شہادتِ اعظم
Al-Risala, September 2020, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
اس تاریخی عمل کا غالباً آخری دور وہ ہے، جو تقدیر الہی کے تحت غالباً اکیسویں صدی میں پیش آنے والا ہے۔ اس عمل کو قرآن میں گلوبل انذار (الفرقان، 1: اور حدیث میں شہادت اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کا نام دیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی زبان میں بتایا ہے کہ انسانی تاریخ کے آخری زمانے میں ایک واقعہ پیش آئے گا، یعنی شہادت اعظم شہادت اعظم کا مطلب ہے سب سے بڑی گواہی (the greatest witness)۔ کا مطلب ہے زمین پر پیدا ہونے والے انسانوں کو اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے واقف کرانا۔ تاکہ انسان دنیا میں خالق کے اسکیم آف تھنگس سے باخبر ہو کر زندگی اس کام کو قرآن میں انذار کہا گیا ہے۔ انسانی تاریخ کے ہر دور میں انذار کا یہ کام مسلسل طور پر جاری رہا۔ کبھی پیغمبروں کے ذریعے اور کبھی ان مصلحین کے ذریعے جنھوں نے پیغمبر کی نیابت رپو رٹ جاری رھا ہے - میں انداز کے اس کام کو انجام دیا۔