طوفانِ نوح
Al-Risala, September 2020, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ رب العالمین نے انسان کو پیدا کر کے زمین پر بسایا۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان کی آبادکاری ابتدائی دور میں دریائے دجلہ، اور دریائے فرات کے درمیان عراق کے اس علاقے میں ہوئی جس کو میسوپوٹامیہ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک زرخیز علاقہ تھا۔ یہاں توالد و تناسل کے ذریعہ انسان کی نسل بڑھتی رہی۔ اس علاقے میں انسان لمبے عرصے تک اپنی آزادانہ سرگرمیوں میں مشغول رہا۔ شروع میں لوگ آدم کی شریعت پر تھے۔ لیکن کئی نسل گزرنے کے بعد ان کے اندر جمود ان کے اندر ضعیف الاعتقادی اور بدعملی پیدا ہوگئی۔ ان کی بیداری کے لیے پیغمبر نوح آئے۔ یہ گویا کہ پرامن تبلیغ کے ذریعہ ان کے اندر بیداری لانے کی کوشش تھی۔ لمبی مدت کی پرامن اصلاحی کوششوں کے باوجود ان کے اندر دوبارہ بیداری نہیں آئی۔ اب ان کے اندر نئی زندگی لانے کے لیے ہارش ٹریٹمنٹ (harsh treatment) کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ قوم نوح کے علاقے میں ایک عظیم طوفان (great flood) آیا۔ اس وقت اپنی قوم کے منتخب افراد کو پیغمبر نوح نے ایک کشتی میں بٹھایا، اور اس کشتی کو تیز طوفان میں ڈال دیا۔ قوم نوح کے یہ منتخب افراد ایک مدت تک کشتی میں تیرتے رہے۔ یہاں تک کہ کشتی تیرتے ہوئے جودی پہاڑ پر رکی۔ الجودی کوہستان ارارات کی اس چوٹی کا نام ہے جو جبل وام (Vam) کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس قرب و جوار میں کردوں کی زبان پر آج تک یہ روایت چلی آرہی ہے کہ کشتی نوح یہیں آکر رکی تھی (تفسیر ماجدی، سورہ ھود، حاشیہ (68)۔ اس طوفان کا حوالہ قرآن کی سورہ ھود (11:25-49) میں موجود ہے۔
کشتی کے ذریعہ حفاظت کا یہ مخصوص طریقہ کیوں اختیار کیا گیا۔ اس کا مقصد اولاد آدم کو میسوپوٹامیہ سے منتشر (disperse) کر کے مختلف ملکوں میں پہنچانا تھا۔ چنانچہ یہ لوگ میسوپوٹامیہ
سے کشتی پر سوار ہو کر نکلے اور دھیرے دھیرے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں پھیل بعد کو انسانوں کا ایک گروہ سمندر پار کر کے امریکا پہنچا، اور نئی دنیا آباد ہوئی۔ قوم نوح کے ساتھ یہ جو معاملہ پیش آیا، وہ ایک اعتبار سے سرزنش کا معاملہ تھا، اور دوسرے اعتبار سے اس کا مقصد یہ تھا کہ ان کے جمود کو توڑا جائے، اور ان کو زمین کے وسیع تر حصے میں پھیلنے کا موقع دیا جائے۔ محققین نے بتایا ہے کہ کشتی نوح ایسے مقام پر ٹھہری، جہاں ایشیا، یورپ، اور افریقہ اس طرح قوم نوح کے افراد کو یہ موقع ملا کہ وہ پھیلتے پھیلتے تین براعظموں میں داخل ہو جائیں، اور زمین کے محدود رقبے سے نکل کر زمین کے وسیع تر رقبے میں آباد ہو جائیں۔ قوم نوح کو اس طرح بکھیرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ زمین کے وسیع تر رقبے میں ترقی کے مواقع کو اویل کریں۔ کنگ شپ کا نظام اس دور میں انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) کیا۔ کچھ انسانوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے دنیا میں بادشاہت (kingship) کا نظام قائم کر لیا۔ کے نظام نے وسائل پر اپنی اجارہ داری (monopoly) قائم کرلی۔ اس نظام کے تحت انسان کی آزادی بہت محدود ہو گئی، اور انسان کے لیے ترقی کا دروازہ عملاً بند ہو گیا۔ اب خالق کی مرضی یہ ہوئی کہ اس سیاسی اجارہ داری (political monopoly) کو ختم کر کے تمام انسانوں کو یکساں طور پر عمل کا موقع دیا جائے۔ اس کے لیے ایک انقلاب درکار تھا۔ اس انقلاب کو لانے کے لیے ایک تیار ٹیم (prepared team) کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے اللہ رب العالمین نے پیغمبر ابراہیم کو استعمال کیا۔ پیغمبر ابراہیم نے اپنی فیملی کو لے کر عرب کے صحرا میں ذبح عظیم (الصافات، 107:37) کا ثبوت دیا۔ یہ صحرائی پر اس کا لمبا دور تھا، جو تقریباً ڈھائی ہزار سال کے اندر پورا ہوا۔