قانون دفع
Al-Risala, September 2020, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ رب العالمین کا ایک قانون وہ ہے، جس کو قرآن میں قانون دفع کا نام دیا گیا ہے۔ کی دو آیتوں میں اس قانون کا ذکر ہوا ہے : وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ
یعنی اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا رہے تو زمین فساد سے بھر جائے (نیز دیکھیے سورہ الحج آیت (40)۔ دفع کا مطلب ہے دور کرنا یا ہٹانا (to repel)۔ یعنی اللہ صاحب اقتدار گروہ کو، جب اس میں جمود آ جائے تو بدل کر دوسرا گروہ اس کی جگہ لاتا ہے۔ قانون دفع کا تعلق جزئی طور پر جہاد سے ہے۔ لیکن وہ وسیعی اعتبار سے اللہ رب العالمین کی عمومی سنت ہے۔ اس کے تحت اللہ انسانی تاریخ میں مداخلت (interference) کرتا ہے، اور انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو غلط رخ پر چلنے سے بچاتا ہے۔ اس طرح انسانی تاریخ اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔ جہاد تو مسلم حکومت کا اپنے دفاع کے لیے ہوتا لیکن دفع کی سنت ایک ایسی سنت ہے، جو عمومی اعتبار سے یہ کام انجام دیتی ہے کہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کا سفر صحیح سمت میں جاری رہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں تاریخ کی کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں۔