قرآن کا طریق مطالعہ
Al-Risala, September 2020, pp. 6–9
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن معروف معنوں میں ایک مذہبی رسم کی کتاب نہیں ہے، وہ ایک ایسی کتاب ہے، جس میں پوری انسانی زندگی کے لیے رہنما تعلیمات دی گئی ہیں۔ قرآن کی رہنمائی عام انسانی کتابوں سے عام انسانی کتابوں کے لیے ریڈنگ (reading) کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔
قرآن کے لیے یہ کرنا ہے کہ اس کا قاری اس کو تدبر (ص، 38:29) کے ساتھ مطالعہ کرے ۔ سبب یہ ہے کہ قرآن اپنی اسلوب کے اعتبار سے ربانی حکمت کا مجموعہ (collection of divine قرآن میں بیان کردہ انسانی تاریخ کو سمجھنے کے لیے اسی اصول کو اختیار کرنا چاہیے۔ قرآن کے مطابق، تاریخ بہ ظاہر انسان کی تاریخ ہے۔ لیکن تاریخ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی طرح ایک خدائی واقعہ ہے، جس طرح تخلیق (creation) ایک خدائی واقعہ ہے۔ فرق یہ ہے کہ تخلیق مکمل طور پر خدا کا عمل ہے، لیکن تاریخ چوں کہ انسان کے لیے امتحان گاہ ہے، اس لیے تاریخ کے معاملے میں خدا کا طریقہ یہ ہے کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو پہنچ کرنا: Managing the course of human history while maintaining قرآن کی روشنی میں انسانی تاریخ کی تعبیر کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کا عنوان غالباً یہی اس اصول کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا اِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ (22:38) - یعنی بیشک اللہ ان لوگوں کی مدافعت کرتا ہے جو ایمان بیشک اللہ بد عہدوں اور ناشکروں کو پسند نہیں کرتا۔ ان ادوار کے بارے میں قرآن میں اشارات موجود ہیں (دیکھیے: سورہ الاعراف، 7:54 ؛ سورہ یونس، 10:3، وغیرہ)۔ زیادہ تفصیلی بیان اس معاملے میں انسان کی تخلیق کا ہے۔ انسان کی تخلیق کے وقت جو واقعات پیش آئے، ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے، جو اللہ رب العالمین اور فرشتوں کے درمیان مکالمہ کی صورت میں ہوا۔ اللہ اور فرشتوں کا مکالمہ اللہ اور اس کے فرشتوں کے درمیان ہونے والا مکالمہ قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھا دیے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان
کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بیشک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ نے کہا اے آدم، ان کو بتاؤ ان کے نام۔ تو جب آدم نے بتائے ان کو ان کے نام تو اللہ نے کہا۔ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں اور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں اور مجھ کو معلوم ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کے واقعے میں اسماء (نام) کو بتانے سے مراد غالباً انسان کی تاریخ کا خلاصہ بتانا ہے۔ یعنی وہ تاریخ جو آدم کی اولاد کے زمین پر سرگرم عمل ہونے کے بعد وجود میں آئی۔ انسان سے پہلے اللہ نے جنات کو پیدا کیا (الحجر، 15:27)۔ اس بنا پر فرشتوں کو یہ شک تھا کہ انسان بھی وہی کرے گا، جو اس سے پہلے جنات کر چکے ہیں۔ لیکن انسان کا معاملہ اس سے انسان کے معاملے میں اللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ جنت کی صورت میں ایک اعلی مسکن بنائے، اور وہاں انسان جیسی مخلوق کے منتخب افراد کو بسائے۔ انسان کو کامل آزادی دی جائے، جس کو قرآن میں امانت کہا گیا ہے (الاحزاب، 33:72)۔ اس منصوبہ کا مقصد یہ تھا کہ ایک صاحب عقل مخلوق کو پیدا کی جائے، اور اس کو زمین پر آباد کر کے آزادانہ طور پر عمل کا پورا موقع دیا جائے ۔ پھر ان میں سے ایسے افراد منتخب کیے جائیں، جن کے بارے میں تجربے سے یہ ثابت ہو کہ وہ کامل آزادی کے باوجود کامل اطاعت کی صفت رکھنے والے ہوں۔ یعنی کامل آزادی (total freedom) کے باوجود خود اختیار کردہ ڈسپلن (self-imposed discipline) کا حامل ہونا۔
یہاں اس بات کا شدید امکان تھا کہ کامل آزادی کی صورت میں ایسا ہوگا کہ انسانوں کی ایک تعداد اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) کرے گی لیکن ایسا ہونا ناگزیر تھا۔ اصل مقصد یہ تھا کہ ابدی جنت کے مستحق افراد کو وجود میں لانا، اور ایسے افراد اسی وقت پیدا ہو سکتے تھے جب کہ ان کو حقیقی معنوں میں کامل آزادی دے کر یہ رسک (risk) لیا جائے کہ ان میں سے ایک گروہ بھٹکنے والا ہوگا تو دوسرا گروہ ایسا نکلے گا، جو اپنے اختیار کو صحیح طور پر استعمال کرے، اور اپنے آپ کو جنت کا
مستحق ثابت کرے۔
فرشتے اپنے ذہن کے مطابق اس کو ناممکن سمجھتے تھے کہ نئی مخلوق (انسان) فرشتوں کی مانند کامل معنوں میں اطاعت گزار ہو۔ چنانچہ انھوں نے کہا کہ انسان زمین میں فساد کریں گے اور ایک دوسرے کا خون بہائیں گے (البقرۃ، 2:30)۔ لیکن اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ نئی مخلوق تخلیقی اوصاف (creative quality) کی مالک ہو۔ یعنی وہ خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) پر کھڑی ہو، وہ خود اختیار کردہ نظم (self-acquired discipline) کی صفت رکھتی ہو، وہ خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) پر کھڑی ہونے والی ہو، اس کے اندر یہ صفت ہو کہ وہ اپنی اصلاح آپ (self-correction) کا پراسس (process) اپنے اندر جاری کر سکے، وہ پورے معنوں میں خود تعمیر کردہ انسان (self-made man) کہلانے کی مستحق ہو۔ ایسی ہی مخلوق اللہ کے نزدیک اس قابل تھی کہ وہ ابدی جنت کے باغوں میں ہمیشہ کے لیے آباد کی جائے۔
یہاں "علم الاسماء" سے مراد بہ ظاہر انسان کی تاریخ ہے۔ اللہ کا فرشتوں سے یہ کہنا کہ تم ان کے نام بتاؤ، یعنی ان کی تاریخ بتاؤ۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ تم یہ دیکھ رہے ہو کہ پیدا کیے جانے والے انسان آزادی کا غلط استعمال کریں گے، اور دوبارہ زمین میں فساد پھیلائیں گے۔ مگر اللہ کے سوال میں یہ بات مضمر تھی کہ تم انسانی تاریخ کے جزء کو دیکھ رہے ہو، تم تاریخ کے کُل کو دیکھ کر رائے نہیں بنا رہے ہو۔ آدم نے اپنے الہامی علم کے مطابق، فرشتوں کو انسان کی تاریخ بتائی۔ اس کے بعد فرشتے اعتراف کے طور پر سجدے میں گر پڑے، اور وہ انسان جیسی مخلوق کی پیدائش کو اللہ رب العالمین کا اعلیٰ تخلیقی منصوبہ سمجھ کر اس پر راضی ہو گئے۔