قتل خویش
Al-Risala, October 2020, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
دور قدیم کے یہود کا ایک واقعہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَاقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيم (2:54)۔ یعنی اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم، تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ پس اپنے خالق کے آگے توبہ کرو، اور اپنے نفسوں کو قتل کرو۔ یہ تمہارے لیے تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک بہتر تو اللہ نے تمہاری توبہ قبول کی۔ بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں قدیم زمانے کے یہود کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے، جو خروج مصر کے بعد پیش آیا تھا۔ اس زمانے میں کچھ یہود نے شرک جلی کا ارتکاب کیا۔ اس پر ان کے پیغمبر موسیٰ نے کہا کہ تم لوگ اللہ کے آگے توبہ کرو، اور اپنے آپ کو قتل کرو۔ تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ کے ان الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تو قتل خویش کے معنی میں ہے۔ آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ انھوں نے توبہ کی اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ ایسا ہونے کے بعد ان کو جسمانی طور پر قتل کرنا، شریعت کا تقاضا نہیں ہو سکتا۔ اس لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہاں قتلِ نفس کا لفظ شدت توبہ کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی ایسی توبہ جو نفسیاتی طور پر سیلف کیلنگ (self killing) کے ہم معنی بن جائے۔ بندہ پر جب گناہ کے بعد اس قسم کی شدید ندامت طاری ہو، اور وہ اس طرح اللہ کے سامنے گریہ وزاری کرے، جیسے کہ وہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے گا۔ تو ایسی تو بہ ہمیشہ گناہ سے معافی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس طرح کی شدید توبہ کے بعد کسی کو قتل کرنا، شریعت خداوندی کے مطابق ایسی شدید توبہ کے بعد انسان ایک اعلیٰ درجے کا متقی بن کر ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے کہ وہ زیادہ اعلیٰ درجے کا مومن بن جائے۔ اس کو جسمانی قتل کر کے ختم کرنا، حکمت خداوندی کے مطابق نہیں۔