ایک مثال
Al-Risala, September 2020, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
پانی زمین پر زندگی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کو قرآن میں اشاراتی طور پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا یعنی ہم نے آسمان سے برکت والا پانی
سائنسی مطالعے کے ذریعے اس کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ یہ ہیں۔ تقریباً 13.8 بلین سال پہلے سولر سسٹم وجود میں آیا۔ اس وقت زمین کے اوپر صرف گیس تھی۔ پھر گیس کے ذریعے پانی پانی کا فارمولا H2O ہے، یعنی ابتدائی زمانے میں ایسے مالیکیول بنے، جس میں ہائڈروجن کے دو ایٹم ہوتے تھے، اور آکسیجن کا ایک ایٹم۔ اس طرح زمین کے اوپر پانی وجود میں آیا۔ پھر یہ پانی بڑے پیمانے پر سمندر کی گہرائیوں میں جمع ہو گیا۔ ابتداء میں نیچر نے اس پانی میں حفاظت (preservation) کے طور پر نمک (salt) شامل کیا۔ یہ نمک آمیز پانی براہ راست طور پر انسان کے لیے قابل استعمال نہ تھا۔ پھر زمین کے اوپر سورج کی حرارت اور پانی کے تعامل سے حیرت انگیز طور پر بارش کا انتظام ہوا۔ فطری طور پر نمک کا وزن زیادہ تھا، اور پانی کا وزن کم۔ پانی جب سورج کی حرارت سے بھاپ بنا، تو فطری قانون کے تحت نمک الگ ہو گیا، اور پانی الگ۔ پھر یہ ڈیسالینیٹڈ پانی (desalinated water) ہلکا ہونے کی بنا پر فضا میں بلند ہوا، اور پھر آخر کار وہ فطرت کے قانون کے مطابق، پانی بارش بن کر زمین پر برسا۔ اس پانی نے زمین کو سیراب کیا، اور چشموں اور دریاؤں کی صورت میں محفوظ ہو گیا۔
فطرت کے نظام کے تحت یہ ایک سائیکل (cycle) ہے، جو مسلسل طور پر جاری ہے۔
پانی کا یہی نظام ہے، جس نے زمین کو انسان کے لیے حیات بخش سیارہ بنا کر رکھا ہے۔ اگر یہ نظام نہ ہو تو انسان زمین کے اوپر زندہ سماج نہ بنا سکے۔ زمین پر تہذیب کی تشکیل پانی کے بغیر ناممکن ہو اس پورے عمل پر غور کیا جائے، تو اس میں حکمت کے اتنے زیادہ پہلو ہیں، جو انسان کے لیے مائنڈ باگلنگ ظاہر ہ (mind-boggling phenomena) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ زمانے کا انسان ان حقیقتوں سے بے خبر تھا، مگر اب سائنسی مطالعے کے ذریعے یہ حقیقتیں انسان کے علم میں آگئی ہیں۔ ان حقیقتوں کو جاننا انسان کے اتھاہ خزانے کی حیثیت رکھتا ہے۔ موافق اسلام انقلاب یہ سائنسی انقلاب (scientific revolution) پورے معنوں میں ایک موافق اسلام
اس انقلاب کے ذریعہ اللہ کی وہ رحمتیں انسان پر کھلیں، جن کو قرآن میں آیات اللہ، کلمات اللہ، آلاء اللہ جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہی وہ موافق اسلام انقلاب ہے، جس کو مختلف حدیثوں میں تائید دین بذریعہ غیر مسلم اقوام کہا گیا ہے۔ مسند احمد میں یہ بات ان الفاظ آئی ہے: اِنَّ اللَّهَ سَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَهُمُ (مسند احمد، حدیث نمبر (20454)۔ یعنی یقیناً اللہ اس دین کی مدد اس قوم کے ذریعے کرے گا، جن کا اس (دین) میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔
تہذیب جدید (modern civilization) کا یہ انقلاب مختلف پہلوؤں سے بلاشبہ ایک موافق اسلام انقلاب (pro-Islamic revolution) تھا۔ لیکن مسلم رہنما اس حقیقت کو سمجھ نہ وہ مغربی تہذیب، اور مغربی کلچر، اسی طرح مغربی کلونیلزم (colonialism) کے درمیان فرق نہ کر سکے، اور مغربی تہذیب کی اصل حیثیت کو دریافت نہ کر سکے۔ اس لیے موجودہ دور کے مسلم رہنما غیر ضروری طور پر ویسٹوفوبیا (Westophobia) کا شکار ہو گئے۔ وہ مغرب کے خلاف نفرت اور تشدد میں مبتلا ہو گئے۔ جو چیز حدیث کے الفاظ میں تائید دین کی حیثیت رکھتی تھی، اس کو انھوں نے برعکس طور پر دشمنی اور سازش وغیرہ سمجھ لیا۔ بدقسمتی سے ویسٹوفوبیا کی یہ حالت مسلم دنیا میں ابھی تک جاری ہے۔ مگر یہ سوچ قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔