Al-Risala · October 2020

اعلى حمد

Al-Risala, October 2020, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم کی دعا کا ذکر ہوا ہے۔ دعا کے الفاظ یہ ہیں: رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ (66:11)۔ یعنی اے میرے رب، میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنادے۔ یہ دعا اللہ کی گہری دریافت سے نکلی ہوئی دعا ہے۔ جب آسیہ کو دنیا کی زندگی میں اعلیٰ حمد کا موقع نہیں مل سکا تو اس نے یہ دعا کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں معرفت کا جو اعلیٰ کلچر رائج ہونا چاہیے تھا، وہ رائج نہ ہو سکا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ اعلیٰ عارفانہ تہذیب کب قائم ہوگی۔ کے مطابق، یہ اعلیٰ عارفانہ تہذیب آخرت میں جنت کی دنیا میں قائم ہوگی۔ یہ انسانوں کو ملے گی، جو دنیا کے اندر معرفت خداوندی کی کوشش کرتے رہے۔

اعلیٰ معرفت کیا ہے، اس کا ذکر قرآن میں دو مقامات پر آیا ہے۔ سورہ الکہف میں یہ الفاظ آئے ہیں: کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لیے روشنائی ہو جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگر چہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیں۔ سورہ لقمان میں اس طرح آیا ہے: اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ بیشک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے (31:27)۔

ان دونوں آیات میں سمندر کے ختم ہونے کا ذکر موجودہ دنیا کے ریفرنس میں ہے۔ آخرت کی جنت میں یہ محدودیت نہیں ہوگی۔ وہاں پر انسانوں کو لامحدود طور پر حمد اور معرفت کا موقع اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ جنت میں ان کا قول ہوگا: اے اللہ تو اور وہ ملتے وقت ایک دوسرے کو سلامتی (کی دعا) دیں گے۔ اور ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو رب ہے سارے جہان کا (10:10)۔ یعنی اہل جنت کو ہر لمحہ لامحدود طور پر حمد کلچر میں جینے کا موقع ملے گا۔

Printed page