Where the mind is without fear
Al-Risala, August 2020, pp. 28–31
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی جہاں انسان بے خوف ہو کر زندگی گزارے۔ مگر یہ تصور مطلق معنی میں درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مائنڈ کو خوف والا ہونا چاہیے۔ بے خوف مائنڈ بے پروائی کی زندگی گزارتا ہے، ایسا انسان تواضع کی صفت سے خالی ہوتا ہے، وہ ایک دوسرے سے لڑتا جھگڑتا رہتا ہے۔ انجام سے بے خبر ہو کر ہر کام کرتا ہے۔ اس کو نتیجے کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، خوف انسان کو اس کی اپنی آزادی کے مس یوز (misuse) سے روکتا وہ مائنڈ کو متحرک کرتا ہے تاکہ مائنڈ مسائل میں الجھنے کے بجائے مواقع کو تلاش کرے۔ انسان کا سب سے اچھا استاد ہے، جو مائنڈ کو الائیو (alive) رکھتا ہے۔ جو انسان کو تجربہ سکھاتا انسان خوف کی حالت میں سنجیدگی کے ساتھ پلاننگ کرتا ہے۔ ایسا انسان کچھ کرنے سے پہلے سوچتا ہے، اس کے بعد وہ کوئی قدم اٹھاتا ہے۔ خوف کی صورتِ حال اپنی حقیقت کے اعتبار سے انسان کے لیے ایک چیلنج کی صورت حال ہے۔
آدمی سے یہ مطلوب ہے کہ وہ چیلنج کے درمیان مواقع کو تلاش کرنا سیکھے، وہ چیلنج کو پینچ (manage) کر کے اپنی دنیا بنائے۔ ایسا اس لیے ہے تا کہ انسان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی عقل کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرے، وہ اپنی شخصیت کو زیادہ سے زیادہ ترقی یافتہ بنائے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے۔ میں ایک چڑیا خانہ (zoo) دیکھنے کے لیے گیا۔ یہ چڑیا خانہ غالباً یوپی کے کسی شہر میں واقع تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک بڑا سا گھیر ا (enclosure) ہے۔
کے اندر کچھ ہرن بیٹھے ہوئے تھے۔ چڑیا خانے کے نگراں نے کہا کہ ان ہرنوں کو دیکھیے۔ خوفی کی حالت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ بے خوفی کی حالت ان کے لیے اچھی نہیں ہے۔ اگر وہ دیر تک بے خوفی کی حالت میں رہیں تو وہ اپنی تولیدی (fertility) صلاحیت کھو دیں گے۔ اس لیے ہم کبھی کبھی ایسا کرتے ہیں کہ اس گھیرے (enclosure) کے اندر بھیڑیا ڈال دیتے ہیں۔ کے لیے ایک خوفناک جانور ہے۔ چنانچہ ہرن جب بھیڑیا دیکھتا ہے، تو وہ فوراً گھیرے کے اندر دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ بھیڑیا ہرن کو دوڑاتا ہے، اور ہرن بھیڑیا سے بچنے کے لیے تیزی سے دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ گویا جنگل والی حالت کو چڑیا گھر میں مصنوعی طور پر پیدا کرنا ہے۔ دھوپ کے نتیجے میں ہرن کی تولیدی صلاحیت لوٹ آتی ہے۔ ہرن دوبارہ اس قابل ہو جاتے ہیں کہ وہ بچے پیدا کریں۔ وہ جنگلی زندگی والے اوصاف کو دوبارہ اپنے اندر پیدا کر لیں۔ یہ فطرت کا نظام ہے۔ فطرت کا نظام انسان کے لیے بھی مطلوب ہے۔ انسان کی زندگی میں جب ٹھہراؤ آجاتا ہے تو فطری نظام کے تحت انسان کے اندر ڈر کی حالت (challenge) پیدا کی یہ ڈر کی حالت یا چیلنج کی حالت انسان کی تخلیقیت (creativity) کو بڑھاتی ہے۔ کی وجہ سے غیر تخلیقی گروہ (non-creative group) تخلیقی گروہ (creative group) بن یہی وہ فطری حقیقت ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ (2:249)۔ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان ناموافق صورت حال میں صابرانہ طریقہ، یعنی حکیمانہ منصوبہ بندی کا طریقہ اپنائے تو بظاہر کم ہونے کے باوجود وہ زیادہ کے اوپر غالب آجائے گا۔
خوف محض ایک منفی چیز نہیں وہ ایک بصیرت ہے، جو آدمی کے ذہن کو اس طرح روشن کر دیتا ہے کہ وہ ہر چیز کو اس کے اصلی اور حقیقی (as it is) روپ میں دیکھ سکے۔ خوف یا چیلنج کسی انسانی گروہ کو تخلیقی گروہ بناتا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں یہ اذن اللہ، یعنی فطرت کا نظام ہے۔
کا نظام بظاہر خوف کی بات ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ امید کی بات ہے۔ چاہیے کہ جب کسی گروہ کے اندر ایسی حالت پیدا ہو، تو وہ اس کو فطرت کا تحفہ سمجھے۔ وہ اس کو بطور موقع (opportunity) اویل(avail) کرے ۔ اس طرح غیر تخلیقی گروہ تخلیقی گروہ بن جائے گا۔ برٹش مورخ آرنلڈ ٹائن بی (1975-1889) نے 12 جلدوں میں ایک ضخیم کتاب لکھی اس کتاب کا نام اسٹڈی آف ہسٹری (A Study of History) ہے۔ اس کتاب میں اس نے پوری دنیا کی 19 عظیم تہذیبوں کا جائزہ لیا ہے۔ اس جائزے میں اس نے بتایا ہے کہ تاریخ میں فطرت کا ایک نظام قائم ہے۔ جس کو اس نے چیلنج ۔ رسپانس میکانزم کا نام دیا ہے۔ کے تحت ایک چیلنج پیش آتا ہے۔ اس کے بعد قوم کے اندر ہلچل پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہلچل قوم کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔ یہاں تک کہ غیر ترقی یافتہ قوم ترقی یافتہ قوم بن جاتی ہے۔ یہ عمل پوری تاریخ میں جاری رہا ہے۔
موجودہ زمانے میں اس واقعے کی ایک مثال جاپان ہے۔ جاپان ایک کم ترقی یافتہ قوم بنی پھر ایسے حالات پیدا ہوئے کہ سیکنڈ ورلڈ وار میں اس پر دو ایٹم بم گرا دیے گئے ۔ واقعے کے بعد جاپان کی پوری قوم متحرک ہوگئی ۔ جاپان کے اندر ترقیاتی سرگرمی کا عمل جاری ہو گیا۔ میں نے خود اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ جاپان کی صنعت کھلونا بنانے والی صنعت بنی ہوئی جاپان میں بڑی ترقیاں نہیں ہو رہی تھی۔ اس کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ امریکا نے جاپان کے دو شہروں، ہیروشیما اور ناگاساکی پر 1945 میں دو ایٹم بم گرا دیے ۔ اس سے جاپان کے شہر برباد ہوگئے ۔ جاپان کی صنعت کو غیر معمولی نقصان پہنچا۔ یہ ایک دھماکہ خیز عمل تھا۔ مگر اس دھما کہ خیز عمل نے پوری جاپانی قوم کو جگا دیا ۔ اس وقت جاپان کے اوپر ہیروہینو(Hirohito) کی حکومت ہیرو ہیٹو بہت پڑھا لکھا آدمی تھا۔ اس نے اس واقعے سے منفی سبق نہیں لیا، بلکہ اس سے مثبت سبق حاصل کیا۔ جنگ عظیم کے بعد 10 اگست 1945 کو ریڈیو پر اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ہم ایک نا قابل برداشت صورت حال سے دو چار ہیں۔ لیکن ہم کو اس نا قابل برداشت
صرتِ حال کو برداشت کرنا ہے:
The time has come when we must bear the unbearable. ہیرو و ہیٹو کی بات کا مطلب یہ تھا کہ وقتی طور پر ہمیں ایک ناموافق صورتِ حال کو برداشت کرنا ہے تاکہ ہم جاپان کی اگلی نسلوں کو ترقی یافتہ قوم بناسکیں ۔
دھماکہ خیز واقعات ہمیشہ چیلنج ہوتے ہیں، وہ اس لیے آتے ہیں کہ قوم کے اندر ہلچل پیدا کریں، وہ غیر زندہ قوم کو زندہ قوم بنا دیں۔ چیلنج کیا ہے۔ چیلنج کا لفظ مسئلہ (problem) کے لفظ سے مسئلہ ایک منفی لفظ ہے، جب کہ چیلنج ایک مثبت لفظ ہے۔ چیلنج نسبتاً ایک نیا لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہے — ایک نیا یا مشکل مسئلہ جو کہ آدمی کے لیے اس کی استعداد کا امتحان ہوتا ہے: A new or difficult task that tests somebody's ability and skill. جب بھی کوئی چیلنج سامنے آتا ہے تو اس میں مسائل (problems) کے ساتھ نئے امکانات (opportunities) بھی موجود ہوتے ہیں۔ چیلنج کارسپانس دینے کی دو صورتیں ہیں۔ (negative response)، پازیٹیور سپانس (positive response)۔ نیگیٹیور سپانس یہ ہے کہ آدمی کو جب کسی چیلنج کا سامنا ہو تو وہ منفی ردعمل کا شکار ہو جائے، اور چیلنج کی حالت کو خوف اور سازش کے اعتبار سے دیکھنے لگے۔ اس کے برعکس، پازیٹیور سپانس یہ ہے کہ انسان چیلنج پیش آنے پر نفرت اور شکایت کی نفسیات کا شکار نہ ہو، بلکہ صورتِ حال کا مطالعہ کرکے اس میں موجود مواقع کو دریافت کرے، اور اس کو اویل کرنے کی کوشش کرے ۔
فرد کی ترقی یا سماج کی ترقی کا راز یہ ہے کہ فطرت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا اگر فرد یا سماج کی سرگرمیوں میں منفی نفسیات کے تحت مداخلت نہ کی جائے تو فرد اور سماج دونوں چیلنج ۔ رسپانس (challenge-response) کے پراس کے تحت اپنے آپ بھر پور طور پر ترقی کرتے ہیں۔ عقل مند انسان وہ ہے، جو مسائل میں الجھ کر وقت ضائع کرنے کے بجائے امکان تلاش کرے، اور اس کو اویل (avail) کرے ۔