Al-Risala · August 2020

اعراض

Al-Risala, August 2020, pp. 46–47

By Maulana Wahiduddin Khan

اعراض کا مطلب ہے شکایت اور اختلاف کے وقت ٹکراؤ سے پرہیز کرنا۔ اشتعال کے مقام پر ردعمل سے بچتے ہوئے اپنے آپ کو مثبت رویہ پر قائم رکھنا۔ یعنی ناخوش گوار صورت حال کو مٹانے کے بجائے اس کو برداشت کرنا، اشتعال انگیزی کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس کو نظر انداز کرنا، اختلاف کے باوجود لوگوں کے ساتھ متحد ہو کر رہنا۔ اعراض کوئی مجبوری کا فعل نہیں ہے، یہ سچے انسان کا ایک مثبت رویہ ہے۔

اسلام کے مطابق جب کوئی شخص شکایت اور اختلاف کے باوجود لوگوں کے ساتھ اچھے رویے پر قائم رہے، وہ اپنے منفی جذبات کو دبا کر مثبت رویے کا ثبوت دے تو خدا کے یہاں ایسے لوگوں کا شمار محسنین میں کیا جائے گا، یعنی وہ لوگ جنھوں نے دنیا کی زندگی میں برتر اخلاق اور اعلیٰ انسانیت کا ثبوت دیا ۔ رواداری اور اعراض کے بغیر اعلیٰ انسانی کردار پر قائم رہنا ممکن نہیں۔ سچا انسان ایک امن پسند انسان ہوتا ہے۔ سچائی اور امن پسندی اتنا زیادہ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں کہ سچا انسان ہر حال میں امن کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ہر دوسری چیز کو کھونا گوارا کر لیتا ہے، مگر وہ امن کو کھونا گوارا نہیں کرتا۔

سچا انسان موجودہ دنیا میں جو زندگی گزارنا چاہتا ہے، وہ صرف امن کی حالت ہی میں گزاری امن کی حالت سچے انسان کے لیے موافق ماحول فراہم کرتی ہے، اور بے امنی کی حالت

سچے انسان کے لیے مخالف ماحول کی حیثیت رکھتی ہے۔

امن ہمیشہ ایک قربانی چاہتا ہے۔ وہ قربانی یہ کہ دوسری طرف سے بدامنی کے اسباب پیدا کیے جائیں تب بھی اس کو نظر انداز کرتے ہوئے امن کی حالت کو برقرار رکھا جائے۔ ہمیشہ اس قربانی کو دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔ وہ ہر نقصان اور زیادتی کو برداشت کرتا ہے تاکہ امن کی حالت نہ ٹوٹے، تاکہ امن کا ماحول مسلسل طور پر قائم رہے۔

سچا انسان اندر سے باہر تک ایک تعمیر پسند انسان ہوتا ہے۔ اس کی تعمیری سرگرمیاں صرف امن کی حالت میں جاری رہ سکتی ہیں۔ اس لیے وہ ہر قیمت دے کر امن کو برقرار رکھتا ہے تا کہ اس کی تعمیری سرگرمیاں بلا روک ٹوک جاری رہیں۔

سچا انسان فطرت کے باغ کا ایک پھول ہے۔ پھول گرم ہوا میں جھلس جاتا ہے اور ٹھنڈی ہوا میں اپنے دل کش وجود کو باقی رکھتا ہے۔ یہی حال سچے انسان کا ہے۔ امن سچے انسان کی لازمی ضرورت ہے، اور اس کی زندگی ہے۔ سچا انسان حرص کی حد تک امن کا خواہشمند ہوتا ہے تا کہ اس کا انٹلیکچول ڈیولپمنٹ ہو سکے، اور کسی رکاوٹ کے بغیر فطرت کی فضا میں ظاہر ہو کر اپنی بہاریں دکھا سکے۔ امن کائنات کا دین ہے۔ امن فطرت کا عالمگیر قانون ہے۔ خالق کائنات کو امن کی حالت پسند ہے، اس کو بے امنی کی حالت پسند نہیں۔ یہی واقعہ اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس کی مخلوق امن کو پسند کرے۔ وہ کسی حال میں امن کے خاتمہ کو برداشت نہ کر سکے۔

انسان اجتماعی زندگی میں کس طرح رہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ کس طرح معاملہ کرے۔ دوسروں کے ساتھ اس کا سلوک کیسا ہو۔ اپنے قول و عمل میں وہ کیا انداز اختیار کرے۔ جو لوگ زندگی کے معاملات میں اپنے مقرر دائرے کے اندر حرکت کر رہے ہیں، وہ سماج میں امن قائم کرنے والے اس کے برعکس، جو لوگ اپنے مقرر دائرے سے باہر آگئے، یہی وہ لوگ ہیں جو سماج میں ہر قسم کی خرابیاں پیدا کرتے ہیں۔ وہ خود بھی تباہ ہوتے ہیں، اور سماج کی تباہی کا بھی سبب بنتے ہیں۔ وہ ہے، جو اپنے مقرر دائرے میں رہتے ہوئے زندگی گزارے۔

Printed page