Al-Risala · January 2020

چہ حاجت کہ نہ کرسی آسمان

Al-Risala, January 2020, pp. 23–27

By Maulana Wahiduddin Khan

(اس کی کیا ضرورت ہے کہ تم آسمان کی نو کرسیوں کو قزل ارسلان بادشاہ کے پاؤں کے نیچے رکھو) مگر شیخ سعدی نے یہ شعر اس وقت کہا تھا جب کہ وہ زیادہ تر سیر وسیاحت میں مشغول رہتے تھے، اور آزادانہ زندگی گزارتے تھے۔ اس وقت وہ ہر چیز سے بے نیاز تھے۔ وہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے کہ کسی رئیس یا بادشاہ کی مدح خوانی کریں۔

جگہ سے کٹا ہوا ہو، اور اس کی جڑیں زمین سے نہ کٹی ہوں تو یہ پودا اپنی جگہ پر مستقل سا ہو جاتا ہے، اس کا دڑ مگر بعد کے زمانہ میں انھوں نے شیراز میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ اس وقت دوسرے شاعروں کی طرح ان کے تعلقات بھی دربارِ شاہی سے ہو گئے۔ اس وقت وہ اپنے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چنانچہ انھوں نے بھی بادشاہوں کی مدح میں مبالغہ آمیز قصیدے لکھے۔ شیر از ، اتا بک ابو بکر بن سعد زنگی کی مدح میں وہ اپنے ایک قصیدہ میں کہتے ہیں : توئی سایۂ لطفِ حق بر زمیں پیمبر صفت رحمۃ للعالمیں (تم ہی زمین پر خدا کی مہربانی کا سایہ ہو، تم پیغمبر کی طرح دنیا والوں کے لیے رحمت ہو) اکثر انسان اپنے حالات کی پیدا وار ہوتے ہیں۔ اگر ان کے حالات بدل جائیں تو وہ خود بھی بدل جاتے ہیں۔

عبداللہ بن المبارک (وفات 181 ھ) کا ایک قول ہے: لَا يَزَالُ الْمَرْءُ عَالِماً مَا طَلَبَ الْعِلْمَ، فَإِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ عَلِمَ، فَقَدْ جَهِلَ (المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر (308) ۔ یعنی آدمی اس وقت تک عالم رہتا ہے جب تک وہ علم سیکھتا رہے۔ جب وہ گمان کرے کہ وہ عالم ہو گیا تو پھر وہ جاہل ہو گیا۔ عباس محمود العقاد کہا کرتے تھے کہ علم پڑھنے کا نام ہے۔ وہ بہت افسوس کرتے تھے کہ اکثر لکھنے والوں کا یہ حال ہے کہ وہ جتنا پڑھتے ہیں، اس سے زیادہ وہ لکھتے ہیں (العقاد كان يقول : العلم وكان ياسف ابلغ الاسف، لأن كثيرا من الكتاب يكتبون اكثر مما يقرأون )۔ رابطة العالم الاسلامی، رجب 1405 ھ ہندوستان کے دینی مدارس کے معلم یقیناً ایک اہم خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہ ایسی نسل کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں، جس سے دینی روایت کا تسلسل قائم ہے۔ اسی طرح یہ مدارس آزاد ہندوستان میں اردو کو زندہ رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، وغیرہ۔

مگر ہندوستان کے دینی مدرسوں میں جو ماحول ہے وہ معلمین کے فکری مستویٰ کو بلند نہیں

مثال کے طور پر ان مدارس میں استاد اور شاگرد کا رشتہ صرف معلم اور معلم (متعلم) کا یعنی ایک بتانے والا ہے اور دوسرا سننے والا۔ اس کی وجہ سے معلمین کا مزاج ایسا بن جاتا ہے کہ وہ اپنے ذہن سے باہر کی حقیقتوں کو سمجھ نہیں پاتے۔ طلبہ کے سامنے ان کی حیثیت یہ ہوتی ہے کہ انھیں سیکھنا نہیں ہے، بلکہ سکھانا ہے۔ اس سے ان کا ذہن جمود (stagnation) کا شکار ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ جاننا یا دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرنا، یہ سب باتیں ان کے مزاج سے خارج ہو جاتی ہیں۔

اس کے برعکس مغرب میں تعلیم کا تصور بالکل دوسرا ہے۔ مغرب میں استاد اور شاگرد کے درمیان معلم اور معلم کا تعلق نہیں، بلکہ رفیق کا تعلق ہے۔ ان کے نزدیک تعلیم ایک مشترک سفر ہے، جس کو استاد اور شاگرد دونوں مل کر انجام دیتے ہیں۔ اس طرح کے ماحول میں انسان کا ذہن یہ بنتا ہے کہ اس کو اگر کچھ دینا ہے، تو اسی کو دوسرے سے کچھ لینا بھی ہے۔ وہ اگر کچھ باتیں جانتا ہے تو دوسرے بھی کچھ باتوں کو جانتے ہیں جن کو اسے دوسرے سے لینا چاہیے۔

مغرب کے تعلیمی نظام میں معلم کے اندر ذہنی جمود پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے اندر یہ صلاحیت زندہ رہتی ہے کہ وہ اپنے سے باہر کی حقیقتوں کو سمجھے، اور ان سے فائدہ اٹھائے۔ اس کے برعکس ہمارے دینی مدارس کا ماحول، مذکورہ سبب سے، جامد ذہنیت پیدا کرنے کا کارخانہ بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان مدارس کے ذریعہ تحفظ دین کا کام تو کسی درجہ میں ہوا، مگر احیائے دین کا کام ان مدارس کے ذریعہ مطلق نہ ہو سکا۔

ایک مقالہ پڑھا جس کا عنوان ہے: میں اور انسانیت۔ مقالہ ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے: "اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے قدموں سے لپٹنے کے لیے بے چین و بے قرار نظر آیا۔ پہاڑوں نے اپنے سینے کشادہ کر دیے۔ دریا کی گہرائیاں پایا۔ بے قرار سمندر اس کے لیے خود ساحل بنانے لگے۔ آفتاب نے اس کی عظمت و

بزرگی کے اعتراف میں اپنی روشنی پیش کر دی کہ یہ انسان عظیم ہے۔ مقالہ اسی قسم کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے، اور اسی قسم کے الفاظ پر ختم ہو جاتا ہے۔ زمانہ میں اردو کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ اس کے اوپر شاعری کا غلبہ رہا۔ چنانچہ نہ صرف نظم میں شاعری کی گئی، بلکہ نثر میں بھی یہی انداز جاری رہا۔ خطیبوں نے اپنی خطابت میں بھی یہی انداز

اردو زبان میں یہ انداز اتنا زیادہ عام ہوا کہ زبان اور اس کے اسالیب اسی انداز میں ڈھل گئے، شاعرانہ انداز اظہار اردو پر بالکل چھا گیا۔ چنانچہ اب یہ حال ہے کہ اگر کسی خیال کو سادہ طور پر ادا کرنا چاہیں تو اردو میں اس کے لیے الفاظ نہیں ملتے۔ سائنٹفک اسلوب سادہ اسلوب ہے ۔ حقیقت نگاری کا دوسرا نام ہے۔ مگر اردو اپنے شاعرانہ انداز کی وجہ سے اس کے بالکل نااہل ہوگئی کہ اس میں کسی بات کو سائنٹفک انداز سے بیان کیا جا سکے۔

1973 کا واقعہ ہے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کی لڑائی میں فلسطینیوں کا کافی نقصان ہوا تھا، اور مسلمانوں میں غم وغصہ کا ماحول تھا۔ 19 اکتوبر 1973 کو جمعیۃ علماء کے زیر اہتمام دہلی میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ یہ جلوس جامع مسجد سے شروع ہو کر امریکی سفارت خانہ پر ختم ہوا۔ کے مسلمانوں کے علاوہ اطراف کے شہروں کے مسلمان بھی بڑی تعداد میں آ کر اس میں شامل میں بھی الجمعیۃ ویکلی کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اس جلوس میں شریک تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ نئی دہلی میں واقع امریکی سفارت خانہ کے گیٹ پر جمع ہو گئے۔ لوگ اس قدر جوش میں تھے گویا کہ وہ گیٹ کو توڑ کر سفارت خانہ کے اندر داخل ہو جائیں گے۔ وہاں پولیس کا کافی انتظام تھا، اس لیے لوگ اندر داخل نہ ہو سکے۔

مولانا سید احمد ہاشمی صاحب (وفات (2001) نے ایک ٹرک پر کھڑے ہو کر تقریر کی ۔ نے اپنی تقریر میں جوش وجذبہ کا مظاہرہ کرنے کے بعد آخر میں کہا کہ اس وقت فلسطینی عربوں کو سب

سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ خون ہے۔ ہزاروں لوگ زخمی ہو کر اسپتالوں میں پڑے ہوئے ان کی صحت کے لیے انھیں فوری طور پر خون پہنچانا بہت ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں ایک رجسٹر رکھا گیا ہے۔ آپ میں سے جو لوگ خون دینا چاہیں، وہ رجسٹر میں اپنا نام لکھوادیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ابھی فوراً خون نہیں لیا جائے گا، ابھی صرف نام اور پتہ لکھا جائے گا۔ نام لکھوائیں گے، ان کی فہرست یہاں ہم عرب سفارت خانہ میں دے دیں گے۔ اس کے بعد ان کے مطالبہ کے مطابق آپ حضرات کو خون دینے کے لیے بلایا جائے گا۔

مقرر نے اپنے اس اعلان کو بار بار دہرایا، اور ان کو نام لکھوانے پر ابھارا۔ مگر غالباً ہزاروں کے مجمع میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں تھا، جس نے رجسٹر میں اپنا نام لکھوایا ہو۔ امریکی سفارت خانہ کے خلاف جوش و خروش کا مظاہرہ کرنے والے اس وقت بالکل ٹھنڈے ہو گئے، جب انھیں اپنا خون دینے کے لیے پکارا گیا۔ ایک ایک شخص خاموشی کے ساتھ اپنے گھر کی طرف واپس چلا گیا۔ نصف صدی پہلے امیر شکیب ارسلان (1946-1869) نے ایک عربی کتاب لکھی تھی، جو مندرجہ ذیل نام سے چھپی تھی :

Printed page