غیر حقیقت پسندانہ رہنمائی
Al-Risala, August 2020, pp. 35–36
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب کا مضمون پڑھا، اس کا پہلا جملہ یہ تھا: مسائل تو اس امت کو ورثے میں ملے یہ پڑھ کر میں سوچنے لگا کہ قاری کو اس مضمون سے کیا ملے گا۔ مسلم قاری کا ذہن منفی ذہن بنے وہ سمجھے گا کہ میری زندگی مسائل سے گھری ہوئی ہے۔ اس سے اس کے اندر شکایتی ذہن پیدا ہوگا، جو بڑھ کر کے نفرت کا ذہن بن جائے گا۔ اب اگر اس کے حالات ٹکراؤ کے موافق ہیں، تو وہ ٹکراؤ شروع کر دے گا، اور اگر ایسا نہیں ہے تو قاری مستقل طور پر ڈبل اسٹینڈرڈ میں جینے لگے گا۔ زمانے سے نفرت کی سوچ کے ساتھ جئے گا۔ مگر عملاً وہ مصالحت کی زندگی گزارے گا۔ مسلم شعرا کے یہاں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً اقبال کا یہ شعر:
گفتند جهان ما آیا به تو سازد؟ گفتم که نمی سازد، گفتند که برهم زن یعنی اس نے کہا کہ میرا پیدا کردہ یہ جہاں تمہارے ساتھ سازگاری کر رہا ہے؟ میں نے جواب دیا نہیں، یہ سازگاری نہیں کر رہا، تو اس نے کہا کہ اسے درہم برہم کر دو۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا ذہن عام طور پر اسی قسم کا ہے۔ وہ منفی ذہن کے ساتھ جیتے ہیں، اور زمانے کے ساتھ ٹکراؤ کرنا چاہتے ہیں، لیکن عملاً زمانے کو ناساز پاکر ڈبل اسٹینڈرڈ کے تحت مصالحانہ زندگی اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے اندر کوئی ذہنی ارتقا نہیں ہوتا۔ کیوں ایسے لوگ ہمیشہ منفی ذہن کے ساتھ جیتے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی حالت موجودہ میں مواقع کو تلاش کرے۔ آدمی مسائل کو نظر انداز کرے، اور مواقع کو دریافت کر کے ان کی بنیاد پر اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔ مثلاً اگروہ دیکھے کہ اس کے ماحول میں ایک گروہ کور یز رویشن ملا ہوا ہے، جس سے تعلیم گاہوں میں اس کو بہ آسانی داخلے مل جاتے ہیں۔ اس کو بہ آسانی سروس حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ ان حالات کا مطالعہ کرے۔ اگر وہ غیر جانبدارانہ انداز میں مطالعہ کرے گا، تو وہ دریافت کرے گا کہ ریز رویشن ایک محدود دائرے میں عمل کرتا ہے۔ کے باہر تمام مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ وہ اگر ریز رویشن کے دائرے سے باہر جا کر محنت کرے، تو اس کو نئے نئے دائرے حاصل ہوں گے، جہاں وہ ریز رویشن کے بغیر بھی اچھے مواقع پاسکتا ہے۔ مثلاً میرے چھوٹے بھائی ایک کالج میں داخلے کے لیے گئے۔ وہ تاخیر کے ساتھ وہاں پہنچے جب کہ داخلے کا وقت نکل چکا تھا۔ پرنسپل کو جب معلوم ہوا کہ طالب علم تاخیر کے ساتھ آیا ہے، تو اس نے فرض کر لیا کہ یہ تھرڈ کلاس کا طالب علم ہوگا، اسی لیے اس کو کہیں داخلہ نہیں ملا، تو اب وہ ہمارے ادارے میں آیا ہے۔ پھر گفتگو کے دوران پرنسپل نے پوچھا کہ تمھارے مارکس کتنے ہیں۔ طالب علم نے جواب دیا: سر، 85 پرسنٹ یہ سنتے ہی پرنسپل فوراً اس کے لیے ہمدرد بن گیا، اور اس کو اپنے کالج میں داخلہ دے دیا۔ طالب علم بعد کو فرسٹ کلاس میں پاس ہوا، اور اپنی بعد کی زندگی میں کامیاب رہا۔ کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی مواقع کو در یافت کرے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔