محفوظ دین، محفوظ امت
Al-Risala, September 2020, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: یَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ یعنی اے پیغمبر، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے اترا ہے تم اس کو پہنچاؤ، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا، اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔ منکر لوگوں کو راہ نہیں دیتا۔
قرآن (الحجر، 15:9) میں ہے کہ دین اسلام کے لیے اللہ نے حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اسلام ایک محفوظ دین ہے، قرآن ایک محفوظ کتاب ہے، پیغمبر ایک محفوظ پیغمبر ہے۔ اسی طرح امت
محمدی ایک محفوظ امت ہے۔ حفاظت کا یہ معاملہ کسی فضیلت کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے تخلیقی منصوبے کی بنا پر ہے۔ یہ اس لیے ہے تا کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد بھی قیامت تک انسان کو ربانی رہنمائی ملتی رہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اگر اسلام محفوظ دین نہ رہے، تو انسان کو محفوظ ہدایت نہیں ملے گی ۔ قرآن اگر محفوظ کتاب نہ رہے، تو انسان کے لیے اس دنیا میں مستند رہنمائی کا وجود اگر پیغمبر محفوظ پیغمبر نہ رہے، تو اس کے لیے اپنی دعوتی ذمے داری کو درست طور پر انجام دینا ممکن نہ رہے۔ اسی طرح امت محمدی ایک محفوظ امت ہے۔ اگر یہ امت محفوظ نہ ہو، تو قیامت تک دعوتی ذمے داری کو درست طور پر انجام دینا اس کے لیے ممکن نہ رہے گا۔