Al-Risala · September 2020

ہبوط آدم

Al-Risala, September 2020, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کی پیدائش فطرت کے جس نظام کے تحت ہوئی ہے، اس کے مطابق، انسان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلسل طور پر متحرک رہے۔ حرکت سے انسان کے اندر ترقی ہوتی ہے، اور ٹھہراؤ سے انسان کے اندر جمود (stagnation) آ جاتا ہے۔ اس بنا پر خالق نے یہ مقدر کر دیا کہ انسان کو ہمیشہ شاک لگتا رہے۔ اس بنا پر انسان کے لیے شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کا طریقہ مقرر کیا گیا۔

انسان کی تاریخ میں اس نوعیت کا شاک ٹریٹمنٹ سب سے پہلے آدم اور حوا کے ساتھ پیش آیا، جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔ آدم کو پیدائش کے بعد پہلے مرحلے میں جنت کے باغوں میں بسایا گیا، وہاں اس کے لیے ایک امتحان (ٹیسٹ) مقرر کیا گیا، اور وہ شجر ممنوعہ (forbidden tree) کا ٹیسٹ تھا۔ انسان اپنے مزاج کی بنا پر عزم (طہ، 20:115) کا ثبوت نہ دے سکا۔ چنانچہ اس کے لیے جنت سے بے دخلی (eviction) کا حکم ہوا۔ جنت اول سے یہ بے دخلی ایک اعتبار سے بطور

مواخذہ تھی، اور دوسرے اعتبار سے وہ بطور شاک ٹریٹمنٹ کا معاملہ تھا۔ شاک ٹریٹمنٹ کا یہ طریقہ پوری انسانی تاریخ میں مختلف صورتوں میں جاری رہا۔

Printed page