اینٹی سیلف انسان
Al-Risala, August 2020, pp. 37–38
By Maulana Wahiduddin Khan
آج کل ہر لکھنے والا اور بولنے والا مسلمان الفاظ کا جنگل بکھیر رہا ہے۔ ہر لکھنے اور بولنے والا مسلمان بے تکان لکھ رہا ہے، اور بول رہا ہے۔ لیکن اگر آپ ان کے کلام کو سنیں یا پڑھیں، تو تقریباً بلااستثنا آپ یہ پائیں گے کہ الفاظ کے اس جنگل میں آپ کے لیے کوئی ٹیک اوے نہ ہوگا۔ حتی کہ ان کا کلام صحافت کے سادہ تقاضوں سے بھی خالی ہوگا۔
اصل یہ ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک، وہ جو سوچتے ہیں، اور پھر بولتے ہیں۔ جن کی ہر بات احساسِ ذمے داری کا نتیجہ (outcome) ہوتی ہے۔ جن کا کلام ان کی پوری شخصیت کا ترجمان ہوتا ہے۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے، جن کے حافظے میں الفاظ کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔ وہ جب بولتے ہیں، تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کہ ان کا ذہن ایک ماہر ذہن ہے، جو سوچے بغیر بولے چلا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں ایک لمبی روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس میں بعد کے زمانے کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ اس حدیث کا ایک جزء یہ ہے: وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ : مَا أَعْقَلَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا أَجْلَدَهُ، وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6497، صحیح مسلم، حدیث نمبر 143)۔ یعنی ایک شخص کے متعلق کہا جائے گا کہ کتنا عقلمند ہے، کتنا بلند حوصلہ ہے اور کتنا بہادر ہے۔ حالانکہ اس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔ اس حدیث رسول میں ایمان نہ ہونے کا مطلب ہے، انسان کے دل کا خدا کے خوف سے خالی ہونا، جس کی وجہ سے انسان غیر سنجیدہ انداز میں بولتا یا لکھتا ہے۔
غالباً اس حدیث میں موجودہ زمانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے اسٹیج ایکٹوزم کا زمانہ ہے۔ جو آدمی اسٹیج پر عوام پسند بولی بول سکے، وہ اچانک مقبولیت حاصل کرلیتا اس کا ہر جگہ استقبال کیا جاتا ہے۔ لوگ اس کی باتوں کو شوق کے ساتھ سنتے ہیں، اور تالیاں
اس کو تیزی سے سستی مقبولیت (cheap popularity) حاصل ہو جاتی ہے۔ میڈیا میں نمایاں ہو جاتا ہے۔ خوبصورت الفاظ بولنا ہی اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے کہ وہ ہر جگہ سنا میڈیا میں اور اخبارات میں اس کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ مجلسوں میں اس کا چرچا ہوتا ہے، وغیرہ۔ اسٹیج کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان کے اندر وہ مزاج بن جاتا ہے، جس کو ایک ہندو مفکر نے باہری یاترا کا نام دیا تھا، یعنی سیلف تھنکنگ (self-thinking) کے بجائے اکسٹرنل تھنکنگ۔ انسان کو فطری طور پر مختلف صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ مثلاً پاؤں کے اندر چلنے کی صلاحیت، ہاتھ کے اندر پکڑنے کی صلاحیت، آنکھ کے اندر دیکھنے کی صلاحیت۔ کان کے اندر سننے کی صلاحیت، اسی طرح انسان کو عقل دی گئی ہے، جو سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انسان اپنی اس صلاحیت کو درست طور پر استعمال کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنے منصوبۂ تخلیق سے بے خبر رہتا ہے۔ وہ دوسروں کو اپنی باتیں سناتا رہتا ہے، لیکن خود اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو دریافت کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ دوسروں کو خوش کرنے والی بولی بولتے ہیں۔ انھیں اس کا وقت نہیں ملتا کہ وہ اپنے بارے میں سوچیں، اور اپنی ذات کے ارتقا کی فکر کریں۔
انسان کو جس دنیا میں جینا پڑتا ہے، وہ گویا ایک عالمی جنگل ہے، اس جنگل میں ہر جگہ حکمت و معرفت کا نیکٹر (nectar) چھپا ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ اللہ نے انسان کو خصوصی صلاحیت دی ہے، جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں دی۔ وہ بذریعہ عقل تدبر و تفکر کی صلاحیت ہے۔ تدبر کی صفت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ دنیا کے جنگل میں ڈسٹریکٹ (distract) نہ ہو۔ وہ غور و فکر کر کے حکمت و معرفت کے چھپے ہوئے نیکٹر کو دریافت کرے۔ جن لوگوں کے اندر تدبر کی صلاحیت ہوتی ہے، وہ شہد کی مکھی کی مانند انسانی تہذیب کے اس جنگل میں معرفت کا نیکٹر دریافت کرتے ہیں۔ ذریعے اپنے آپ کو وہ انسان بناتے ہیں، جس کو صاحب معرفت انسان (realized soul) کہا