Al-Risala · September 2020

اہل ایمان کا رول

Al-Risala, September 2020, pp. 20–22

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلم دور میں یہ ہوا کہ ساری دنیا میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر دین شرک کے بجائے دین توحید کا چرچا ہونے لگا۔ پہلے اگر دنیا میں شرک اور اہل شرک کو وقت کے بادشاہوں کی سرپرستی حاصل

تھی تو اب توحید اور اہل توحید کو حکمرانوں کی سر پرستی حاصل ہونے لگی۔ اس طرح اصولی طور پر یہ ہوا کہ ہر جگہ دین شرک کا غلبہ تقریباً ختم ہو گیا، اور دین توحید کا غلبہ عام طور پر قائم ہو گیا۔ پہلے اگر مظاہر فطرت (nature) کو خدائی کا درجہ حاصل تھا، تو اب فطرت کے خالق کو خدائی کا درجہ حاصل ہو گیا۔ تاہم یہ اصل کام کا نصف حصہ تھا۔ فطرت (nature) کی اعتقادی بالادستی ختم ہو گئی۔ کام کا دوسرا پہلو بھی باقی تھا۔ یعنی فطرت (nature) کے قوانین کو دریافت کر کے ان کو ٹکنالوجی میں مسلم عہد میں یہ ہوا کہ فطرت (nature) پرستش کا موضوع (object of worship) اب دوسرا کام یہ تھا کہ فطرت کو تحقیق کا موضوع (object of investigation) بنایا جائے، فطرت میں چھپے ہوئے قوانین کو دریافت کر کے دنیا میں ٹکنالوجی کا دور لایا جائے، جو اپنی تکمیل تک پہنچ کر جدید تہذیب کا موجد بنے۔ یہ دوسرا کام یورپ کے مسیحی علما نے انجام دیا۔ مسلم فتوحات کے بعد تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس عمل کے نتیجے میں مسلم اقوام کو غیر معمولی عروج حاصل ہوا۔ اسی عروج کا ایک حصہ یہ تھا کہ مسیحی عقیدہ کے مطابق ایشیا میں ان کے مقدس مقامات مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔ یہ صورت حال مسیحی قوموں کے لیے نا قابل برداشت چنانچہ یورپ کی مسیحی سلطنتوں نے متحد ہو کر اس علاقے کو اپنے قبضہ میں لینے کے لیے حملہ اس کے نتیجے میں مسلمانوں اور مسیحی قوموں کے درمیان دو سوسال کی وہ لڑائی چھڑ گئی، جس کو صلیبی جنگ (Crusades) کہا جاتا ہے۔ مگر تقریباً دو سال کی خونی جنگ کے باوجود یورپ کی مسیحی قوموں کو کامل شکست پیش آئی۔ مورخ گبن کے الفاظ میں مسیحی قوموں کو اس جنگ میں ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) کا سامنا کرنا پڑا۔

مسیحی قوموں کے لیے یہ شکست اتنی فیصلہ کن تھی کہ عملاً ان کے لیے یہ آپشن باقی نہ رہا کہ وہ اس صلیبی جنگ کو مزید جاری رکھ سکیں ۔ اس شکست نے یورپ کی مسیحی قوموں میں یہ سوچ بیدار کی کہ ان کے لیے مسلمانوں کے مقابلے میں جنگ کا آپشن باقی نہیں رہا۔ حالات کے دباؤ (compulsion)

پاش پاش (مجموعہ کلام) ، پرواز ملک، ناشر: مکتبہ اشاعت اردو حیدرآباد، کے تحت انھوں نے اپنے لیے نیا آپشن (new option) تلاش کیا۔ یہ آپشن تھاـ جنگی میدان کے بجائے علم کے میدان میں اپنی کوشش لگا دینا۔ ان کے اندر فطرت (nature) کی تحقیق کا ذہن دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ مسیحی قوموں کا ذہن جو جنگ کی اصطلاح میں سوچتا تھا، وہ اب فطرت کی دریافت کی اصطلاح میں سوچنے لگا۔ یہ عمل تقریباً پانچ سو سال تک جاری رہا۔ اس عمل کا نقطۂ انتہا (culmination) وہ واقعہ ہے، جس کو مغربی تہذیب (western civilization) کہا مسیحی قوموں کے لیے یہ ایک ڈائیورزن (diversion) تھا، جو بہ ظاہر خدائی مداخلت اس بارے میں یہ ایک (diversion) کا مرتبہ (divine intervention) کے ذریعہ پیش آیا۔

Printed page