ہر ایک کے لیے خیر
Al-Risala, August 2020, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ، خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2664)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک بہتر اور زیادہ محبوب ہے کمزور مومن سے، اور بھلائی ہر ایک کے لیے ہے۔ ایک شخص اگر پیدائشی طور پر طاقت ور ہو تو اس کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمام معاملات کو خود اپنی طاقت سے درست کر لے۔ لیکن جو انسان پیدائشی طور پر کمزور ہو، وہ بظاہر اس قابل نہیں ہوتا کہ اپنے معاملات کو خود اپنی طاقت سے درست کر سکے۔ لیکن خیر دونوں کے لیے ہے۔ ایک کے لیے اپنی ذاتی طاقت کی بنیاد پر، اور دوسرے کے لیے اللہ کی مدد کی بنیاد پر۔ جو آدمی کمزور اور عاجز ہو، وہ اگر منفی نفسیات میں مبتلا نہ ہو تو اس کے اندر اللہ کی یاد جاگ اُٹھتی وہ اللہ سے مدد کا طالب بن جاتا ہے۔ اس بنا پر یہ ہوتا ہے کہ اللہ اس کی مدد پر آ جاتا ہے۔ جب کمزور انسان یہ کہتا ہے کہ خدایا، تو نے مجھ کو کمزور پیدا کیا، اب تجھ ہی کو یہ کرنا ہے کہ تو میری کمزوری کی تلافی کرے۔ اس قسم کی دعا اللہ کی رحمت کو انووک (invoke) کرنے والی ہوتی ہے۔ اللہ ایسے انسان کی طرف مزید اضافے کے ساتھ متوجہ ہو جاتا ہے۔
جو انسان اپنے آپ کو طاقت ور پائے، اس کے اندر اپنے آپ پر بھروسے کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی اپنے آپ کو عاجز اور کمزور پائے۔ اس کے اندر اللہ سے طلب کی نفسیات جاگ اُٹھتی ہے۔ وہ دعا کرنے لگتا ہے کہ خدایا، تو نے مجھے ضعیف پیدا کیا ہے۔ ہی میرے ضعف کی تلافی فرما۔ اس طرح کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے، اور بندۂ ضعیف اللہ کی مدد سے وہ کام کر لیتا ہے، جو اکثر حالات میں بندۂ قوی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ مگر اس کی ایک شرط ہے۔ کہ بندۂ ضعیف کے اندر تواضع (modesty) کی صفت پائی جاتی ہو۔
Modern Hospital, Centre of New Hope ماڈرن ہاسپٹل کیا ہے۔ انسانی جسم، اور اس کے فنکشن کو سمجھنے کا مقام ہے۔ سائنس کی بنیاد پر انسانی جسم کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ پہلے زمانے میں علاج کا تصور سینہ بسینہ منتقل ہونے والے روایتی علاج پر قائم تھا۔ سائنس نے میڈیکل دنیا میں یہ تصور دیا کہ ماڈرن میڈیکل ٹکنالوجی کے ذریعے جسمانی فنکشن کا مشاہدہ کر کے اس کا علاج کیا جائے :
Medical science covers many subjects which try to explain how the human body works. Starting with basic biology it is generally divided into areas of specialisation such as anatomy, physiology and pathology with some biochemistry, microbiology, molecular biology and genetics. انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو جاتا ہے۔ کاؤنٹ ڈاؤن کی تکمیل پر انسان کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ کاؤنٹ ڈاؤن کی اس مدت کو اچھی طرح مینٹین (maintain) کرے، تاکہ وہ زیادہ مدت تک اپنے آپ کو قابلِ کار جدید اسپتال اسی انسانی انجینئرنگ کا سینٹر ہے۔ لیکن یہ سینٹر خواہ کتنا ہی اچھی طرح عمل کرے، اس کے ساتھ یہ ضروری ہوتا ہے کہ انسان کا خود اپنا عمل صحیح سمت میں جاری رہے، اگر انسان کے عمل اور خارجی میکنزم میں موافقت نہ رہے، تو اس بندوبست کا بہت جزئی فائدہ حاصل ہوگا۔ اس معاملے میں انسان کا خود اپنا رول یہ ہے کہ وہ ہیلتھ کے فطری قوانین کو سمجھے، اور اس کو بھر پور طور پر اپنی زندگی میں برقرار رکھے۔ اگر انسان اپنے حصے کا یہ کام نہ کرے تو خارجی انجینئرنگ اس کے لیے بہت کم مفید ثابت ہوگی۔ مثلاً انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں کوئی مضر عادت نہ اپنائے۔ کسی غیر ضروری چیز کا شائق نہ بن جائے۔ وہ ہمیشہ اپنی حد کو جانے، اور اپنی فطری حد کے اندر ہر کام انجام وہ اپنی زندگی میں بقدر ضرورت پر قانع رہے، نہ کہ زیادہ سے زیادہ (more and more) کا طالب بن جائے۔ وہ حرص کے بجائے قناعت کا طریقہ اختیار کرے۔