Al-Risala · August 2020

اختلاف کے وقت

Al-Risala, August 2020, pp. 43–44

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلاف انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ مختلف اسباب سے لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا جس طرح عام لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہے، اسی طرح مخلص اور مومن کے درمیان بھی اختلاف پیش آتا ہے۔ اختلاف کے ہونے کو روکا نہیں جا سکتا۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اختلاف کے باوجود آدمی اپنے آپ کو صحیح رویہ پر قائم رکھے ۔ اختلاف پیش آنا بُرا نہیں، بُرا یہ ہے کہ اختلاف پیش آنے کے بعد آدمی دشمنی اور انتقام میں مبتلا ہو جائے۔

سچا انسان وہ ہے، جو اختلاف کو دشمنی کا مسئلہ نہ بنائے ۔ اختلاف کو اسی دائرے تک محدود

رکھے جہاں اختلاف پیدا ہوا ہے۔ ایک معاملے میں اختلاف کی وجہ سے کسی کو ہر معاملے میں غلط سمجھ لینا، ایک معاملے میں اختلاف پیش آنے کے بعد اس کو منافق، بد نیت اور غیر مخلص کہنے لگنا، یہ سراسر غیر خدائی طریقہ ہے۔

اختلاف پیش آنے پر تعلقات ختم کرنا صحیح نہیں۔ اختلافی مسئلے پر سنجیدہ بحث جاری رکھتے ہوئے باہمی تعلقات کو بدستور قائم رکھنا چاہیے۔ اختلاف والے شخص سے سلام و کلام بند کرنا یا اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دینا کسی بھی حال میں درست نہیں۔

موجودہ دنیا میں ہر چیز لرننگ کے لیے ہے۔ اسی طرح اختلاف بھی لرننگ کے لیے ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اختلاف سے کوئی نئی لرننگ حاصل کرے، نہ کہ کوئی ایسا غلط اقدام کرے، جو لرننگ کے خلاف ہو۔ اختلاف کے وقت انصاف پر قائم رہنا بلا شبہ ایک مشکل کام ہے۔ مگر وہ انسان ایک اعلیٰ انسان ہے، جو اختلاف اور نزاع کی صورت پیش آنے کے باوجود اپنے دل کو دشمنی اور انتقام کی نفسیات سے بچائے، اختلاف کے باوجود وہ انصاف کی روش پر قائم رہے۔

Printed page