Al-Risala · September 2020

سیلف کرکشن کی صفت

Al-Risala, September 2020, pp. 11–13

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کے بارے میں اللہ رب العالمین کا منصوبہ کیا تھا۔ قرآن کے اشارات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ نے انسان کے اندر تخلیقی طور پر ایک مزید صفت رکھ دی۔ یہ صفت اس بات کی ضامن تھی کہ انسان جنات سے مختلف مخلوق ثابت ہوگا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے اندر وہ صفت رکھ دی، جس کو قرآن میں نفسِ لوامہ کہا گیا ہے (القیامۃ، 75:2)۔ غلطی پر نادم ہونا۔ غلطی کے بعد اپنا محاسبہ کرنا۔

یہ گویا انسان کی شخصیت میں سیلف کریکشن (self-correction) کا نظام قائم کرنا تھا۔ اس نظام کی بنا پر یہ امید تھی کہ انسان اپنی غلطی کے بعد اپنا محاسبہ کرے گا۔ وہ اپنی غلطی کو درست کرے وہ اپنے عمل کی ری پلاننگ (replanning) کرے گا۔ یعنی انسان اس صفت کا ثبوت دے گا، جس کو آسٹرین عالم نفسیات، الفرِیڈ ایڈلر (1937-1870) نے انسان کی سب سے بڑی صفت

قرار دیا ہے۔ اس کا مخصوص موضوع شخصی نفسیات (individual psychology) ہے۔ ریسرچ کے مطابق اس نے پایا کہ انسان کی خصوصیات میں سے ایک نادر خصوصیت اس کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنے ”نہیں“ کو ”ہے“ میں تبدیل کر سکے :

One of the wonder-filled characteristics of human beings is their power to turn a minus into plus. (The Golden Treasury of WISDOM, B N Bahuguna, Delhi, 1998, p. 139 [Google books])

انسان کی شخصیت میں یہ صفت بلا شبہ ایک نادر صفت ہے، جو صرف انسان کے اندر پائی جاتی اس صفت کی بنا پر انسان جنات کے مقابلے میں یا دوسرے حیوانات کے مقابلے میں ایک ممتاز مخلوق قرار پاتا ہے۔ چنانچہ انسان کی تاریخ بتاتی ہے کہ انسان نے بار بار ایسا کیا ہے کہ وہ ایک غلطی کرنے کے بعد اپنے عمل کی ری پلاننگ کرے، اور اپنی محرومی کو یافت میں بدل دے۔ سفک دماء یا فساد فی الارض کا واقعہ کون کرتا ہے۔ یہ انسان کرتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اس کے اندر مزید ایک برعکس صفت موجود ہوتی ہے، اور وہ ہے ضمیر کی صفت۔ اس کو دوسرے الفاظ میں محاسبہ خویش کی صفت کہا جا سکتا ہے۔ انسان کے ساتھ لازماً ایسا واقعہ پیش آتا ہے کہ جب وہ کسی وجہ سے ایک انتہائی اقدام کر بیٹھتا ہے، اور پھر ایسا ہوتا ہے کہ فطرت کے قوانین کی بنا پر اس کا اقدام باعتبار نتیجہ معکوس (counter productive) اقدام ثابت ہوتا ہے تو اس کے اندر ندامت (repentance) کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اپنی فطرت کی بنا پر اپنے عمل کی ری پلاننگ کرتا انسان کے اندر یہ عمل ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ اس کو کوئی بڑا شاک (shock) اس قسم کے بڑے شاک کے لیے کوئی بڑا واقعہ چاہیے۔ سفک دماء یا فساد فی الارض انسان کی شخصیت میں اسی قسم کا شاک پیدا کرتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ وہ چیز جس کو قرآن میں سفک دماء یا فساد فی الارض کہا گیا ہے، وہ اپنے نتیجہ

کے اعتبار سے انسان کے لیے شاک ٹریٹمنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کے ساتھ جب غیر مطلوب صورت حال پیش آتی ہے تو وہ انسان کے اندر تخلیقیت (creativity) پیدا کرتی ہے۔ وہ انسان کی سوئی ہوئی صلاحیت کو بیدار کر دیتی ہے۔ وہ انسان کے اندر یہ محرک (incentive) جگاتی ہے کہ وہ دوبارہ نئے سرے سے کوشش کر کے کامیابی حاصل کرے ۔

فرشتوں نے انسان کے بارے میں سفک دما ء اور فساد کا اندیشہ ظاہر کیا تھا، اللہ تعالی نے سفک دماء اور فساد کے مقابلے میں ممثبت پہلو کا حوالہ دیا، اور فرشتوں کو مظاہرے کی صورت میں بتایا کہ انسان کی یہ صفت اس کے اندر نئی سوچ پیدا کرے گی، اور وہ ایسے کام کر سکیں گے، جو اس سے پہلے نہ حیوانات نے کیا، اور نہ جنات نے۔

تاریخ کے واقعات کو پیش نظر رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ تھا کہ انسان کو جن اوصاف کے ساتھ پیدا کیا جا رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان کے لیے فساد فی الارض اور سفک دماء جیسے واقعات اپنے عمل پر نظر ثانی (rethinking) کا ذریعہ بن جائیں گے۔ اس طرح اس قسم کے منفی واقعات اس کے لیے مثبت نتیجہ کا سبب بنیں گے۔ وہ بار بار اپنے عمل کی ری پلاننگ کرے گا۔ طرح منفی واقعات باعتبار نتیجہ اس کے لیے شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کا سبب بن اس کو اپنی غلطیوں سے اپنے لیے نیا ڈائریکشن (new direction) ملے گا۔ ہر غیر مطلوب تاریخ کے بعد مطلوب تاریخ بنے گی، اور اس طرح انسان کی تاریخ عملاً صحیح رخ پر سفر کرتی رہے گی، اور اس طرح وہ بڑے بڑے نتائج تک پہنچے گی ۔ اس سلسلے میں چند تاریخ مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ غالباً منفی واقعہ سے ثبت واقعہ نکلنے کا یہی وہ ظاہر ہ ہے جس کو قرآن میں قانون دفع سے تعبیر کیا گیا ہے۔

Printed page