Al-Risala · September 2020

رسول اور اصحاب رسول

Al-Risala, September 2020, pp. 16–19

By Maulana Wahiduddin Khan

اس منصوبے کے تحت وہ انوکھی ٹیم تیار ہوئی، جو مطلوب انقلاب کے لیے پوری طرح اہل

اسی پر اس کی تکمیل پر 570 عیسوی میں خالق نے اس نسل میں پیغمبر محمد بن عبد اللہ کو قدیم مکہ میں پیدا کیا۔ انھوں نے ایک اعلیٰ پلاننگ کے تحت اس علاقہ میں توحید کا مشن چلایا۔ اس مشن کے ذریعہ وہ خصوصی نسل پیدا ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ پھر اس نسل کے اندر ایک حکیمانہ عمل کے ذریعہ صحابہ کی جماعت پیدا ہوئی۔ آپ نے ایک منظم جدوجہد کے ذریعہ وہ مطلوب ٹیم تیار کی۔ اس مطلوب ٹیم کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے (ابراہیم ، 14:37)۔ یہ مطلوب ٹیم بلا شبہ ایک تیار ٹیم تھی۔ اس کا مشن یہ تھا کہ قدیم زمانے سے جاری بادشاہت کے نظام کو توڑ دے، اور اس طرح انسانی تاریخ میں تیسرے دور (third phase) کا دروازہ کھلے۔ اس جماعت کو ایک حکیمانہ منصوبہ کے ذریعہ مشن کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ انقلابی واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دورِ شرک کا خاتمہ ہوا، اور تاریخ میں دورِ توحید کا آغاز ہوا۔

اس موقع پر اللہ رب العالمین نے مداخلت کی۔ اس وقت وہ حالات پیدا ہوئے جب کہ اصحابِ رسول کی ٹیم کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنے وقت کے نظامِ بادشاہت کو توڑ کر نئے تاریخی دور کا آغاز اس واقعہ کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: اَلَمۡ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِيۡ اَدۡنَى اۡلۡاَرۡضِ وَهُمۡ مِّنۡ بَعۡدِ غَلَبِهِمۡ سَيۡغۡلِبُوۡنَ فِيۡ بِضۡعِ سِنِيۡنَ لِلَّهِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۡ بَعۡدُ وَيَوۡمَئِذٍ يَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِنَصۡرِ اللَّهِ يَنۡصُرُ مَنۡ يَّشَآءُ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ (5-30:1)۔ یعنی رومی پاس کے علاقہ میں مغلوب ہو گئے۔ اور وہ اپنی مغلوبیت کے بعد عنقریب غالب ہوں گے۔ چند برسوں میں ۔ کے ہاتھ میں سب کام ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے، اللہ کی مدد وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، رحمت والا ہے۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ ظہورِ اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ رومی سلطنت، اور دوسرا، مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے بعد 603ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت ایسے اسباب پیش آئے کہ دونوں عظیم سلطنتوں میں سخت ٹکراؤ ہوا، جس سے یہ دونوں سلطنتیں بے حد کمزور ہو گئیں۔

کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ 616 ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو 610ء میں نبوت ملی۔ اس کے بعد آپ نے مکہ میں دعوت توحید کا کام شروع کیا۔ اس لحاظ سے یہ عین وہی زمانہ تھا جب کہ مکہ میں توحید اور شرک کی کش مکش جاری مکہ کے مشرکین نے سرحدی واقعہ سے نیک فال لیتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے مشرک بھائیوں (مجوس) نے تمہارے اہل کتاب بھائیوں (مسیحی) کو شکست دی ہے۔ ہم بھی تمہارا خاتمہ کر دیں گے۔

اس وقت قرآن میں، حالات کے سراسر خلاف، یہ پیشین گوئی اتری کہ دس سال کے اندر رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آجا ئیں گے۔ رومی مورخین بتاتے ہیں کہ اس کے جلد ہی بعد روم کے شکست خوردہ بادشاہ (ہرقل) میں پر اسرار طور پر تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ 623 ء میں اس نے ایران پر جوابی حملہ کیا۔ 624ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ تک اس نے اپنے سارے مقبوضہ علاقے ایرانیوں سے واپس لے لیے۔ قرآن کی پیشین گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی۔

لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اس دو طرفہ جنگ میں دونوں سلطنتیں انتہائی حد تک کمزور پہلے ساسانیوں نے رومیوں پر فتح حاصل کر کے ان کو کمزور کیا، اس کے بعد رومیوں نے ساسانیوں پر فتح حاصل کر کے انھیں بے حد کمزور کر دیا۔ اس طرح باری باری ایک نے دوسرے کو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ اور تابعین کو یہ موقع ملا کہ وہ اس قدیم جبری بادشاہت کے نظام کو بہ آسانی توڑ دے۔ چنانچہ خلیفہ اول ابوبکر اور خلیفہ ثانی عمر کے زمانے میں جب مسلم فوجیں ساسانیوں اور رومیوں کے علاقے میں داخل ہوئیں تو انھوں نے نہایت آسانی کے ساتھ دونوں سلطنتوں کے اوپر فتح حاصل کر لی۔ ساسانی سلطنت اور بازنطینی سلطنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔ یہ خاتمہ صرف دو سیاسی طاقتوں کا خاتمہ نہ تھا، بلکہ اسی کے ساتھ شرک کا خاتمہ بھی تھا۔

کہ یہ سلطنتیں اس زمانے میں مذہبی جبر کی سرپرست بنی ہوئی تھیں۔ اس طرح ساتویں صدی اور آٹھویں صدی میں پوری دنیا کا سیاسی اور تہذیبی نقشہ بدل گیا، اور پھر ایک تاریخی عمل کے ذریعہ وہ انقلابی واقعہ پیش آیا، جس کا اعتراف فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ اسلام نے زمین کا نقشہ بدل دیا، تاریخ کے روایتی نظام کو ختم کر دیا گیا:

(Islam) changed the face of the Globe...the traditional order of history was overthrown. (Henri Pirenne, A History of Europe, London, 1958, p 46)

اس کے بعد یہ ہوا کہ جن علاقوں میں مشرک بادشاہ حکومت کرتے تھے، وہاں موحد حکمران حکومت کرنے لگے۔ اس وقت عملاً پوری دنیا میں مسلم ایمپائر کا غلبہ قائم ہو گیا۔ اموی ایمپائر، عباسی ایمپائر، اسپینی ایمپائر، مغل ایمپائر، عثمانی ایمپائر، وغیرہ۔ اسی کے ساتھ بڑی تعداد میں چھوٹی چھوٹی سلطنتیں ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں قائم ہو گئیں۔ اس کے نتیجے میں ہر جگہ توحید کا چرچا ہونے لوگ بڑی تعداد میں شرک کو چھوڑ کر دین توحید میں داخل ہونے لگے۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں لکھا ہے کہ اس زمانے کے رواج کے مطابق، عام طور پر انفرادی تبدیلی مذہب نہیں ہوتی تھی، بلکہ لوگ عام طور پر پبلک کنورزن (public conversion) کے اصول پر دین توحید میں داخل ہوتے تھے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، برٹش مورخ پروفیسر آرنلڈ (T W Arnold کی کتاب، دی پر یچنگ آف اسلام)۔

Printed page