تبلیغِ رسالت کا نظام
Al-Risala, September 2020, pp. 34–40
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ کے مقرر کردہ نظام کے مطابق، تبلیغِ رسالت کا نظام یہ ہے کہ اللہ کا پیغام پہلے فرشتوں کے ذریعہ رسولوں تک آتا ہے، اور پھر رسول اس پیغام کو اپنے زمانے کے انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ اصول قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: اَللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ (22:75)۔ یعنی اللہ فرشتوں میں سے اپنا پیغام پہنچانے والا چنتا ہے، اور انسانوں میں سے بھی۔ بیشک اللہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ اس آیت میں اصلاً پیغمبر کے انتخاب کی بات ہے، لیکن تبعاً محمدی کے افراد بھی اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ سنت الہی کے مطابق، پیغمبر کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ لیکن دعوت کام ختم نہیں ہوا، بلکہ وہ پیغمبر کی امتیوں کے ذریعہ بدستور جاری ہے۔ گویا دعوت الی اللہ کے پیغام کے چار مرحلے ہیں۔ پہلے مرحلہ میں اللہ رب العالمین سے دوسرے مرحلے میں فرشتے سے پیغمبر تک، اور تیسرے مرحلے میں پیغمبر کے ذریعہ اپنے معاصر انسانوں تک، اور آخری مرحلے میں امت کے منتخب افراد کے ذریعے عہد بہ عہد تمام انسانوں یہ نظام عین فطرت کے مطابق ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ ذمے داری امت محمدی کے اہلِ علم
کی ہے کہ وہ پیغمبر سے ملے ہوئے دین خداوندی کو ہر زمانے کے انسانوں تک پہنچاتے رہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے، جو قرآن کی اس آیت میں بیان ہوئی ہے: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِیداً (2:143)۔ یعنی اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تا کہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔ پہلے انسان (آدم) سے لے کر محمد بن عبد اللہ (علیہم السلام) تک ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر انسان کی طرف آئے (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ انھوں نے انسان کو بتایا کہ یہ زمین تمھارے لیے ابدی قیام گاہ (eternal habitat) نہیں ہے، بلکہ یہ تمھارے لیے ایک عارضی قیام گاہ (temporary abode) ہے۔ یہاں تمھیں یہ موقع دیا گیا ہے کہ تم اپنی آزادی کا صحیح استعمال کر کے اپنے آپ کو جنت کا مستحق (deserving candidate) بناؤ، اور تاریخ انسانی کے خاتمہ پر جنت کی شکل میں اپنے مطلوب ابدی ہیبیٹاٹ (habitat) میں جگہ پاؤ۔ ساتویں صدی عیسوی میں محمد عربی کے ظہور کے بعد انبیاء کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ مگر خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان پھر بھی پیدا ہو کر زمین پر آباد ہورہے تھے۔ اب یہ سوال تھا کہ بعد کو پیدا ہونے والے انسانوں تک خدائی رہنمائی کی نمائندگی کون کرے۔
ساتویں صدی عیسوی میں ختم نبوت سے پہلے خدا کی طرف سے اس رہنمائی کی ذمہ داری پیغمبروں نے ادا کی۔ اس اعتبار سے تمام پیغمبر امت وسط (middle ummah) کی حیثیت ان کے ایک طرف اللہ رب العالمین تھا اور ان کے دوسری طرف تمام انسان۔ نے اس رہنمائی کو اللہ سے لیا اور پورے معنوں میں ناصح اور امین (الاعراف، 7:68) بن کر اس کو انسانوں تک پہنچایا۔ ختم نبوت کے بعد یہ ذمے داری امت مسلمہ کی ہے کہ پیغمبروں کی طریقے پر تمام انسانوں کو خدا کا پیغام پہنچائے۔ یہی اللہ رب العالمین کا مقرر کردہ دعوت حق کا نظام ہے۔ اس نظام میں جو لوگ واسطہ بنیں، ان کے اوپر فرض ہے کہ وہ اس نظام کے اندر اپنی ذمہ داری کو دریافت کریں، اور پھر پوری تیاری کے ساتھ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں لگ جائیں۔
دعوت کا یہ پرامن کام مکمل طور پر غیر سیاسی (non-political) اور نان کمیونل انداز میں کرنا ہے۔ یہ کہ اس کام کو اس اصول کے تحت انجام دینا چاہیے جس کو قرآن میں تالیف قلب (التوبہ، 9:60) کہا تالیف قلب ایک ابدی اصول ہے۔ وہ کبھی اور کسی حال میں منسوخ ہونے والا نہیں۔ مواقع اویل کرنا نصیحت کا اصول یہ ہے کہ دوسروں کے عمل سے تجربہ (experience) حاصل کیا جائے۔ دوسروں کے تجربے سے جو چیز باعتبار نتیجہ ہلاکت ثابت ہوئی ہو، اس کو چھوڑ دیا جائے، اور ان کے تجربے سے جو مفید سبق حاصل ہوتا ہو، اس کو لے لیا جائے۔ مثلاً یہ کہ جنگ کے منفی تجربے سے سبق لینا، اور جنگ کا طریقہ چھوڑ کر پر امن دعوت کا طریقہ اختیار کرنا۔ اس سلسلے میں صحابی رسول عبد اللہ ابن مسعود کا ایک حکیمانہ قول ان الفاظ میں آیا ہے: اَلْسَّعِیْدُ مَنْ وُّعِظَ بِغَیْرِهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر یعنی سعید وہ ہے جو دوسروں سے اپنے لیے نصیحت حاصل کرے۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر ایسا ہوا کہ انھوں نے ہر قسم کی قربانی کے باوجود صرف کھویا، ان کو کچھ بھی حاصل نہ ہو سکا۔ اب حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ مسلمان بحیثیت مجموعی یوٹرن (U-Turn) لیں ۔ وہ جنگ اور تشدد کے طریقہ کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور پر امن انداز اختیار کرتے ہوئے، دعوت الی اللہ کے کام میں لگ جائیں۔ یہی تاریخ کا تقاضا ہے، اور یہی اسلام کا تقاضا بھی۔
وقت کے ان مواقع کو دعوتی عمل کے لیے کیسے اویل کیا جائے۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کے لیے اسلام کی قدیم تاریخ میں بھی نمونے موجود ہیں، اور سیکولر قوموں کی تاریخ میں بھی۔ انسانی تاریخ اس قسم کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ تاریخ کا مطالعہ بے آمیز ذہن کے ساتھ غیر متاثر ذہن کے ساتھ پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کچھ دروازے اگر بند ہوئے ہیں تو دوسرے دروازے پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ حالات کو سمجھ کر ری پلاننگ کی جائے تو یقیناً مستقبل کی نئی تعمیر کی جاسکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ماضی کی
نا کامیوں کو بھلا یا جائے، اور مستقبل کے امکانات کو لے کر اپنے عمل کا منصوبہ بنایا جائے۔ حضرت یوسف کی مثال قرآن میں پیغمبر یوسف کے واقعہ کو احسن القصص (best story) کا ٹائٹل دیا گیا ہے احسن القصص کا مطلب ہے بہترین طریقہ کار (best method)۔ نے تاریخ میں حضرت یوسف کے ذریعہ ایک عملی مثال قائم کی، اور اس طرح ہر زمانے کے اہل ایمان کو یہ ہدایت دی کہ تم اپنے حالات کے اعتبار سے اس کامیاب طریقہ کار کو اختیار کرو۔ اسلام کو قرآن میں جو حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں، ان میں سے ایک حکمت وہ ہے جو پیغمبر یوسف کے حوالے سے قرآن میں آئی ہے۔ اس طریقہ کار کا خلاصہ تھا اٹھاریٹی کے ساتھ ٹکراؤ نہ کرنا، اور موجود مواقع کو پرامن انداز میں استعمال کرنا۔
پیغمبر یوسف کنعان میں پیدا ہوئے، جو اب الخلیل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا زمانہ بقول اغلب 1910 تا 1800 ق م کا ہے۔ ان کے ساتھ کچھ خاندانی اسباب پیدا ہوئے، اور وہ فلسطین سے نکل کر مصر پہنچ گئے۔ اس زمانے کا مصر کا بادشاہ ان سے متاثر ہوا، اور اس نے آپ کو اپنی سلطنت میں پورے ملک کی زراعت کا انچارج بنا دیا۔
پیغمبر یوسف ایک گاؤں سے نکل کر مصر پہنچے۔ ان کو یہ غیر معمولی کامیابی کیسے حاصل اس کا راز یہ تھا کہ انھوں نے مصر میں اس وقت کے بادشاہ سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ ایسا طریقہ اختیار کیا، جس کو پولیٹیکل ایڈجسٹمنٹ کہا جاسکتا ہے۔ وہ پولیٹیکل ایڈ جسٹمنٹ یہ تھا کہ پیغمبر یوسف اس پر راضی ہو گئے کہ حکومت کے تخت پر مشرک بادشاہ بدستور قائم رہے، لیکن ملک کے خزائن (زرعی نظام) پیغمبر یوسف کے ہاتھ میں ہو۔
یہ قصہ قرآن اور بائبل دونوں میں آیا ہے۔ بائبل (پیدائش ،41:40) میں اس کا ذکر ان الفاظ میں ہے— سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی ۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا :
پیغیمر یوسف کے قصے کو قرآن میں احسن القصص یعنی بہترین طریقہ کار (best method) قرار دیا گیا ہے۔ یہ بہترین طریقہ کار کیا تھا، جس نے پیغمبر یوسف کو قدیم مصر میں اعلیٰ مواقع عطا کر دیے ۔ وہ طریق کار ایک لفظ میں یہ تھا۔ سیاسی اقتدار کے ساتھ پولیٹکل اپوزیشن کے بجائے پولیٹکل ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کرنا۔ یہ طریقہ جو پیغمبر یوسف نے اختیار کیا، وہ قدیم زمانے میں بھی سب سے زیادہ کامیاب طریقہ تھا، اور موجودہ زمانے میں بھی وہ سب سے زیادہ کامیاب طریقہ ہے۔ حضرت یوسف کے زمانے میں یہ طریق کار مصر کے ایک بادشاہ کے ذاتی ذوق کی بنا پر ممکن موجودہ زمانے میں انسانی تاریخ ایک نئے دور میں پہنچ چکی ہے۔ اب جدید دور کے مسلمہ اصول (accepted norm) کے تحت یہ ممکن ہو گیا ہے کہ احسن القصص کا اعادہ زیادہ وسیع پیمانے پر کیا جائے، اور دعوت کو احسن القصص کے اصول پر منظم کر کے عالمی کامیابی حاصل کی جائے۔ رسول اللہ کا طریق کار پرامن منصوبہ بندی کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں قدیم مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ آپ کا مشن اللہ کی توحید کا مشن تھا۔ مکہ کی عملی صورت حال یہ تھی کہ پیغمبر ابراہیم کے بنائے ہوئے مقدس کعبہ کو بعد کے لوگوں نے بت پرستی کا مرکز بنا دیا تھا۔ کی عمارت میں تقریباً 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ پیغمبر اسلام اپنے ابتدائی دور میں تیرہ سال مکہ میں تاریخ بتاتی ہے کہ ان تیرہ سالوں میں آپ نے کبھی عملی طور پر اس پر احتجاج نہیں کیا کہ تم لوگوں نے پیغمبر ابراہیم کے کعبہ کو بتوں کا مرکز کیوں بنا دیا، اس کو یہاں سے ہٹاؤ، اور دوبارہ اس کو کعبہ کے بانی کی بنیاد پر قائم کرو۔
پیغمبر اسلام کا یہ عمل ایک غیر معمولی عمل تھا۔ یعنی کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا توحید کا مشن جاری کرنا۔ مگر حدیث کے پورے ذخیرہ میں ایسا کوئی حوالہ موجود نہیں کہ اس کا سبب کیا تھا۔ گویا کہ یہ واقعہ ابھی تک بلا توجیہہ (unexplained) پڑا ہوا ہے۔ یقیناً اس واقعہ کا
کوئی معقول سبب موجود ہوگا۔ جب وہ کتابوں میں لکھا ہوا موجود نہیں ہے، تو ہمیں چاہیے ہم اس کو اس دریافت کے ذریعہ جو سبب معلوم ہو، اس کو مبنی براستنباط سنت کا درجہ دیا جائے گا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈی لنکنگ پالیسی (delinking policy) کی سنت یعنی پیغمبر اسلام نے دیکھا کہ کعبہ میں بتوں کی موجودگی بلاشبہ ایک غیر مطلوب فعل ہے۔ ان بتوں کا معاملہ یہ تھا کہ وہ عرب میں پھیلے ہوئے تمام قبائل کے بت تھے۔ ان بتوں کی وجہ سے عرب کے تمام قبائل کے لوگ روزانہ مکہ آتے، اور اپنے بتوں کی زیارت کرتے۔ اس بنا پر کعبہ سارے عرب کے لوگوں کا اجتماع گاہ بن گیا تھا۔ یہ اجتماع عملاً پیغمبر اسلام کے لیے آڈینْس (audience) کی حیثیت رکھتا تھا۔ گویا کہ ان بتوں کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ مشرکانہ کلچر کی علامت دوسرا پہلو یہ تھا کہ ان کی وجہ سے پیغمبر اسلام کو یہ موقع مل رہا تھا کہ آپ سارے عرب کا سفر کیے بغیر خود مکہ میں عرب کے تمام قبائل کو اپنا موحدانہ پیغام پہنچا سکیں ۔ چنانچہ آپ نے اس معاملے میں ڈی لنکنگ پالیسی اختیار کی۔ یعنی کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کر کے آپ نے زائرین کو لیا، اور ان کو خدا کا پیغام براہ راست طور پر پہنچانا شروع کر دیا۔
اس اصول کو پیغمبر اسلام کی اہلیہ عائشہ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے: مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اِخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو طریقوں میں سے ایک طریقہ کو اختیار کرنا ہوتا آپ ہمیشہ ان میں سے آسان طریقہ کا انتخاب کرتے تھے۔ اس اصول کی بنیاد پر اگر فارمولا بنایا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ مسئلے کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو:
Ignore the problem, avail the opportunity سیکولر دنیا کی مثال جدید تاریخی واقعات بتاتے ہیں کہ جو قو میں فرسٹ ورلڈ وار (1918-1914) اور سکینڈ ورلڈ وار (1945-1939) میں شامل تھیں، تجربے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ ان جنگوں میں انھوں نے
صرف نقصان اٹھایا۔ جنگ کا طریقہ ان کے لیے کاؤنٹر پروڈکٹیو ثابت ہوا۔ اس تجربے کے بعد ان قوموں کے قائدین نے دوبارہ غور کیا۔ انھوں نے پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لیا۔ اس کے بعد حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے انھوں نے وہ طریقہ اختیار کیا، جس کوری پلاننگ کا طریقہ کہا جاتا ہے۔ انھوں نے جنگ کا طریقہ چھوڑ دیا، اور مکمل معنوں میں امن کا طریقہ اختیار کر لیا۔ نے یہ کیا کہ اپنی عظیم سلطنت (empire) کو خود اپنے اختیار سے ختم کر دیا، اور اپنی سلطنت کو صرف برطانیہ تک محدود کر لیا۔ فرانس نے اپنی افریقی مقبوضات کو یک طرفہ طور پر چھوڑ دیا۔ جرمنی نے یہ کیا کہ ایسٹ جرمنی کو چھوڑ کر ویسٹ جرمنی کی تعمیر وترقی میں لگ گیا۔ جاپان نے مکمل طور پر جنگ اور تشدد کا طریقہ چھوڑ دیا، اور جاپان کی پرامن ترقی میں مصروف ہوگئے، وغیرہ۔