Al-Risala · September 2020

عصری اسلوب میں دعوت

Al-Risala, September 2020, pp. 49–50

By Maulana Wahiduddin Khan

اس وقت جو رول اہل ایمان کو انجام دینا ہے، وہ ہے وقت کے مطابق اعلیٰ ذہنی مستویٰ (higher intellectual level) پر دعوت الی اللہ کا کام انجام دینا۔ یہ کام سائنسی دریافتوں کے ذریعہ بالقوۃ طور پر (potentially) انجام پا چکا ہے۔ اب اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس بالقوۃ کو بالفعل (actual) بنائیں ۔ وہ فطرت (nature) میں دریافت کردہ حقیقتوں کو ربانی شہادت کے طور پر دنیا کے سامنے لائیں۔

اس کام کا اصل نشانہ یہ ہے کہ خدا کے ہدایت نامہ قرآن کو دنیا کی ہر زبان میں معیاری ترجمہ کر کے اس کو تمام قوموں تک پہنچانا، تا کہ دنیا یہ جانے کہ جن حقیقتوں کو موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیق کے طور پر انسان نے دریافت کیا ہے، وہ حقیقتیں پیشگی طور پر قرآن میں "آیات" کی زبان میں بتا دی گئی تھیں۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ کلمۂ اسلام ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچ جائے (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ اس کا مطلب ہے قرآن کا گلوبل ڈسٹری بیوشن ، یعنی قرآن کو ہر قوم کی قابل فہم زبان میں پہنچا دینا۔ اس کام میں اصل اہمیت قرآن کے اشاعت کی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ قرآن کی ضروری تشریح کرنا بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ کے لیے ایک مددگار لٹریچر (supporting literature) بھی ضروری ہے، جو قرآن کو لوگوں

کے لیے ان کے اپنے مائنڈ سیٹ کے اعتبار سے قابل فہم (understandable) بنادے۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی میں اترا۔ اول دن سے یہ مطلوب تھا کہ قرآن عالمی سطح پر انسانوں کے درمیان پہنچے۔ اس کام کی کچھ شرطیں تھیں، وہ شرطیں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے پوری ہو چکی ہیں۔ صرف یہ کام ہے کہ کچھ لوگ اٹھیں، اور قرآن کو عالمی سطح پر لوگوں تک پہنچا دیں۔ اللہ کی توفیق سے پہلا کام یہ ہوا کہ قرآن کے متن کو امت نے پوری طرح محفوظ کر دیا۔ کے متن کو اس طرح محفوظ کر دیا گیا کہ اب اس کے مستند ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اسی کے ساتھ وہ تمام اسباب مکمل طور پر فراہم کر دیے گئے، جوان سب کے لیے ضروری تھے۔ مثلاً (1) پرنٹنگ پریس کا وجود میں آنا۔ (2) عالمی کمیونی کیشن، اس کے تحت قرآن تمام لوگوں کے لیے قابل حصول ہو گیا۔ (3) انٹر نیشنل زبان، یعنی انگریزی زبان کا وجود میں آنا۔ تعصب کا خاتمہ۔ (5) علمی انفجار (knowledge explosion)۔ (6) عالمی سطح پر نقل و حمل کی (7) اسپرٹ آف انکوائری۔ (8) مذہبی افہام و تفہیم (religious understanding) کا کھلا ماحول۔ (9) حاملین قرآن کے پاس وسائل کی مکمل موجودگی، مثلاً تیل اور گیس کے ذخائر کا (10) امن کو خیر اعلیٰ کی حیثیت دینا۔ (11) بین مذاہب تعلقات پر زور۔ (12) اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے مذہبی اشاعت کی کامل آزادی کا معاہدہ۔ (13) سائنسی تحقیقات کے ذریعے آفاق وانفس کی نشانیوں کا ظاہر ہونا۔ (14) ماڈرن انسان کسی بات کو اس وقت قبول کرتا ہے، جب کہ بات ریزن کو اپیل کرتی ہو، وغیرہ۔

یہ تمام ظاہرے دعوت الی اللہ کے حق میں ہیں۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ قرآن کی اشاعت کا کام بھر پور طور پر انجام دے دیا جائے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل اسی مقصد کے حصول کے لیے قائم کیا گیا ہے، یعنی تمام انسانوں کو خدا کے پیغام سے باخبر کرنا۔ اس کے ذریعے یہی کام انجام دیا دعا ہے کہ یہ کام اپنی آخری منزل تک پہنچ جائے۔

Printed page