Al-Risala · August 2020

عدم یکسانیت

Al-Risala, August 2020, pp. 44–46

By Maulana Wahiduddin Khan

خالق نے انسانی زندگی کو جس اصول پر بنایا ہے، اس میں یکسانیت (uniformity) نہیں ہے، بلکہ عدم یکسانیت (dis-uniformity) ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ یعنی انسان ایک سوچنے والی مخلوق ہے۔ مختلف انسانوں کی سوچ کبھی یکساں نہیں ہو سکتی۔ یہ فطرت کا تقاضا ہے کہ لوگوں کی سوچ میں یکسانیت (uniformity) نہ ہو۔ لیکن اس فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ بار بار ایک اور دوسرے کے درمیان اختلاف کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ وہ ہر جگہ اور ہمیشہ پایا جاتا ہے۔ کا مقصد یہ ہے کہ دو مختلف انسان اپنی مختلف صلاحیتوں کو متحدہ طور پر استعمال کرکے زیادہ مفید انداز میں سماجی زندگی کا حصہ بنیں۔ تاہم اس فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ بار بار ایک کو دوسرے سے ناخوش گواری کا تجربہ پیش آتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں، خواہ وہ گھر کے اندر کی ہو یا گھر کے باہر، اس طرح کی ناپسندیدہ صورت حال کا پیش آنا بالکل فطری ہے۔ اس کو رو کنا کسی حال میں ممکن نہیں۔

اب ایک طریقہ یہ ہے کہ ہر اختلاف سے ٹکراؤ کیا جائے۔ ہر ناخوش گواری سے براہ راست مقابلہ کرکے اس کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح کی کوشش غیر فطری ہے۔ کہ وہ مسئلہ کو صرف بڑھانے والی ہے، وہ ہرگز اس کو گھٹانے والی نہیں۔ ایسے مواقع پر قابلِ عمل اصول رواداری (tolerance) اور اعراض (avoidance) کا یہ دونوں اہم معاشرتی اصول اور اعلیٰ انسانی صفات ہیں۔ رواداری کا مطلب دوسروں کی رعایت کرنا ہے۔ اس کے مقابلے میں عدم رواداری یہ ہے کہ آدمی صرف اپنے آپ کو جانے، وہ دوسروں کے تقاضے سے بے خبر ہوجائے۔ رواداری ایک اعلیٰ انسانی اسپرٹ ہے۔ اس کو اسلام میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ رفق، تالیفِ قلب، شفقت علی الخلق، وغیرہ۔ سچا انسان وہ ہے، جو خود غرضی کے تحت پیش آنے والی تمام برائیوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ اپنی ذات میں جینے کے بجائے حقائق میں جینے لگتا ہے۔ ایسا انسان عین اپنے مزاج کے مطابق دوسروں کو محبت کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ دوسروں سے کسی چیز کا امیدوار نہیں ہوتا اس لیے دوسرے اگر اس سے اختلاف رکھیں یا اس کے ساتھ اچھا سلوک نہ کریں تب بھی وہ دوسروں کا خیر خواہ بنا تب بھی وہ دوسروں کی رعایت کرتا ہے۔ تب بھی وہ دوسروں کے ساتھ اپنے روادارانہ سلوک کو باقی رکھتا ہے۔

رواداری یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں دوسرے کی عزت کرے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس وہ ہر حال میں دوسرے کو اعلیٰ انسانی درجہ دے، خواہ وہ اس کا اپنا ہو یا غیر۔ کے کیس کو ہر حال میں ہمدردی کا کیس سمجھے۔ خواہ دوسرے کی طرف سے بظاہر غیر ہمدردانہ سلوک کا اظہار کیوں نہ ہوا ہو۔

رواداری کا مطلب دراصل دوسروں کی رعایت کرنا ہے۔ اجتماعی زندگی میں لازمی طور پر ایک دوسرے کے درمیان اختلافات پیش آتے ہیں۔ مذہب، کلچر، رواج اور ذاتی ذوق کا فرق ہر

سماج میں باقی رہتا ہے۔ ایسی حالت میں اعلیٰ انسانی طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اصول پر قائم رہتے ہوئے دوسرے کے ساتھ رعایت اور توسع کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ اپنی ذات کے معاملے میں اصول پسند ہو، مگر دوسرے کے معاملے میں روادار۔ وہ اپنے آپ کو آئیڈیل کی روشنی میں جانچے ۔ جب دوسروں کا معاملہ ہو تو وہ رواداری اور وسعت ظرف کا طریقہ اختیار کرے۔ یہ رواداری انسانی شرافت کا لازمی تقاضا ہے۔ اسلام آدمی کے اندر یہی شرافت پیدا کرتا ہے۔

Printed page