Al-Risala · August 2020

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم

Al-Risala, August 2020, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر تھے۔ وہ 570 عیسوی میں قدیم مکہ میں پیدا ہوئے۔ 610 عیسوی میں اُن کو خدا کی طرف سے پہلی وحی ملی۔ اس کے بعد انھوں نے مکہ میں اپنا مشن شروع کر دیا۔ وہ 13 سال مکہ میں رہے۔ اس کے بعد 622 عیسوی میں وہ عرب کے دوسرے شہر مدینہ چلے گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے مشن کو مزید 10 سال تک جاری رکھا۔ 632 عیسوی میں اُن کی وفات ہو ئی۔ ان کی قبر مدینہ میں اب بھی موجود ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن توحید تھا، یعنی خدا کو ایک ماننا، اور ایک ہی خدا کی جب پیغمبر اسلام نے لوگوں کو توحید کا یہ پیغام دینا شروع کیا، اُس وقت مکہ کی مسجد کعبہ میں 360 بُت موجود تھے، لیکن آپ نے بتوں کی موجودگی کے مسئلے سے اعراض کیا، اور بتوں کی زیارت کے لیے آنے والوں کے درمیان اپنا مشن جاری رکھا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر شروع میں خدا کی طرف سے جو تعلیمات اتریں، اُن میں سے ایک تعلیم یہ تھی کہ نزاعی مسئلوں پر صبر کرتے ہوئے پُر امن انداز میں اپنا پیغام لوگوں کو پہنچاتے رہو (المدثر، 74:7)۔ آپ نے اسی اصول پر عمل کیا۔ آپ کی کوشش کا نشانہ انسان کی سوچ کو بدلنا کیوں کہ انسان کی سوچ اگر بدل جائے تو اس کی پوری زندگی بدل جاتی ہے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی اور اُن کی تمام تعلیمات اور واقعات آج بھی پوری طرح محفوظ ہیں۔ بھی شخص اُن کا مطالعہ کر کے خالص تاریخی معیار پر آپ کی شخصیت اور آپ کی تعلیمات کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ آپ کی حیثیت پورے معنوں میں ایک تاریخی پیغمبر کی ہے۔ پیغمبر اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ خود آپ کے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے— خدا سے ڈرنا، اور اچھے اخلاق کے ساتھ دنیا میں رہنا (تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلُق) جامع الترمذی، حدیث نمبر 2004۔ خدا سے ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خدا کے سامنے جواب دہ

وہ خدا کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنائے۔ اس کی پوری زندگی خدا رخی زندگی (God-oriented life) بن جائے۔

اچھے اخلاق کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دو معیار دیے ہیں۔ کا اعلیٰ معیار یہ ہے کہ انسان، سماج کے اندر اس طرح رہے کہ اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچے۔ سماج کا ایک دینے والا ممبر (giver member) بن جائے۔ اچھے اخلاق کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ آدمی اپنے سماج میں بے مسئلہ انسان (no-problem person) بن کر رہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2518)۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تم لوگ امّعہ نہ بنو، یعنی یہ کہنے لگو کہ لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے، اور لوگ بُرا سلوک کریں گے، تو ہم بھی اُن کے ساتھ ظلم کریں گے۔ اس کے برعکس تم اپنے اندر یہ مزاج پیدا کرو کہ لوگ اچھا سلوک کریں، تب بھی تم اچھا سلوک کرو، اور لوگ بُرا سلوک کریں، تو تم اُن کے ساتھ ظلم نہ کرو (إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا) جامع الترمذی، حدیث نمبر 2007۔

اس اصول کا تعلق صرف انفرادی کردار سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اجتماعی کردار سے بھی یہی اصول ایک خاندان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ یہی اصول ایک سماج کے لیے بھی ضروری ہے۔ یہی اصول ایک قوم کو اپنی قومی پالیسی کے لیے بھی رہنما اصول کی حیثیت سے اپنانا ہے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ماڈل کی حیثیت دی گئی ہے (الأحزاب، یہ بات ہر اعتبار سے درست ہے، اور وہ سارے انسانوں کے لیے ہے۔ تمام انسانوں کی یہ ایک ضرورت ہے کہ ان کے پاس سچائی کے لیے ایک عملی ماڈل ہو۔ پیغمبر اسلام کی زندگی اس اعتبار سے ایک تاریخی ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو آدمی بھی یہ چاہتا ہو کہ وہ اپنی زندگی میں خدا کے پسندیدہ طریق حیات کو اختیار کرے، اُس کو چاہیے کہ وہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ کرے۔ وہ آپ کی زندگی سے خدا کے پسندیدہ نمونے کو جانے اور اپنی پوری زندگی میں اس کی پیروی کرے۔

Printed page