Al-Risala · September 2020

حفاظت کا راز

Al-Risala, September 2020, pp. 31–32

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ المائدہ (5:67) میں فرمایا ہے کہ عصمت الناس (لوگوں سے حفاظت) کا راز تبلیغ ما انزل اللہ (اللہ کی نازل کردہ باتوں کی تبلیغ میں ہے۔ یہ عصمت (حفاظت ) براہ راست طور پر پیغمبر سے متعلق ہے، لیکن بالواسطہ طور پر امت محمدی بھی اس خدائی ضمانت میں شامل ہے۔ لیے کہ پیغمبر کی حیثیت خاتم النبیین کی ہے۔ امت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ پیغمبر کی نیابت میں قیامت تک آنے والے لوگوں کو اللہ رب العالمين کا پیغام پہنچاتی رہے۔ اس لیے اللہ کی منصوبہ بندی کا یہ تقاضا ہوا کہ امت محمدی کو بھی حفاظت کی اس ضمانت میں شامل رکھا جائے، تاکہ دعوت الی اللہ کا کام رک کے بغیر قیامت تک جاری رہے۔

یہ حفاظت دنیا کے اعتبار سے ہے، آخرت کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس حقیقت کو حدیث رسول میں امت مرحومہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مرحومہ کا مطلب ہے محفوظ، یعنی حفاظت کی ہوئی امت۔ اس بات کا ذکر مختلف روایتوں میں کیا گیا ہے، ان میں سے تین روایتوں کو یہاں نقل کیا جاتا ہے:

(1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ مِنْ أُمَّةٍ مَرْحُومَةٍ، فَلَا تُنَزَّعُوا ، وَلَا تَطْغَوْا(مساوی (مساوی الاخلاق للخرائطی، حدیث نمبر (571) - ابو ہریرہ سے

روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: بیشک تم لوگ امت مرحومہ میں سے ہو۔ پس بے صبری نہ کرنا، اور نہ سرکشی کرنا۔

(2) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ ، لَا عَذَابَ عَلَيْهَا إِلَّا مَا عَذَّبْتَ هِيَ أَنْفُسَهَا ، قَالَ : قُلْتُ وَكَيْفَ تُعَذِّبُ أَنْفُسَهَا ؟ قَالَ : أَمَّا كَانَ يَوْمَ النَّهْرِ عَذَابٌ ؟ أَمَّا كَانَ يَوْمَ الْجَمَلِ عَذَابٌ ؟ أَمَّا كَانَ يَوْمَ صِفِّينَ عَذَابٌ؟ (مسند ابی یعلی، حدیث نمبر (6204)۔ ابوہریرہ نے کہا : بیشک یہ امت، امت مرحومہ ہے۔ اس پر کوئی عذاب نہیں ہے، سوائے اس کے کہ یہ خود ہی اپنے کو عذاب دے۔ راوی نے پوچھا، اپنے آپ کو کیسے عذاب دیا جاتا ابو ہریرہ نے کہا : کیا یوم النہر عذاب نہیں تھا، کیا یوم الجمل عذاب نہیں تھا، کیا یوم صفین عذاب نہیں تھا۔

امت کے بارے میں نصرت الہی کی ایک اور روایت میں اس طرح آئی ہے: (ترجمہ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اللہ تعالیٰ نے میرے لیے روئے زمین کو سمیٹا، چنانچہ میں نے روئے زمین کو مشرق سے لے کر مغرب تک دیکھا اور یقیناً میری امت کا دائرہ روئے زمین میں وہاں تک پہنچے گا، جو سمیٹ کر مجھ کو دکھایا گیا ہے، اور مجھ کو سرخ اور سفید دو خزانے عطا کیے گئے ہیں، اس وقت میں نے اپنے پروردگار سے درخواست کی کہ اللہ میری امت کے لوگوں کو عام قحط میں نہ مارے، اور یہ کہ میری امت پر اپنے لوگوں کے سوا کسی اور کو مسلط نہ کرے۔

میرے رب نے فرمایا: اے محمد، جب میں کسی بات کا فیصلہ کر لیتا ہوں تو وہ بدلا نہیں جاسکتا، پس تمہاری امت کے لیے میں نے تم کو یہ عطا کیا کہ تمہاری امت کو نہ تو قحط میں ہلاک کروں گا اور نہ خود ان کے علاوہ کوئی اور دشمن ان پر مسلط کروں گا، جو ان کی اجتماعیت پر قبضہ کرلے، اگر چہ ان کے خلاف تمام روئے زمین کے لوگ جمع ہو جائیں ، الا یہ کہ تمھاری امت ہی کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کریں اور ایک دوسرے کو قید و بند میں ڈالیں (حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا، وَيَسْبِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا) صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2889۔

Printed page