شہد کی مکھی کا سبق
Al-Risala, August 2020, pp. 48–49
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مسلم میگزین میں ایک آئٹم ان الفاظ میں چھپا ہوا تھا: ایک استاد نے اپنے طالب علم سے پوچھا، تم شہد کی مکھی سے کیا سیکھ سکتے ہو۔ طالب علم نے جواب دیا: یہی کہ جو چھیڑے اسے ڈنک شہد کی مکھی کا یہ حوالہ درست نہیں۔ شہد کی مکھی میں انسان کے لیے ایک تعمیری سبق ہے، نہ کہ کوئی تخریبی سبق۔
شہد کی مکھی (honeybee) فطرت کا ایک شاہ کار ہے۔ شہد کی مکھی یہ کرتی ہے کہ مسلسل محنت کر کے بے شمار پھولوں سے ان کا نیکٹر (nectar) نکالتی ہے، اس کے بعد پر امن منصوبہ بندی کے ذریعے اس کو اپنے چھتے میں جمع کرتی ہے۔ تا کہ انسان کے لیے ایک قیمتی غذا حاصل ہو۔ سے شہد کی مکھی کا سبق انسان کے لیے یہ ہے کہ تم اپنے سماج کے ایک دینے والے ممبر (giver member) بنو، تم اپنے سماج میں اس طرح تعمیری انداز میں رہو کہ تم سے دوسروں کو فائدہ پہنچے۔ صحیح ہے کہ شہد کی مکھی بعض اوقات انسان کو ڈنک مارتی ہے۔ لیکن شہد کی مکھی کا یہ ڈنک مارنا صرف اپنے بچاؤ کے لیے ہوتا ہے۔ جب شہد کی مکھی یہ دیکھتی ہے کہ کوئی انسان اس کے چھتے میں مداخلت کر رہا ہے تو وہ اپنے بچاؤ کے لیے ایسے آدمی کو ڈنک مارتی ہے۔ شہد کی مکھی کا ڈنک مارنا صرف اپنے دفاع (defence) کے لیے ہوتا ہے۔ شہد کی مکھی کے اندر پیدائشی طور پر کسی کے خلاف کوئی منفی سوچ نہیں۔
انسان کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انسان کے اندر آنا (ego) کا جذبہ ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے خلاف بات پر بھڑک اٹھتا ہے، اور انتقام (revenge) کے درپے ہو جاتا ہے۔ موقعے پر انتقامی کارروائی کرتا ہے، جب کہ انتقام کلچر شہد کی مکھی کی فطرت میں موجود ہی نہیں۔ چاہیے کہ وہ فطرت کے واقعات سے ہمیشہ مثبت سبق (positive lesson) لے، منفی سبق (negative lesson) لینا فطرت کے نظام کے مطابق نہیں۔
سوال و جواب قرآن کی ایک آیت ہے: وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُونَ (46:20) ۔ یعنی اور جس دن انکار کرنے والے آگ کے سامنے لائے جائیں گے، (اُن سے کہا جائے گا کہ ) تم اپنی اچھی چیزیں دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان کو برت چکے تو آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی، اس وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کرتے تھے اور اس وجہ سے کہ تم نافرمانی کرتے تھے۔ اس آیت میں اذہاب طیب کا معنی کیا ہے، ایک مومن کو آرام دہ زندگی کا ملنا کتنا مطلوب ہے۔ (مولانا سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو) قرآن کی اس آیت میں اذہاب طیبات مطلق معنی میں نہیں ہے۔ اس لیے کہ مطلق معنی میں طیبات اس زمانے میں کسی کو نہیں ملتی تھیں ۔ اُس زمانے میں جو چیز ملتی تھی، وہ کھجور اور اونٹ کا یہ طیبات کے اسٹینڈرڈ کے مطابق، بہت معمولی چیزیں ہیں۔
اس آیت میں طیبات سے مراد طیبات فطری ہیں، نہ کہ مادی طیبات۔ یعنی طیبات سے مراد غالباً انسانی مصنوعات نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں، جو براہِ راست اللہ رب العالمین کی طرف سے انسانوں کو پہنچ رہی ہیں۔ یعنی وہ تمام چیزیں جو فطری طور پر کسی خاص کسب کے بغیر انسانوں کو ملتی ہیں۔ اس میں رزق کی تمام چیزیں شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تم کو جو مواقع دیے گئے تھے، وہ خداوند عالم کی شکر گزاری کے لیے تھے۔ لیکن تم نے ان طیبات کو او یل نہیں کیا، بلکہ او یل کرنے کا موقع گنوا دیا۔ خداوند عالم کی شکر گزاری کا تعلق تمام فطری نعمتوں سے ہے۔ مثلاً پانی کا برسنا، ہوا کے ذریعے آکسیجن کی سپلائی ۔ زمین سے غذائی اشیاء کا اگنا، وغیرہ وغیرہ۔