Al-Risala · January 2020

لماذا تاخر المسلمون وتقدم غيرهم

Al-Risala, January 2020, pp. 27–40

By Maulana Wahiduddin Khan

(مسلمان کیوں پیچھے ہو گئے، اور ان کے سوا دوسرے لوگ آگے ہو گئے)

مگر نصف صدی بعد بھی یہ سوال حل نہ ہو سکا۔ مجلہ رابطہ العالم الاسلامی (ریاض) کی اشاعت اپریل 1985 میں استاذ محمد عبد اللہ السمان کا ایک مضمون چھپا ہے جس کا عنوان دوبارہ یہ ہے : لماذا تأخرنا وتقدّم غيرنا مضمون نگار نے لکھا ہے کہ مسلمان عام طور پر اپنے اسلاف پر فخر کرتے ہیں۔ وہ روم و ایران کی فتح اور بدر و حنین اور یرموک و قادسیہ کی فتوحات کا ذکر کر کے خوش ہوتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ خود ہم نے کیا کیا (ولكن ماذا فعلنانحن)۔ اس کے بعد انھوں نے یہ شعر لکھا ہے:

ليس الفتى من يقول كان أبى ولكن الفتى من قال ها أنا ذا ( جوان وہ نہیں ہے جو کہے کہ میرا باپ ایسا تھا ، جوان وہ ہے جو کہے کہ یہ ہوں میں ) موجودہ دنیا میں ہر قوم نے اپنی قومی برتری کا ایک نعرہ اختیار کر رکھا ہے: ميراملک چاہے حق پر ہو يا نا حق پر جرمنی سب سے اوپر اٹلی مذہب ہے حکومت برطانیہ کے لیے ہے امریکہ خدا کا اپنا ملک ہے سفید آدمی کا بوجھ مختلف قوموں نے اسی طرح مختلف مختلف قوموں کے اسی طرح مختلف الفاظ بنا لیے ہیں، جن کو بول کر وہ اپنی قومی برتری کے جذبہ کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ الفاظ اگر چہ الگ الگ ہیں، مگر سب کی نفسیات ایک ہے۔ اپنی قوم کو اونچا سمجھتا ہے۔ ہر ایک قومی بڑائی کے احساس کو اپنی غذا بنائے ہوئے ہے۔ ایسے ماحول میں مسلمان اگر یہ کریں کہ وہ بھی اپنی بڑائی کا نعرہ لے کر کھڑے ہو جائیں۔ ہمارا دین سب سے کامل، ہمارا نبی سب سے افضل، ہماری تاریخ سب سے شاندار، ہماری قوم خیر اس طرح کے نعروں کے ساتھ اگر وہ دنیا کے سامنے آئیں تو وہ قومی بڑائیوں کے ٹکراؤ میں ایک اور قومی بڑائی کا اضافہ کریں گے۔ اس قسم کی باتیں صرف جوابی قومیت کے جذبہ کو ابھاریں گی۔ دعوت اسلامی کے حق میں لوگوں کے دلوں کو نرم نہیں کر سکتی۔

اس قسم کے نعروں کا کوئی بھی تعلق اسلام سے نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں نے اپنی قومی برتری کے جذبہ کو تسکین دینے کے لیے بنائے ہیں، اور چونکہ انھیں یہ درد نہیں ہے کہ دنیا کی قومیں خدا کے دین کے سایہ میں آئیں، وہ نہایت فخر کے ساتھ ان الفاظ کو دہراتے رہتے ہیں۔ انھیں احساس نہیں دیں کے ہائے ہیں ، اس کی ہدایت کے

کہ ان کی اس قسم کی باتیں اسلام کو دوسروں کی نظر میں صرف ایک قومی چیز بنا دیتی ہیں، اور پھر وہ اس کو قریب سمجھ کر اس سے دور ہو جاتے ہیں۔

طب نبوی پر تقریبا ایک درجن کتابیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں صحت اور امراض کے علاج کے بارے میں جو کچھ فرمایا، ان کو محدثین نے اپنی کتابوں میں جمع کر دیا صحیح بخاری میں بھی کتاب الطب موجود ہے جس میں پچاسی ابواب ہیں۔ آخری باب کا عنوان ہے: باب إذا وقع الذباب فی الإناء (باب: جب مکھی برتن میں گر جائے)۔

ایک روایت اس سلسلہ میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار حضرت عائشہ کے پاس بغرض عیادت آئے۔ اس وقت آپ نے کہا: عائشہ، سب سے اچھی دوا پر ہیز ہے، اور معدہ بیماری کا گھر ہے (الأَزْمُ دَوَاءٌ، وَالْمَعِدَةُ بَيْتُ الدَّاء) الطب النبوی للذھبی، صفحہ 102۔ یہ دو لفظ میں صحت اور تندرستی کا خلاصہ ہے۔ اگر آدمی کھانے پینے میں احتیاط کا طریقہ اختیار اور معدہ میں ضرورت سے زیادہ غذا نہ بھرے، تو وہ، ان شاء اللہ، مستقل طور پر صحت مند اس کو نہ ڈاکٹروں کی ضرورت ہوگی، اور نہ خرابی صحت کی شکایت کی نوبت آئے گی۔ حدیث میں آیا ہے: اِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3666)۔ اولاد بخل اور بزدلی میں مبتلا کرنے والی ہے۔ یہ بات ہمیشہ صحیح تھی ۔ مگر موجودہ زمانہ میں یہ اور زیادہ صحیح قدیم زمانہ میں اسباب حیات بہت تھوڑے ہوتے تھے۔ اس لیے بخل اور بزدلی کے مواقع بھی کم تھے۔ اب اسباب حیات بہت زیادہ ہو گئے ہیں، اس لیے بخل اور بزدلی کے مواقع بھی بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

مکان، فرنیچر، لباس اور دوسرے ساز وسامان جتنے آج ہیں، اتنے کبھی نہیں تھے۔ بچوں کی تعلیم اور ان کے مستقبل کی تعمیر کے جو امکانات آج کھلے ہیں، وہ پہلے کبھی نہیں کھلے تھے۔ چنانچہ ہر آدمی انھیں

امکانات میں کھویا رہتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ ترین معیار زندگی کا حامل بنانا چاہتا ہے۔ یہ جذبہ آدمی کو دین کے معاملے میں بخیل اور بز دل بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے مال کو بچاتا ہے، تاکہ اس کے ذریعہ سے زیادہ سے زیادہ بچوں کے مستقبل کو سنوارے۔ وہ اپنے وجود کو ہر خطرہ کے مقام سے دور رکھتا ہے، تاکہ بچوں کے بارے میں اس کا منصوبہ نامکمل نہ رہ جائے۔ سورہ انعام (آیت 141) میں اسراف سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی تفسیر کرتے ہوئے ایک مفسر قرآن لکھتے ہیں:

”قرآن مجید کا ایک اعجاز یہاں یہ ہے کہ احکام کے جزئیات بلکہ بعض اوقات تو جزئیات در جزئیات کے ضمن میں وہ ایسے حکیمانہ کلیات واصول بیان کر جاتا ہے، جو زندگی کے سارے ہی شعبوں پر یکساں منطبق ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ یہاں بھی چلتے چلتے ایک ایسا چٹکلا بیان کر دیا کہ انسان اگر اسی ایک پر عمل کرلے، تو اخلاق، معاملات، سیاسیات، معاشرت، غرض کیا انفرادی اور کیا اجتماعی ہر زندگی کے سارے شعبوں کی مشکلات دور ہو سکتی ہیں، اور بڑے سے بڑے پتھر پانی ہو کر رہ سکتے ہیں۔ (تفسیر ماجدی، جلد دوم صفحہ 466)۔

قرآن بلاشبہ ایک اعجازی کلام ہے۔ مگر یہ اعجاز قرآن کی تصغیر ہے کہ یہ کہا جائے کہ قرآن چٹکلے بیان کرتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں جس چیز کو چٹکلا کہا گیا ہے، وہ لا تسرفوا (اسراف نہ کرو) ہے۔ اس لحاظ سے بھی یہ ایک عجیب بات ہے۔ کیوں کہ اُسراف نہ کرو ایک اہم شرعی اصول ہے نہ کہ معروف معنوں میں کوئی چٹکلا۔

ایک صاحب تشریف لائے۔ ان کا کہنا تھا کہ الرسالہ میں خدا اور گاڈ (God) کا لفظ استعمال ہوتا ہے، اس کو بند ہونا چاہیے اور اردو اور انگریزی دونوں الرسالہ میں صرف اللہ استعمال ہونا چاہیے ۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ خدا اور گاڈ دونوں لفظوں کی جمع آتی ہے۔

اللہ ایک ایسا لفظ ہے جس کی جمع نہیں۔

آج کل مسلمانوں میں یہ رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔ حتیٰ کہ انگریزی میں لوگ ”اللہ سبحانہ و تعالیٰ لکھتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک یہ قومی جنون ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جب کہ معلوم ہے کہ اللہ کا لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایجاد نہیں کیا۔ یہ پہلے عربوں میں قدیم عرب نے اگر چہ اللہ کی لفظی جمع نہیں بنائی، مگر اس کی معنوی جمع انھوں نے بنا رکھی تھی۔ یعنی اللہ کو مانتے ہوئے وہ اس کے شرکاء کو بھی مانتے تھے۔ اس طرح اللہ کا لفظ قدیم عرب کے پس منظر میں شرک کا مفہوم لیے ہوئے تھا۔ مگر قرآن نے جب اس کو خالص توحید کے معنی میں استعمال کیا، تو وہ توحید کے مفہوم کا حامل بن گیا۔ الفاظ کی معنویت ان کے استعمال سے متعین ہوتی ہے اور اسلامی کتابوں میں خدا اور گاڈ کا لفظ اسلامی استعمال کے اعتبار سے ہے نہ کہ جاہلی استعمال کے اعتبار سے۔ انگریزی میں ”اللہ سبحانہ و تعالیٰ لکھنا ایک قسم کا جنون (fanaticism) ہے۔ میرا ذوق یہ ہے کہ اس معاملہ میں ادبی تقاضوں کو اہمیت دینی چاہیے۔ ادبی تقاضوں کو اہمیت نہ دینے کا نقصان یہ ہے کہ عبارت کا زور گھٹ جاتا ہے۔

قرآن کی سورہ الفتح (آیت 10) میں ہے: ﴿وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ (48:10)۔ یعنی اور جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا، جو اس نے اللہ سے کیا ہے۔

یہاں عربی نحو کے عام قاعدہ کے مطابق عَلَيْهِ کی ”ہ“ زیر ہونا چاہیے، یعنی عَلَيْهِ پڑھا جانا چاہیے، نہ کہ عَلَيْهُ۔ اس غیر معمولی اعراب پر تفسیر کی کتابوں میں لمبی بحثیں کی گئی ہیں، اور مختلف طریقوں سے اس کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر ایک اہم پہلو اور ہے، جو تفسیر کی کتابوں میں نہیں آیا ہے۔ وہ ہے قرآن کا کامل طور پر محفوظ ہونا۔

قرآن کو صحابہ کرام نے اور بعد کے لوگوں نے کامل طور پر محفوظ رکھنے کا انتہائی حد تک اہتمام حتیٰ کہ اس کی آواز کو بھی پوری طرح محفوظ رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن

کا کوئی حصہ اترتا، تو اسی وقت فورا اس کو لکھ لیا جاتا تھا۔

اسی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت نماز کے اندر یا نماز کے باہر جس طرح ہوتی تھی، اس کی کامل نقل کی جاتی تھی۔ چنانچہ اس آیت میں صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عَلَيْہِ پڑھتے ہوئے سنا، تو عین اسی طرح اس کو محفوظ کر لیا اور بعد کی نسلوں کو اسی طرح منتقل کرتے رہے۔ قرآن کے بعد جو نحو مرتب ہوئی اس میں ایسے موقع پر زیر کا اصول درج کیا گیا، یعنی عَلَيْہِ۔ چودہ سو سال تک کسی نے ایسا نہیں کیا کہ معروف نحوی قاعدہ کے مطابق بنانے کے لیے قرآن میں اس آیت کو عَلَيْهِ لکھے یا اس کو عَلَيْہِ پڑھے۔ سیکڑوں سال سے یہ آیت اسی طرح لکھی اور پڑھی جا رہی ہے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پڑھ کر سنایا تھا۔ کیسا عجیب یہ اہتمام ہے، جو قرآن کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔

اجمیر کے قریب ایک پہاڑی علاقہ ہے، جس کو میرات کہا جاتا ہے۔ یہاں مسلمان معقول تعداد میں آباد ہیں۔ مگر سب ان پڑھ اور پس ماندہ ہیں۔ وہ دین اور تہذیب دونوں سے دور ہیں۔ تقریباً 15 سال پہلے کی بات ہے مجھے اس علاقہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے ساتھ دو مولوی صاحبان اور تھے۔ ہم لوگ وہاں پہنچے تو مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ مغرب کی نماز ہم نے اپنے میزبان کے گھر کی چھت پر پڑھی۔

میرے ساتھ جو مولوی صاحبان تھے، وہ اس انتظار میں تھے کہ میزبان نماز کے بعد چائے لے کر آئے گا۔ مگر میزبان نماز کے بعد ہم سے رخصت ہو کر گیا، تو وہ دوبارہ واپس نہیں آیا۔ کرتے عشا کا وقت ہو گیا۔ ہم لوگ عشا کی نماز پڑھ کر بیٹھ گئے، مگر بدستور میزبان کا پتہ نہ تھا۔ میرے ساتھی جو اس سے پہلے چائے کے منتظر تھے، اب بھوک سے بے تاب ہو کر کھانے کا انتظار کرنے لگے۔ غرض کافی انتظار کے بعد میزبان بڑے سے برتن میں کھانا لے کر آیا۔ خوش ہوئے کہ آخر کار انتظار ختم ہوا۔ مگر ان کی خوشی دیر تک باقی نہیں رہی۔ میزبان نے برتن سے کپڑا

ہٹایا تو معلوم ہوا کہ جو کھانا وہ لے کر آیا ہے، عجیب و غریب کھانا ہے، یعنی ارہر کی دال اور گلگلہ۔ اب میرے ساتھیوں کا صبر ٹوٹ گیا۔ وہ بول پڑے کہ اتنی دیر کے بعد تم کھانا لائے ہو، اور وہ بھی ایسا عجیب و غریب کھانا جو ہم نے کبھی نہ کھایا تھا، اور سنا تھا۔ مگر میرا رد عمل بالکل مختلف تھا۔ نے بہت خوشی کے ساتھ کھانا شروع کر دیا، اور کہا کہ یہ تو بہترین کھانا ہے۔ میں کھاتا جاتا تھا، اور تعریف کرتا جاتا تھا۔ اب میرے ساتھی بھی مجبور تھے۔ وہ بھی میرا ساتھ دیتے ہوئے کھانے میں

اس تجربہ کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسندیدہ کھانوں کی جو روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں ان کی حقیقت کیا ہے۔

039 میں میں نے میرات کے بارے میں اپنے ایک سفر کا تجربہ لکھا ہے۔ اس تجربہ سے سیرت کا ایک پہلو سمجھنے میں مجھے مدد ملی۔

میرات کے مذکورہ سفر میں جب ہمارا میزبان ارہر کی دال اور گلگلہ لے آیا تو میرا اندرونی جذبہ خود بخود رہنمائی کرنے لگا کہ اس وقت مجھے کیا کرنا چاہیے۔ عین اپنے اندرونی جذبے کے تحت میری زبان سے حوصلہ افزائی کے کلمات نکلنے لگے۔ میں یہ کہہ کر ذوق وشوق کے ساتھ اس کو کھانے لگا: یہ تو بہترین کھانا ہے، یہ تو بہترین کھانا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسندیدہ کھانوں کے سلسلہ میں جو روایتیں آتی ہیں، ان کی حقیقت یہی ہے۔ ان روایتوں کے سلسلہ میں سب سے اہم قابل غور بات یہ ہے کہ اس میں تقریباً ہر اس کھانے کا ذکر ہے، جو اس وقت مدینہ میں رایج تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ہر چیز رسول اللہ کا پسندیدہ کھانا تھا، تو آخروہ چیز کیا ہے جو آپ کو پسند نہ ہو۔

اصل یہ ہے کہ اس وقت مدینہ میں غذا کی فراوانی نہ تھی۔ بڑی مشکل سے آدمی کوئی ایک دو چیز حاصل کر پاتا تھا، جس سے وہ اپنا پیٹ بھر سکے۔

اکثر یہ صورت پیش آتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کھانے کا کوئی سامان موجود نہیں ہے۔ کسی انصاری کو پتہ چلا تو وہ آپ کے پاس حاضر ہوا، اور آپ کو بلا کر اپنے گھر لے وہ گھر کے اندر کھانا لانے کے لیے گیا، تو معلوم ہوا کہ گھر کے اندر صرف کوئی ایک یادو چیز ہے، وہ اس کو اٹھا لایا، اور شرمندگی کے ساتھ آپ کے سامنے رکھ دیا، اور کہا یا رسول اللہ اس وقت یہی ہے، آپ اس کو تناول کیجیے۔ آپ نے کھانے کو دیکھا، تو آپ کی ایمانی شرافت حوصلہ افزائی کے کلمات میں ڈھل گئی۔ آپ نے یہ کہہ کر اس کو ذوق وشوق کے ساتھ کھانا شروع کر دیا، اور کہا: یہ تو بہترین چیز ہے، اس سے اچھی کوئی چیز نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ غذاؤں کے سلسلے میں جو حدیثیں آتی ہیں، ان کی حقیقت بس یہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قسم کے اقوال دراصل وہ کلمات ہیں، جو ایک شریف آدمی اپنے میزبان کے دستر خوان پر کہتا ہے۔ یہ میزبان کی نسبت سے ہے، نہ کہ کھانے کی

محمد المجدوب (1999-1907) ایک شامی ادیب اور شاعر ہیں۔ ان کی تین جلدوں میں ایک کتاب ہے، جس کا نام ہے: علماء ومفکرون عرفتھم اس کتاب میں انھوں نے لکھا ہے : أقيمو دولتكم على قلوبكم يقيم الله دولتكم على الناس۔ یعنی تم اپنے دلوں کے اوپر اپنی حکومت قائم کرو، اللہ تمھاری حکومت لوگوں کے اوپر قائم کر دے گا۔ یہ نہایت صحیح بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ اور خدا سیاسی اقتدار انھیں لوگوں کو دیتا ہے، جو اپنے آپ کو خدا کی نظر میں اس کا اہل ثابت کریں۔ حقیقت کو علامہ ابن تیمیہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : اللہ ينصر الدولة العادلة وإن كانت كافرة، ولا ينصر الدولة الظالمة وإن كانت مؤمنة (الحسبة في الاسلام، صفحه (7) ۔ یعنی اللہ عادل حکومت کی مدد کرتا ہے خواہ وہ کافر ہو اور وہ ظالم حکومت کی مدد نہیں کرتا خواہ وہ مومن ہو۔

صحابی رسول بشیر بن خصاصیہ کا واقعہ ہے کہ لوگوں نے ان سے کہا کہ سرکاری عمال صدقہ لینے میں ہم پر زیاد تیاں کرتے ہیں (اِنَّ أَهْلَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا)، کیا ہم اپنے مال میں سے زیادتی کے بقدر چھپالیں، بشیر بن خصاصیہ نے کہا: نہیں (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 1586)۔ طرح سعد بن ابی وقاص کی ایک روایت میں ہے: اَدْفَعُوهَا اِلَيْهِمْ مَا صَلَّوْا الْخُمْسَ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر (343) یعنی جب تک وہ پانچ نمازیں پڑھتے ہیں، زکوٰۃ انھیں دیتے رہو۔ بنو امیہ کے زمانہ میں جب نظام خلافت بدل گیا اور حکام ظلم و تشدد پر اتر آئے، تو بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ ایسے لوگ ہماری زکوٰۃ کے کیوں امین سمجھے جائیں۔ لیکن تمام صحابہ نے یہی فیصلہ کیا کہ زکوٰۃ انھیں کو دینی چاہیے۔

حضرت عبداللہ بن عمر سے ایک شخص نے پوچھا، اب زکوٰۃ کس کو دیں۔ کہا، وقت کے انھوں نے کہا: وہ تو زکوٰۃ کا روپیہ اپنے کپڑوں اور عطروں پر خرچ کر ڈالتے ہیں (اِذَا يَتَّخِذُونَ بِهَا ثِيَابًا وَطِيبًا)۔ ابن عمر نے کہا: وَإِنِ اتَّخَذُوا ثِيَابًا وَطِيبًا (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 10191)۔ یعنی اگر چہ وہ کپڑے اور عطر لے لیں (پھر بھی تم انھیں کو زکوٰۃ دو)۔ صحابہ نے یہ جو کہا، یہ کسی بزدلی کی وجہ سے نہیں کہا۔ در حقیقت یہی اسلام کا حکم ہے۔ مسلمان کی قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنا اسلام میں جائز نہیں۔ اگر مسلم حکمرانوں میں خرابی نظر آئے تو صرف یہ حکم ہے کہ ان کو درد مندی اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھاؤ۔ موجودہ زمانہ کی طرح ایجی ٹیشن چلانا، ان کے خلاف عوامی ہنگامے کرنا سراسر نا جائز فعل ہے۔ جو لوگ اسلام کے نام پر اس قسم کی سیاست چلا رہے ہیں، وہ بلاشبہ مجرم ہیں۔

صهیون (Zion) کا لفظ بائبل میں 152 بار آیا ہے۔ یہ قدیم یروشلم میں ایک پہاڑ کا نام تھا۔ یہودی تاریخ بتاتی ہے کہ دسویں صدی قبل مسیح میں حضرت داؤد نے اسی پہاڑ پر اپنا شاہی قلعہ بنایا

اس کے بعد حضرت سلیمان نے اسی پہاڑ پر عبادت گاہ تعمیر کی ۔ بعد کو صیہون کا لفظ عمومی طور پر پورے شہر یروشلم کے لیے استعمال ہونے لگا، جو کہ یہودیوں کے نزدیک ان کا مقدس وطن ہے۔ اس علاقہ کو آج کل اوفیل (Ophel) کہا جاتا ہے۔

اس طرح یہودی روایات کے مطابق ’’صہیون‘‘ سے مراد یہودیوں کا مذہبی اور سیاسی مرکز ہے، اور تحریک صیہونیت سے مراد داؤد اور سلیمان کے دور کو زندہ کرنا ہے، تا کہ یہودی عظمت دوبارہ مذہبی اور سیاسی اعتبار سے قائم ہو جائے۔ یہ ایک مثال ہے کہ مذہبی الفاظ کس طرح قومی تحریکوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہودی اپنی موجودہ فلسطینی تحریک کو صیہونیت (Zionism) کہتے یہودی روایت کے اعتبار سے ان کے لیے غالباً یہ سب سے زیادہ مفید مطلب نام ہے۔ یہی چیز آج مسلمانوں میں بھی مختلف اعتبار سے پیدا ہو گئی ہے۔ وہ خالص قومی تحریکیں چلاتے ہیں، اور مقدس ظاہر کرنے کے لیے اس کو کوئی اسلامی نام دے دیتے ہیں۔ مگر جو چیز یہودیوں کے لیے بری ہے، وہ مسلمانوں کے لیے کس طرح اچھی ہو جائے گی۔

افغانستان کے سابق حکمراں ظاہر شاہ (2007-1914) کے زمانہ میں سردار داؤد شاہ خان (1909-1978) وزیر فوج تھے۔ انھوں نے جولائی 1973 میں فوجی انقلاب کیا، اور ظاہر شاہ کو ملک بدر کر کے خود حکومت سنبھال لی۔ سردار داؤد کو اپنے اس مقصد کے لیے کمیونسٹ پارٹی (خلق) کی مدد لینی پڑی، جو 1965 میں قائم ہوئی تھی، اور جس کا لیڈر نور محمد ترہ کی (1979-1917) افغانستان کی کمیونسٹ پارٹی نے عوامی سطح پر سردار داؤد کے انقلاب کی حمایت کی۔ اس کے بعد سردار داؤد اور نور محمد تڑہ کی (Nur Muhammad Taraki) میں اقتدار کی کشمکش شروع ہوئی۔ آخر کار تقریباً ساڑھے چار برس بعد دوبارہ انقلاب ہوا۔ اپریل 1978 میں خلق پارٹی نے روسیوں کی مدد سے بغاو ت کردی۔ سردار داؤد مع اپنے اہلِ خاندان قصر صدارت میں مارڈالے گئے، اور نور محمد تڑہ کی بر سر اقتدار آئے۔ اس طرح افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب آیا، جس کو مقامی زبان میں انقلابِ نور

کہا جاتا ہے۔ یہیں سے افغانستان میں باقاعدہ روسی تسلط کا آغاز ہوا۔

یہ ایک ہی کہانی ہے، جو تقریباً ہر ملک میں کسی نہ کسی شکل میں دہرائی جارہی ہے۔ الاخوان المسلمون نے شاہ فاروق (1965-1920) کا خاتمہ کرنے کے لیے فوجی افسروں کا ساتھ بعد کو ان فوجی افسروں نے حکومت پر قابض ہو کر اس سے زیادہ ظلم کیا، جو شاہ فاروق کر سکتا تھا۔ پاکستان میں سید ابو الاعلیٰ مودودی (1979-1903) صدر ایوب (1971-1907) کو ہٹانے کے لیے بھٹو (1979-1928) کے ساتھ متحد ہوگئے۔ مگر جب صدر ایوب کا خاتمہ ہوا، تو اس کے بعد پاکستان میں بھٹو کے تحت پہلے سے بھی زیادہ ظالمانہ حکومت قائم تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی عقل چھن گئی ہے۔ وہ بار بار ایسے اقدام کرتے ہیں جس کا نتیجہ صرف الٹی صورت میں ان کے لیے برآمد ہو۔

حمید بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں یزید کی ولی عہدی کے وقت حضرت بشیر کے پاس گیا، جو صحابہ میں سے تھے۔ میں نے ان سے یزید کے بارے میں اظہارِ خیال کے لیے کہا۔ کہا: يقولون : إنما يزيد ليس بخير أمة محمد - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وأنا أقول ذلك، ولكن لأن يجمع الله أمة محمد أحب إلي من أن تفتحق ( تاریخ الاسلام للذہبی ، جلد 4، صفحہ 87 ) ۔ یعنی لوگ کہتے ہیں کہ یزید امت محمد کے بہتر لوگوں میں سے نہیں ہے، اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔ امت محمدی کا اتفاق سے رہنا، مجھے افتراق کی بنسبت زیادہ پسند ہے۔

جس وقت امیر معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا یا اس وقت ہزاروں کی تعداد میں صحابہ کرام زندہ موجود تھے۔ مثلاً حسین بن علی، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن زبیر، اور عبد الرحمن بن ابی بکر اور دوسرے بہت سے جلیل القدر افراد ملت کے اندر موجود تھے۔ میں یزید کو خلیفہ بنانا سخت قابل اعتراض ہو سکتا تھا۔ مگر تمام صحابہ نے اس پر سکوت اختیار کیا۔ حسین کے سوا کسی نے بھی یزید کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی۔ اصحاب رسول کی یہ خاموشی یقینی طور پر

بز دلی کی بنا پر نہ تھی ، بلکہ اسلامی حکمت کی بنا پر تھی۔

عرب وڈیو ٹیپ کو فیڈ یو ٹیپ (الشریاط التلفزیونی) کہتے ہیں۔ عرب سے آئے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ بعض عرب ملکوں میں سنیما ہاؤس پر پابندی لگائی گئی ہے۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر گھر میں لوگوں نے وی سی آر لگا لیا ہے، اور اس کے اوپر ہر قسم کی فلمیں دیکھتے ہیں۔ انھوں نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا— آپ باہر سنیما ہاؤس بند کریں گے تو گھر میں سنیما ہاؤس کھل جائے گا۔ معاشرہ کا ذہن جب تیار نہ کیا گیا ہو تو اوپر سے اصلاحی احکام نافذ کرنے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔ پروفیسر اقبال عظیم بینائی سے محروم ادیب، شاعر تھے۔ ان کی پیدائش 1913 میں ہوئی (اور وفات 2000 میں ہوئی)۔ ان کی نعتیہ نظم کا ایک شعر یہ ہے :

بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ اس شعر میں عجیب درد اور عجیب گہرائی ہے۔ مگر ایسا شعر صرف ایک ایسا شخص ہی کہہ سکتا تھا جس نے اپنی دونوں آنکھیں کھودی ہوں۔ جس شخص کی دونوں آنکھیں روشن ہوں، اس کی زبان سے ایسا شعر نکل نہیں سکتا۔

اس دنیا کا عجیب نظام ہے۔ یہاں کھونے والا بھی پاتا ہے۔ بلکہ اکثر کھونے والا شخص اس سے زیادہ پالیتا ہے، جتنا کوئی بظاہر پانے والا شخص پائے ہوئے ہو۔

اگر مجھ سے یہ پوچھا جائے کہ دنیا میں سب سے زیادہ کیا چیز ہے، تو میں کہوں گا کہ اس کے بعد اگر دوبارہ یہ پوچھا جائے کہ دنیا میں سب سے زیادہ کم کیا چیز ہے، تو دوبارہ میں کہوں گا کہ تنقید۔

کیوں میں ایسا کہتا ہوں کہ دنیا میں تنقید سب سے زیادہ ہے، اور تنقید ہی سب سے کم ہے۔

اس کی وجہ ایک تنقید اور دوسری تنقید کا فرق ہے۔ تنقید کی ایک صورت بے دلیل اظہار رائے ہے، اور دوسری صورت ہے مدلّل تجزیہ۔ بے دلیل اظہار رائے بلا شبہ آج کی دنیا میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے، مگر مدلل تجزیہ اس کی نسبت سے انتہائی حد تک کم ہے۔ بلکہ شاید اس کا وجود ہی نہیں۔ ایک صاحب ایک بار میری کتاب ’’ظہورِ اسلام‘‘ لے گئے۔ پڑھنے کے بعد میں نے ان سے ان کی رائے پوچھی، تو انھوں نے کہا کہ ’’آپ نے لٹھ ماری ہے۔ ‘‘ میں نے کہا کہ میں نے کسی کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، دلیل سے لکھا ہے، آپ اس کو لٹھ مارنا کیسے کہتے ہیں۔ مگر انھوں نے پھر میں نے کہا کہ آپ کتاب سے کوئی ایک مثال دیجئے، جس میں دلیل سے بات نہ کہی گئی ہو، بلکہ لٹھ ماری گئی ہو۔ مگر انھوں نے کوئی مثال نہیں دی۔ جب میں نے اصرار کیا تو وہ بگڑ اس قسم کی تنقید میرے نزدیک جھوٹی تنقید ہے۔ جو شخص متعین مثال نہ دے سکے، اس کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ مجرد اظہار رائے کرے۔

بعض تنقیدیں ایسی ہیں جن میں بظاہر مثال اور تجزیہ ہوتا ہے۔ مگر وہ نہ مثال ہوتی، اور نہ کیوں کہ اس کی بنیاد تمام تر غلط مثال اور ناقص تجزیہ پر ہوتی ہے۔ مثلاً ’’عظمت قرآن‘‘ پہلی بار چھپی تو اس کا ٹائٹل سبز رنگ کا تھا۔ اس کو دیکھ کر ایک صاحب نے کہا ’’سبز رنگ قذافی کا رنگ ہے، اس لیے یہ کتاب قذافی کے پیسہ سے چھپی ہے۔ حالاں کہ یہ سراسر بے بنیاد بات تھی۔ کتاب کا کچھ بھی تعلق قذافی سے نہ تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ سچی تنقید دنیا کا سب سے زیادہ مشکل کام ہے، اور جھوٹی تنقید دنیا کا سب سے زیادہ آسان کام۔

حضرت عمر فاروق نے فرمایا: تَفَقَّهُوا قَبْلَ أَنْ تُسَوَّدُوا (صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 25)۔ یعنی سردار بننے سے پہلے فقہ حاصل کرو۔ حضرت عمر کے اس قول سے موجودہ زمانہ کے بہت سے لوگ اُس فن کی اہمیت پر استدلال کرتے ہیں، جس کو فقہ کہا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سردار یا قائد کو

فقہ کا علم ہونا ضروری ہے۔

مگر یہ استدلال صحیح نہیں۔ حضرت عمر کے اس قول سے اس فن کی اہمیت ثابت نہیں ہوتی، جو امام ابو حنیفہ اور دوسرے فقہاء کے ذریعہ وجود میں آیا۔ حضرت عمر کے اس قول سے فقہ کی اہمیت ثابت کرنے والے لوگ بھول جاتے ہیں کہ موجودہ فقہ حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں موجود ہی نہ اگر مذکورہ قول کے یہ معنی لیے جائیں تو تمام صحابہ (بشمول عمر فاروق) سرداری اور قیادت کے لیے نااہل قرار پائیں گے۔ کیوں کہ ان کا زمانہ موجودہ فقہ سے پہلے کا تھا۔ چنانچہ ان کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ موجودہ فقہ میں تبحر حاصل کریں۔

حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر کے قول میں تفقه سے مراد حکمت و بصیرت حاصل کرنا ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ سرداری اور قیادت کے لیے دین کا سادہ علم کافی نہیں ہے، بلکہ دین میں گہری بصیرت ضروری ہے۔ گہری بصیرت کے بغیر جو شخص دینی قائد بنے گا، وہ قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں لے جائے گا۔

ٹائم میگزین ( نیو یارک) کے دفتر میں یہ قاعدہ ہے کہ مضامین پریس میں جانے سے پہلے مخصوص اسٹاف کی ایک ٹیم کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔ وہ ان میں مندرج تمام حقائق کو باریک بینی کے ساتھ جانچتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم مقرر ہے، جس کے پاس ایک مکمل قسم کی ریفرنس لائبریری مہیا کی گئی ہے۔ میگزین کی ایک اشاعت (8 اپریل 1974) میں صفحہ اول کا مضمون (cover story) افراطِ زر پر تھا، جس کا عنوان تھا:

Printed page