Al-Risala · August 2020

دین اسلام

Al-Risala, August 2020, pp. 23–24

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام عربی زبان کا ایک لفظ ہے۔ اُس کا لفظی مطلب سرینڈر کرنا (to surrender) ہے۔ اس سے اسلام کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ اسلام کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں اپنے اختیار سے خدا کی اطاعت کرنے والا بن کر رہے، وہ اپنے آپ کو خدا کے حکموں کا تابع بنالے۔ انسان کو اس دنیا میں پوری آزادی ملی ہوئی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ جو چاہے کرے، اور جو چاہے نہ کرے۔ یہ آزادی جو انسان کو ملی ہے، وہ کسی حق یا انعام کے طور پر نہیں ملی ہے، بلکہ وہ صرف امتحان کے لیے ہے۔ اس دنیا میں انسان کے لیے صرف ایک ہی انتخاب (choice) ہے، اور وہ یہ کہ وہ اپنی آزادی کو خدائی احکام کے دائرے میں استعمال کرے۔ اسلام کے مطابق ، انسان کی زندگی دو مرحلوں میں تقسیم ہے۔ موت سے پہلے کا مرحلہ، اور موت کے بعد کا مرحلہ۔ موت سے پہلے کا مرحلہ عارضی ہے، اور موت کے بعد کا مرحلہ مستقل۔ کے موجودہ مرحلے میں انسان جس طرح عمل کرے گا، اُسی کے مطابق، اگلے دور حیات میں وہ اس کا صلہ پائے گا۔ اچھا عمل کرنے والوں کے لیے اگلے دور حیات میں انعام ہے، اور بُرا عمل کرنے والوں کے لیے اگلے دور حیات میں سزا۔

اسلام کی ایک لمبی تاریخ ہے جو اس کے آغاز کے بعد بنی۔ لیکن اسلام کیا ہے، اس کو جاننے کا ماخذ تاریخ نہیں ہے، بلکہ اسلام کا اسکرپچر (scripture) ہے، یعنی قرآن، اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات۔ جس آدمی کو جاننا ہو کہ اسلامی مذہب کیا ہے، اس کو براہ راست قرآن اور حدیث رسول کو دیکھنا چاہیے۔ اس کے بغیر وہ اسلام پر صحیح رائے قائم نہیں کرسکتا۔ اسلام کوئی نسلی مذہب نہیں ہے۔ تمام انسان یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ لوگوں کی نجات کا فیصلہ اس پر نہیں کیا جائے گا کہ وہ پیدائشی طور پر کس نسل سے تعلق رکھتا ہے، بلکہ اس پر کیا جائے گا کہ اسلام کے بتائے ہوئے اصولی معیار پر کون شخص پورا اترا، اور کون شخص پورا نہیں اترا۔

اسلام کا مذہب خدا کے تصور پر قائم ہے۔ اسلام میں خدا مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری چیزیں خدا کے عقیدے سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ اسلامی عقیدے کی بنیاد خدا کے تصور پر ہے۔ بقیہ تمام چیزیں خدا کے تصور کا حصہ ہیں ، نہ کہ اس سے الگ یا مستقل حصہ۔ اسلام میں خدا کا تصور وحدتِ وجود (monism) کے تصور پر مبنی نہیں ہے ، بلکہ وہ توحید (monotheism) کے تصور پر مبنی ہے۔ وحدتِ وجود کے تصور میں تمام چیزیں خدا کا حصہ ہیں ، مگر توحید کے تصور میں ایسا نہیں ہے۔ توحید کے تصور میں ، خدا خالق ہے ، اور بقیہ تمام دوسری چیزیں اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق ہیں۔ خدا اپنی ذات میں ایک علاحدہ اور مستقل وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ تمام چیزوں کا نہ صرف خالق ہے ، بلکہ وہ ان کا رب اور مالک بھی ہے۔

اسلام کے تصور کے مطابق ، انسان اور خدا کے درمیان تعلق قائم کرنے کے لیے کسی تیسرے وسیلے کی ضرورت نہیں۔ ہر انسان براہ راست طور پر خدا سے تعلق قائم کر سکتا ہے۔ ہر انسان اپنی انفرادی حیثیت میں خدا کو دریافت کر سکتا ہے۔ ہر انسان اپنی انفرادی حیثیت میں خدا کا عبادت گزار بن سکتا ہے۔ ہر انسان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ براہ راست طور پر خدا سے تعلق قائم کر سکے۔ اسلام کی حیثیت ایک کلچر یا ٹریڈیشن (tradition) کی نہیں ہے۔ اسلام کسی سماج کا ظاہرہ بھی نہیں ہے ، بلکہ اسلام ایک الہامی مذہب (revealed religion) ہے۔ وہ خدا کی طرف سے تمام انسانوں کے لیے ایک ہدایت نامہ ہے۔ اسلام اُسی طرح ہر انسان کی ضرورت ہے ، جس طرح سورج کی روشنی ہر انسان کی ایک ضرورت ہے۔ اسلام کسی کمیونٹی کا کلچر نہیں ، اسلام ہر انسان کی تلاشِ حق کا جواب ہے۔

اسلام کے مطابق ، سچا مسلم وہ ہے جو اپنے دل اور اپنے دماغ کی تبدیلی کے ذریعے مسلم اس لیے اسلام میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں۔ اسلام از اول تا آخر امن کا مذہب ہے۔ تعلیم یہ ہے کہ اپنے مقصد کو پر امن طریقِ کار کے ذریعے حاصل کرو، اور اگر امن کا طریقہ حصولِ مقصد میں مؤثر نہ ہو، تو صبر کرتے ہوئے اپنی ذاتی ذمے داریوں کو ادا کرتے رہو۔

Printed page