ڈی لُنکنگ کا اصول
Al-Risala, September 2020, pp. 42–45
By Maulana Wahiduddin Khan
خلیفہ دوم عمر فاروق کے زمانے کا واقعہ ہے۔ مسلمانوں کا مقابلہ ایرانی ایمپائر سے پیش آیا۔ مسلمان جب پیش قدمی کرنے لگے تو ایرانی فوج کے سپہ سالار رستم نے مسلم فوج کے سردار سعد بن وقاص کے پاس پیغام بھیجا کہ تم اپنا نما ئندہ گفت و شنید کے لیے بھیجو۔ وہ دربار میں پہنچے تو رستم نے اُن سے کہا کہ تم لوگ کیوں ہمارے ملک میں آئے ہو۔ اس سوال کے جواب میں ربعی بن عامر نے کہا: اللَّهَ ابْتَعَثَنَا لِنُخْرِجَ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ (البداية والنهاية، جلد 7، صفحہ یعنی اللہ نے ہم کو بھیجا ہے، تا کہ جو چاہے، اُس کو ہم انسان کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت میں لے آئیں۔ اس واقعے سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے اور وہ ہے فرقان کا اصول، یعنی دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنا۔ صحابی کے قول کا مطلب یہ تھا کہ تم ہم کو حملہ آور نہ سمجھو، ہم دراصل تہذیب توحید کے نقیب (harbinger) بن کر آئے ہیں۔ ہم تمھارے لیے رحمت ہیں، نہ کہ کوئی مسئلہ۔
یہی معاملہ دورِ جدید کا ہے۔ دورِ جدید اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک موافق اسلام دور ہے، نہ کہ مخالف اسلام دور۔ دورِ جدید کو مخالف اسلام دور بتانا، صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی دورِ جدید کی الف ب بھی نہیں جانتا۔ ایسا آدمی دراصل مسلم قومی ذہن کے تحت سوچ رہا ہے اور غلط فہمی کی بنا پر اس کو وہ اسلام کے اوپر منطبق کر رہا ہے۔
دورِ جدید کیا ہے۔ دورِ جدید عقلی طرز فکر (rational thinking) کا نام ہے، اور عقلی طرز فکر مکمل طور پر اسلام کے لیے مفید ہے۔ دورِ جدید مذہبی آزادی کا دور ہے، اور مذہبی آزادی مکمل طور پر اسلام کے لیے مفید ہے۔ دورِ جدید کمیونی کیشن کا دور ہے، اور کمیونی کیشن مکمل طور پر اسلام
کے لیے مفید ہے۔ دورِ جدید پرنٹ میڈ اور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے، اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا یا مکمل طور پر اسلام کے لیے مفید ہے، وغیرہ۔ ایسی حالت میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ دورِ جدید کے موافق اسلام پہلوؤں کو دریافت کر کے اس کو اسلام کے حق میں استعمال کریں۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جب نو آبادیاتی غلبہ کا دور آیا تو مسلم دنیا کے تمام رہنما، علما اور غیر علما دونوں اُن سے لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اس لڑائی میں انھوں نے غیر معمولی قربانیاں پیش کیں، لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ مسلم رہنما اگر صحابی رسول کی اس مثال سے سبق لیتے اور اس کو موجودہ صورت حال پر منطبق کرتے اور وہ کہتے کہ یہ نو آبادیاتی قومیں سادہ طور پر صرف حملہ آور نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک نئی تہذیب کے نقیب (harbinger of a new civilization) لہٰذا ہم کو چاہیے کہ ہم اُن سے لڑنے کے بجائے، اُن سے نئے ترقیاتی ذرائع کو سیکھیں۔ ہمارے رہنما اگر اس طرح ایک پہلو کو دوسرے پہلو سے الگ کر کے دیکھتے اور اس کے مطابق ، وہ اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرتے تو آج امتِ مسلمہ کی تاریخ مختلف ہوتی۔ آج مسلمان شکر کرنے والا گروہ ہوتے، جب کہ آج مسلمان صرف شکایت اور احتجاج کرنے والا گروہ بنے ہوئے ہیں۔ دورِ جنگ کا خاتمہ دنیا میں قدیم زمانے سے قوموں کے درمیان جنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ اس نامتناہی سلسلۂ جنگ کا سبب یہ تھا کہ قدیم زمانے میں جنگ اور صلح کی کوئی ایسی معلوم حد موجود نہ تھی، جو قوموں کے درمیان تسلیم شدہ ہو۔ اسلام نے صلح حدیبیہ کے بعد اس دورِ صلح کا آغاز کیا۔ اس کے بعد دنیا میں بین الاقوامی سطح پر ایک تاریخی عمل (historical process) کا آغاز ہوا۔ اس عمل کا نقطۂ انتہا 1945 تھا، جب کہ تمام قوموں کے اتفاق رائے سے اقوام متحدہ (UN) کا قیام عمل میں آیا۔ اقوام متحدہ کے قیام سے بین الاقوامی طور پر ایک مشترک پلیٹ فارم وجود میں آیا۔ تمام قوموں کے ذمہ دار نمائندے اکٹھا ہوں، اور با اختیار انداز میں اجتماعی فیصلے کریں۔ پلیٹ فارم کے ذریعے اس سلسلے میں پہلا اہم کام یہ ہوا کہ قوموں کی جغرافی حدیں متعین ہوئیں ۔
نیشن اسٹیٹ (nation state) تھی۔ اس سے یہ طے ہوا کہ ہر قوم کی ایک معلوم حد ہے، اور کسی قوم کو یہ حق نہیں کہ وہ اس معلوم حد کی خلاف ورزی کرے۔
اسی طرح قوموں کے اتفاق رائے سے یہ اصول طے ہوا کہ باہمی اختلافات کا تصفیہ اقوام متحدہ کے تحت امن کی میز پر ہوگا، نہ کہ جنگ کے میدان میں۔ اس طرح دنیا میں پہلی بار یہ ہوا کہ تقریباً ایک سو قوموں کی جغرافی حدیں مقرر ہوگئیں، اور اس طرح جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کی ایک آیت میں یہ جو الفاظ آئے ہیں: حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا (47:4)۔ تک کہ جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے۔ اس میں اسی حتی (حد) کی پیشین گوئی تھی، جو بیسویں صدی کے نصف آخر میں پوری ہوئی۔ قرآن کی یہ آیت کسی وقتی معاملے کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ ایک مستقل تصفیے کے لیے ہے، جو اقوام متحدہ کے ذریعے بین اقوامی اسٹیج پر طے ہوا۔ اس اس آیت میں ایک بین اقوامی پر اس کی تکمیل کا اعلان ہے، نہ کہ ایک وقتی اور محدود معاملے۔ یہ آیت ایک تاریخی تکمیل کو بتاتی ہے، جس کے بعد پر امن دعوت کے مواقع آخری طور پر کھل گئے۔
اسلام کے ذریعے ایک عالمی عمل جاری ہوا، جس کی تکمیل جدید تہذیب کی صورت میں ہوئی، اور رسول اللہ کی پیشین گوئی پوری ہوئی کہ اللہ اس دین کی تائید سیکولر قوموں کے ذریعے کرے گا۔ دور امن کی طرف قرآن میں اصحاب رسول کو ایک حکم ان الفاظ میں دیا گیا تھا: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ (2:193)۔ یعنی اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین (سب) اللہ کا ہوجائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو اس کے بعد جارحیت نہیں ہے، مگر ظالموں پر۔
قرآن کی اس آیت کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں کہا گیا ہے کہ جنگ کرو یہاں تک کہ فتنے کا خاتمہ ہوجائے، دوسرے حصے کے الفاظ یہ ہیں کہ "دین اللہ کا ہوجائے"۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلے مطلوب کے لیے لڑنا ہوگا، اور دوسرا مطلوب اپنے آپ حاصل ہو جائے گا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا
ہے کہ ابتدائی تخلیق کے مطابق انسانی دنیا میں فطری حالت قائم تھی، اور فطری حالت امن کی حالت لیکن بعد کو ایسا ہوا کہ دنیا میں ڈسپاٹک کنگ (despotic king) کا زمانہ آیا۔ انھوں نے یہ کیا کہ حالت فطری کو ختم کر کے اس کی جگہ غیر فطری حالت قائم کردی، یعنی جبر و تشدد کی حالت۔ حالت اللہ کو منظور نہ تھی، کیوں کہ یہ حالت اللہ کے منصوبہ تخلیق کے خلاف تھی ۔ چنانچہ اللہ نے اپنے رسول اور اصحابِ رسول کو یہ حکم دیا کہ جن لوگوں نے انسانی دنیا میں خود ساختہ طور پر تشدد کی حالت قائم کر رکھی ہے، اس کو بزور طاقت ختم کردو، تا کہ دوبارہ دنیا میں حالت فطری قائم ہوجائے۔ قدیم زمانے میں مذہبی تشدد (religious persecution) اسی بنا پر قائم تھا۔ اصحابِ رسول کو اپنے زمانے کے اربابِ اقتدار سے جنگ کرنا پڑا۔ یہی وہ تاریخی انقلاب ہے، جس کی طرف بائبل میں ان الفاظ اشارہ کیا گیا ہے : اس نے نگاہ کی، اور قومیں پراگندہ ہوگئیں، ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے، قدیم ٹیلے جھک گئے (حبقوق، 3:6)۔ یہ واقعہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے وقوع پذیر ہوا۔ اصحابِ رسول نے اس وقت کے جبری نظام کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد دنیا میں ایک نئے دور کا پرامن شروع ہو گیا، یعنی جنگ کے دور کا خاتمہ اور امن کے دور کا آغاز۔ تاریخ میں کوئی بڑا واقعہ اچانک نہیں ہوتا، بلکہ وہ تاریخی عمل (historical process) کی صورت میں ابتدائی حالت سے شروع ہو کر تکمیل کی حالت تک پہنچتا ہے۔ تاریخ میں اس دور امن کا آغاز اہل اسلام نے کیا تھا۔ بعد کے زمانے میں آزادی اور جمہوریت (freedom and democracy) کا جو دور آیا، وہ اسی آغاز کا منتہا (culmination) ہے۔ اکیسویں صدی میں اب ہم اسی دور امن میں جی رہے ہیں۔ اب قرآن کے الفاظ میں دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو چکا یعنی یہ ممکن ہوگیا ہے کہ پرامن طریق کار کو استعمال کرتے ہوئے ، اپنے مقصد کو نارمل کورس (normal course) میں حاصل کر لیا جائے ۔