انسان کا جسم
Al-Risala, August 2020, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑھاپا کیا ہے۔ آدمی کے اعضاء میں کمزوری پیدا ہو جائے۔ اعضا میں اپنا عمل کرنے کی طاقت کم ہو جائے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے جسم کے اندر بہت سے یہ آرگن جسم کی پوری مشین کو چلاتے ہیں۔ ان میں سے وائٹل آرگنز (vital organs) وہ یہ ہیں۔ برین، ہارٹ، کڈنی، لیور، اور لنگس۔ انھیں آرگن کے فنکشن پر سارے جسم کی کارکردگی منحصر ہوتی ہے۔ موت یہ ہے کہ انسان کے آرگنز اپنا عمل کرنا بند کر دیں۔ اس کو میڈیکل سائنس کی زبان میں ملٹی آرگن فیلیر (multi-organ failure) کہا جاتا ہے۔ آرگن کے فنکشن کا جاری رہنا، یا اس کے فنکشن کا بند ہو جانا، حیرت انگیز واقعہ ہے۔ انسان کی مرضی سے تعلق نہیں، وہ تخلیقی نظام کے تحت مسلسل طور پر اپنا عمل جاری رکھتے ہیں، اور جب ان کا عمل جاری نہ رہے، تو اسی کا نام موت ہے۔ اس معاملے کو قرآن میں تنکیس خلقت کہا گیا ہے آرگن کا فنکشن ایک خود کار عمل ہے۔ انسان نہ اس کے بقا پر کوئی قدرت رکھتا ہے، اور نہ اس کے خاتمے پر۔ انسانی جسم میں آرگن کی موجودگی، اور ان کا عمل انسان کے لیے ایک ناقابل توجیہہ نعمت کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ انسان کے لیے شکر خداوندی کا بہت بڑا آئٹم ہے۔ یہ ایک ایسی عظیم نعمت ہے، جس کی تخلیق پر انسان قادر نہیں، اور نہ ان کی صحت اور بقا پر قادر ہے۔ یہ انسان کے لیے ایک ایسی نعمت ہے، جو یک طرفہ عطیے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ آرگن انسان کے جسم میں کیسے وجود میں آتے ہیں۔ کیسے وہ خود کار مشین کی طرح اپنا کام کرتے رہتے ہیں، اور پھر انسان کی مرضی کے بغیر ان کا جزئی یا کلی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یہ سب چیزیں تخلیق کے اسرار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انسان اس نعمت پر جتنا زیادہ غور کرے، اتنا ہی اس کے تعلق باللہ میں اضافہ ہوتا ہے۔
برٹش شاعر والٹر (Walter de la Mare) کا واقعہ ہے۔ وہ ایک مرتبہ کھانے کی میز پر
بیٹھا ہوا تھا۔ گھر کے کئی افراد کھانے پینے میں مشغول تھے۔ ان میں ایک لڑکی بھی تھی۔ شاعر اس لڑکی کو اس نے دیکھا کہ وہ فوڈ آئٹم لیتی ہے، اور اس کو کھاتی ہے۔ وہ سوچنے لگا کہ یہ کھانا، جو لڑکی کھا رہی ہے، وہ کھانا جسم میں پہنچ کر خون اور گوشت اور ہڈی کی شکل میں ڈھل جاتا ہے۔ کر اس نے شعر کہا:
It's a very odd thing/As odd can be/That whatever Miss T eats/Turns into Miss T. کھانا کھانے کے بعد انسان کے جسم میں کیسا حیرت انگیز واقعہ پیش آتا ہے، یعنی کھانا اور پانی جسم کے اندر انسان کی شخصیت کی صورت میں ڈھل جاتا ہے۔
انسان جو غذا اپنے جسم میں داخل کرتا ہے، وہ ایک پیچیدہ نظام کے تحت خون میں تبدیل ہوتی خون کا بننا، خون کا مسلسل گردش کرنا اور خون کی صفائی کا انتظام، وغیرہ۔ یہ ایک معجزاتی واقعہ ہے، جو ہر دن ہر انسان کے جسم میں پیش آتا ہے۔ یہ معجزاتی واقعہ کیسے وقوع میں آتا ہے۔ لیے قدرت نے انسان کے جسم میں تقریباً ایک سو حیرت انگیز عامل بنائے ہیں، جن کو آرگرز (organs) کہا جاتا ہے۔ یہ آرگن ایک خود کار مشین کی طرح رات دن کام کرتے ہیں۔ انسان نہ ان کو حرکت میں لا سکتا ہے، اور نہ وہ ان کی حرکت کو بند کر سکتا۔ میڈیکل سائنس میں اسی نظام کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ میڈیکل سائنس کے مطابق جسم کا یہ نظام جو مسلسل طور پر انسان کے اندر عمل کرتا ہے، یہ بہت ہی حیرت انگیز معاملہ ہے۔
اسپتال میں انسانی جسم کے میکنزم مطالعہ کیا جاتا ہے، اور یہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کیسے یہ زندہ مشین مسلسل حرکت کرتی ہے۔ اس مطالعے میں جب کوئی بگاڑ دکھائی دیتا ہے تو ڈاکٹر کوشش کرتے ہیں کہ اس جسمانی بگاڑ کو خارجی ٹریٹمنٹ کے ذریعے دوبارہ فطری حالت پر واپس لایا جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ سارا جسمانی نظام خالق کا ایک حیرت انگیز عطیہ ہے۔ انسان اگر اس کے بارے میں سنجیدہ ہو کر سوچے تو وہ اپنے خالق کا اتنا زیادہ شکر گزار بن جائے کہ خالق کے شکر کے سوا کوئی اور چیز اس کو یاد نہ رہے۔