Al-Risala · September 2020

امن کی اشاعت

Al-Risala, September 2020, pp. 45–48

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ السَّلَامَ اِسْمٌ مِنْ اَسْمَاءِ

اللَّهَ وَضَعَهُ اللَّهُ فِي الْأَرْضِ فَأَفْشُوهُ بَيْنَكُمْ (الادب المفرد، حدیث نمبر 989) ۔ یعنی بیشک السلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، جس کو اس نے زمین میں رکھا ہے، تو اس کو تم لوگ آپس میں اس حدیث میں السلام کا لفظی مطلب ہے، امن (peace)، سلامتی، چین وسکون، امان و حفاظت، صلح جوئی، وغیرہ۔

اس حدیث میں اللہ کے نام سے مراد اللہ کا مطلوب ہے۔ یعنی اللہ کی مطلوبات میں سے ایک مطلوب وہ ہے، جس کو ہم اپنی زبان میں امن کہتے ہیں۔ اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ امن (peace) کو اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ انسانوں کے درمیان امن کا ماحول قائم ہو۔ اللہ کو مطلوب ہے کہ انسانوں کا معاشرہ امن کا معاشرہ ہو۔ کیوں کہ جہاں امن ہوگا، وہاں تمام مطلوبات الہی کی اشاعت اعلیٰ سطح پر ممکن ہو جائے گی ۔ جہاں امن ہے، وہاں عبادت کا ماحول ہے ۔ جہاں امن ہے، وہاں اللہ کے پیغام کو پھیلانے کا ماحول ہے۔ جہاں امن ہے، وہاں تعلیم اور دعوت، وغیرہ کا کام کرنا سماج کے اعتبار سے امن کی حیثیت خیر مطلق (absolute good) کی ہے۔ ہے، تو سب کچھ ہے، اور امن نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہر سماجی ترقی امن کے ماحول میں ممکن ہے۔ امن کے ماحول کا مطلب ہے فطری ماحول ۔ خالق کا بنایا ہوا فطری ماحول ہمیشہ پر امن ماحول ہوتا ہے۔ پر امن ماحول میں مثبت مزاج پھیلتا ہے۔ پر امن ماحول میں یہ موقع ہوتا ہے کہ انسان کسی مزاحمت کے بغیر ہر اچھے کام کو انجام دے سکے۔ امن کا ماحول ہر مفید اور تعمیری کام کے لیے کسی بھی سماج میں امن کا ماحول لانے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے اندر مخالف امن سرگرمیاں ختم ہو جائیں ۔ مخالف امن سوچ موجود نہ رہے۔ امن کا ماحول تعلیم کے ماحول سے شروع تعلیم کے ذریعے وہ ذہن بنتا ہے، جو سماج کے لیے تعمیری کام کرتا ہے۔ تعلیم، قدیم اور جدید جدید دور میں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں تمام علوم کو از سر نو مدون کیا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے قدیم روایتی دور کو بالکل بدل دیا ہے۔ چنانچہ قدیم زمانے میں تعلیم کا مقصد یہ ہوتا

تھا کہ زندگی کی قائم شدہ روایات کو باقی رکھنے کے لیے تربیت یافتہ افراد مہیا کرنا۔ مثلاً مذہب کے رسوم کو درست طور پر ادا کرنے کے لیے تربیت یافتہ افراد کو مہیا کرنا ہے۔ موجودہ زمانے میں تعلیم کا مقصد یہ ہو گیا ہے کہ ریسرچ و تحقیق کے ذریعے زندگی کے نئے راستے تلاش کرنا، اور تہذیب کی ترقی کے سفر کو مسلسل طور پر آگے بڑھانا ہے۔

موجودہ زمانے میں تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ اپنے آپ کو وقت کے تقاضے کے مطابق تیار کیا تاکہ انسان ترقی کی دوڑ میں اپنا سفر جاری رکھ سکے۔ قدیم زمانے میں تعلیم عملاً ایک جامد ڈسپلن کی حیثیت رکھتی تھی۔ موجودہ زمانے میں تعلیم ایک تخلیق سرگرمی (creative activity) کا قدیم زمانے میں تعلیم کا تعلق کچھ محدود لوگوں سے ہوتا تھا۔ موجودہ زمانے میں تعلیم کا تعلق زندگی کے تمام شعبوں سے ہو گیا ہے۔ قدیم زمانے میں تعلیم کا نشانہ یہ نہیں ہوتا تھا کہ بنی نئی چیزوں کو دریافت کیا جائے، تا کہ تہذیب کے ارتقا میں ان کا استعمال ہو۔ موجودہ زمانے میں تعلیم ایک انقلابی عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس کو ایک مثال کے ذریعے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ قدیم زمانے میں تعلیم گویا ایک نئی بنائی عمارت کا نام ہوتا تھا، جس کی وقت وقت پر صفائی کر دی جائے اور وائٹ واش کر دیا جائے۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانے میں تعلیم یہ ہے کہ نئی نئی دریافتوں کے مطابق نئی نئی عمارت کھڑی کی قدیم زمانے میں تعلیم کا مقصد زندگی کے روایتی ڈھانچہ کو برقرار رکھنے کا نام ہوتا تھا۔ زمانے میں تعلیم کا اصل مقصد یہ تھا کہ سماج کے اقدار (values)، آداب، تہذیب، وغیرہ کو اگلی نسل میں منتقل کرنا، تا کہ سماجی روایت جاری رہے۔ موجودہ زمانے میں تعلیم ایک ترقی پذیر عمل کا نام ہے، جو بہتے ہوئے دریا کی مانند آگے بڑھتا ہے، اور ترقی کے سفر میں بنیادی رول ادا کرتا ہے۔ قدیم دور میں اپنی روایت سے نکل کر سوچنا نادرست سمجھا جاتا تھا، خواہ وہ توہمات پر مبنی کیوں جو ایسا کرتا اس کا بائیکاٹ کیا جاتا تھا۔ اس پر ظلم کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس، جدید دور میں روایت شکنی سب سے بڑی خوبی کی بات ہے۔ یہ انسان کو موقع دیتی ہے کہ انسان ڈی کنڈیشنڈ

مائنڈ کے ساتھ سوچے، اور میرٹ (merit) کی بنیاد پر کسی چیز کو رد یا قبول کرے۔ شیطان کا چیلنج انسان کی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم دور میں انسانوں کی بڑی تعداد کو شیطان نے یہ سکھایا کہ مخلوق میں بھی خدائی (divinity) ہوتی ہے۔ چنانچہ بیشتر انسان مخلوق کے پرستار بن گئے۔ اس روایتی کنڈیشننگ کا توڑا، انھوں نے پچھلے تقریباً چار سو سال کی تحقیق کے بعد بتایا کہ مخلوقات میں خدائی (divinity) نہیں۔ سائنس دانوں کی ریسرچ سے یہ ثابت ہو گیا کہ خالق الگ ہے، اور مخلوق مغرب کے سائنس داں حدیث کے الفاظ میں مؤیدین دین تھے (مسند احمد، حدیث نمبر یہ وہ لوگ تھے، جن کے ذریعے دریافت شدہ علم نے دین کی تائید کا کام انجام دیا ہے۔ لیکن شیطان نے مسلمانوں کے دلوں میں یہ ڈال دیا کہ اہل مغرب تمھارے دشمن ہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی چیلنج تھا، جو شیطان نے آدم کی تخلیق کے وقت اللہ رب العالمین کو ان الفاظ میں دیا تھا: وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ (7:17) ۔ یعنی تو بیشتر انسانوں کو اعتراف کرنے والا نہ پائے گا۔ چنانچہ مغرب سے دشمنی کی بنا پر مسلمان اس اہم چیز سے دور ہو گئے، جس کو سائنٹفک ڈیٹا کہا یعنی ہمارے علما نے اہل مغرب سے دشمنی کی بنا پر ان کی زبان اور ان کے ذریعے دریافت شدہ سائنس کو نہیں پڑھا، اس بنا پر وہ جدید سائنسی دریافت سے بے خبر ہو گئے۔ اس طرح مسلمان ان تمام کائناتی نشانیوں سے دور ہو گئے، جو اللہ رب العالمین کے وجود کا علمی ثبوت فراہم کرنے والے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہوا کہ وہ اللہ پر سچا ایمان رکھنے والے نہ بن سکے۔ وہ لوگ اگرچہ اللہ کے منکر تو نہیں بنے، لیکن اللہ ان کی زندگی کا ایک رسمی ضمیمہ بن کر رہ گیا۔

Printed page