وہ کچھ بھی نہ رہیں گے تو وہ یونہی سیر بننے پر راضی ہو جائیں اور پھر تمام عورت بات بات میں نہ بارہا روٹھنا پھلنا شروع کر دیں تو رہی سہی ہرب پر جھگڑے بھی اچانک ختم ہو جائیں۔

دیوتاں ان کے یہاں کے ی مذہب کی روح پھونکا ہے مسٹر نوفیر احمد ایم اے (اوٹھلا) کے اپنے گاؤں کا ایک دلچسپ قصہ بتایا۔ ان کے یہاں کے ایک زمین دار نے اپنا آم کا باغ پھل کے موسم میں پھل والے کے ہاتھ فروخت کیا۔ اس کے بعد تیز آندھی آئی ، اور اکثر آم جھڑ گئے۔ باغبان زمین دار سے ملا۔ اس نے فریاد کی کہ آندھی سے پھلوں کا

بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ آپ دام کم کر دیجیے ورنہ میں بالکل دیوالیہ ہو جاؤں گا۔ زمین دار نے دام کم کرنے سے انکار کر دیا ، اور کسی قسم کی رعایت دینے پر راضی نہ ہوا۔ توقیر صاحب کو باغبان پر رحم آیا۔ انھوں نے زمین دار کے سامنے باغبان کی سفارش کی۔ زمین دار بگڑ گیا۔ اس نے کہا کہ تم کمیونسٹ لوگ اس بات کو نہیں سمجھ سکتے۔ انسان کا رزق انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے، وہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ خدا چاہے گا تو اس کو پہلے سے بھی زیادہ دے گا۔ انسان کیسا عجیب ہے۔ دوسرے کے خلاف اس کو قرآن سے بے شمار دلیلیں مل جاتی ہیں۔ مگر اپنے خلاف اس کو قرآن سے کوئی دلیل نہیں ملتی۔ زمین دار صاحب کو خود اپنے لیے تو پھل کے تاجر سے لینا تھا، مگر اس تاجر کے بارے میں انھیں یقین تھا کہ اس کو خدا سے مل جائے گا۔ ظہیر فاریابی (ظہیر الدین ابوالفضل طاہر بن محمد، وفات 1201ء) ایک فارسی شاعر تھا۔ اس نے سلجوقی بادشاہ کی مدح میں قصیدہ لکھا۔ قدیم ایرانی روایت کے مطابق اس میں اس نے زبردست مبالغہ آرائی کی۔ اس قصیدے کا ایک شعر یہ تھا :

تابوسہ بر رکاب قزل ارسلان زند نہ کرسی فلک نہد اندیشہ زیر پائے (خیال کو قزل ارسلان بادشاہ کی رکاب کو بوسہ دینے کے لیے نو آسمانوں کو پاؤں کے نیچے رکھنا پڑا)۔ اس مبالغہ پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے شیخ سعدی (مصلح الدین ابن عبداللہ شیرازی، وفات 1291ء) نے کہا:

Printed page