دجال کون
Al-Risala, October 2020, pp. 19–22
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث کی اکثر کتابوں میں آیا ہے کہ قیامت سے پہلے ایک شخص ظاہر ہوگا، جس کو حدیث میں دجال کہا گیا ہے (مسند احمد، حدیث نمبر 25089)۔ اسی کے ساتھ حدیثوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تیس ایسے لوگ آئیں گے جو دجال کذاب ہوں گے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7121)۔ انگریزی میں دجال کو امپوسٹر (imposter) کہہ سکتے ہیں۔ دجال کا لفظ اگر چہ قرآن میں نہیں آیا ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے وہ قرآن میں موجود ہے۔ شیطان کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہ تزئین کرتا ہے۔ اس لحاظ سے غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دجال قرآن کی زبان میں مُزَیِّن اکبر ہوگا۔ دجال امت مسلمہ کا ایک فرد ہوگا، لیکن وہ امت کے بعد کے زمانے میں آئے گا۔ تاریخی طور پر اس زمانے میں جب کہ امت زوال کا شکار ہو چکی ہوگی۔ زوال کے زمانے میں کسی امت کے اندر جو نفسیات بنتی ہے، وہ شکست خوردگی کی نفسیات (defeatist mentality) ہوتی یہ زمانہ وہ ہوتا ہے جب کہ امت اس قابل نہیں رہتی کہ وہ عملاً اپنی شکست کو فتح میں تبدیل اس وقت امت کے اندر ایسے افراد ابھرتے ہیں، جو امت کو فرضی فخر (false pride) کی غذا دیتے ہیں۔ ان کی دل فریب باتوں سے متاثر ہو کر امت یہ سمجھ لیتی ہے کہ وہ لوگ اس کے مخالفین کے مقابلے میں ڈیفنڈر (defender) کا رول ادا کر رہے ہیں۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امت کے دور زوال میں جو شخص ڈیفنڈر کی حیثیت سے وہ حقیقی معنوں یا مثبت معنوں میں ڈیفنڈر کا رول ادا کرنے والا نہ ہوگا، بلکہ وہ صاحب دجل یعنی امت دھوکہ کھا کر اس کو اپنا ڈیفنڈر سمجھ لے گی۔ حالاں کہ وہ ڈیفنڈر نہیں ہوگا، وہ ڈیسیور ہوگا۔ اس کی پرسنالٹی استحصال (exploitation) پر مبنی پرسنالٹی ہوگی۔ احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں امت کا ایک شخص ظاہر ہوگا، جو دجال کو قتل کرے گا۔ غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ قتل جسمانی قتل نہ ہوگا، بلکہ وہ نظریاتی قتل ہوگا۔
اس معنی میں کہ وہ شخص دلائل کے ذریعہ ایکسپوز (expose) کرکے بتائے گا کہ یہ شخص ڈیفنڈر نہیں ہے، بلکہ وہ امپوسٹر (imposter) ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ دجال ایک نہیں ہوگا، بلکہ بڑے دجال سے پہلے تیس دجال ظاہر ہوں اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ دجال ایک انفرادی کردار نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایک تسلسل کا نقطہ انتہا دجال سے پہلے مختلف قسم کے افراد اٹھیں گے، جو گویا بڑے دجال کے لیے ابتدائی زمین تیار کریں گے۔ مثلاً پہلے مناظر (debater) قسم کے افراد ابھریں گے، اس کے بعد ایسے افراد ابھریں گے جن کو ملت اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ڈیفنڈر کا درجہ دے گی۔ بڑا دجال ظاہر ہوگا، جس کو لوگ اپنا نجات دہندہ (saviour) سمجھیں گے۔
بڑا دجال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ذاتی اعتبار سے غیر معمولی شخصیت کا مالک ہوگا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس کے زمانے میں ایسے حالات اور وسائل پیدا ہوں گے، جو اس کو موقع دیں گے کہ وہ عملاً بڑے دجال کا درجہ حاصل کرلے۔ مثلاً یہ کہ اس کے زمانے میں عالمی کمیونی کیشن وجود میں جیسا کہ ایک موقوف حدیث میں آیا ہے: یُنَادِی بِصَوْتٍ لَّهُ يُسْمَعُ بِهِ مَا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ (کنز العمال، حدیث نمبر 39709)۔ یعنی دجال اپنی ایک ایسی آواز سے پکارے گا، جو مشرق اور مغرب کے دونوں سروں کے درمیان سنائی دے گی۔
مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ عام انسان جیسا نہیں ہوگا، بلکہ وہ کوئی ہمالیائی شخصیت ہوگا۔ بلکہ اس سے مراد امت کے زوال کی ایک حالت ہے۔ زوال کی بنا پر دجال کی باتیں امت کی نفسیات کو ایڈریس کریں گی۔ دجال کی مقبولیت اس بنا پر نہیں ہوگی کہ وہ جسمانی اعتبار سے کوئی غیر معمولی انسان ہوگا۔ بلکہ اس کا سبب امت کی زوال یافتہ نفسیات جو اپنے بگڑے ہوئے نفسیات کی بنا پر فرضی طور پر دجال کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لے گی۔ آخری زمانے کے بارے میں پیغمبر اسلام کی ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: اللهُ، اللهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 148)۔
نہیں آئے گی، یہاں تک کہ زمین پر اللہ اللہ نہیں کہا جائے گا۔ اس سے مراد دنیا کی عام قومیں نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد امت مسلمہ ہے۔ اللہ اللہ نہ کہنے کا مطلب زبان سے دہرانا بند کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا امت مسلمہ کے لیے پرائم کنسَرن کی حیثیت سے باقی نہیں رہے بلکہ دوسری دوسری چیزیں ان کے نزدیک پرائم کنسَرن کی حیثیت اختیار کر لیں گی۔ اللہ سے حقیقی تعلق کا ختم ہونا ایک تاریخی عمل (historical process) کا معاملہ ہے۔ اسلام کے دورِ اول میں ایشیا اور افریقہ میں جب مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنتیں قائم نہیں ہوئی تھیں، اس وقت مسلمانوں کا اعتماد صرف اللہ پر ہوتا تھا۔ اس کے بعد جب مسلمانوں کی سلطنتیں قائم ہو گئیں تو مسلمانوں کا اعتماد اللہ پر کمزور ہو گیا۔ اب وہ مسلم سلطنتوں پر شعوری یا غیر شعوری طور پر اعتماد کرنے یہ شفٹ آف ایمفیسس کا معاملہ تھا، یعنی ٹرانسفر آف سیٹ فرام گاڈ ٹو مسلم پولیٹیکل پاور: transfer of seat from God to Muslim political power اس کے بعد انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جب مغربی قوموں کو عروج حاصل ہوا، اور مغل ایمپائر اور ٹرکش ایمپائر جیسی مسلم سلطنتیں ختم ہو گئیں۔ اس کے بعد مسلمان عملاً مسلم امت کی صورت میں باقی رہے، جس کے سیاسی غلبے کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ سیاسی خلا کا نتیجہ یہ ہوا کہ خوف کی نفسیات مسلمانوں کے لیے بائنڈنگ فورس بن گئی۔ اب ان کا اعتماد صرف اپنی ملت پر قائم ہو گیا۔ اس سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے مسلمان زیادہ سے زیادہ اپنی ملت کی طرف مائل ہونے ان کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ ذہن بنا کہ ان کے لیے اب اعتماد کا ذریعہ ان کی اپنی اس طرح مسلمان نفسیاتی اعتبار سے دوسری قوموں سے دور اور مسلمانوں سے قریب آنے اس کے نتیجے میں فطری طور پر مسلمانوں کا یہ مزاج بنا کہ مسلم اور غیر مسلم کے اعتبار سے جو آدمی مسلمانوں کی یک طرفہ حمایت کرے، وہ ان کا اپنا آدمی ہے، اور جو مسلمانوں کی یک طرفہ حمایت نہ کرے، وہ عملاً ان کے مفروضہ دشمن کا ساتھی ہے۔
یہی وہ قومی فضا ہے جس میں دجال ابھرے گا۔ وہ مسلمانوں کی اس نفسیات کو فیڈ (feed)
وہ تمام مسائل میں یک طرفہ طور پر غیر مسلم قوموں کو اور غیر مسلم میڈیا کو ذمہ دار ٹھہرائے گا، اور مسلمانوں کو یک طرفہ طور پر بے قصور ظاہر کرے گا۔ اس بنا پر مسلمان یہ سمجھیں گے کہ وہی ان کا حقیقی وہی ان کے مفاد کی حفاظت کرنے والا ہے۔ یہ مزاج بڑھ کر یہاں تک پہنچے گا کہ وہ دجال کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لیں گے۔
دجال کے فعل کو دجل (to deceive) کیوں کہا گیا۔ کیوں کہ وہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کو بھٹکائے گا۔ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلام کو فروغ دے گا۔ دجال کی پوری سرگرمیوں کا مرکز یہ ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے مفروضہ دشمنوں کو عوامی زبان میں للکارے گا۔ وہ اسٹیج کے میدان میں بظاہر مفروضہ دشمنوں کو شکست دے گا۔ غلط طور پر مسلمانوں کو یہ باور کرائے گا کہ ہم نے تمھارے دشمنوں کو زیر کر دیا ہے۔ مگر دجال کا یہ سارا معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام دشمنی کا معاملہ ہوگا۔ کیوں کہ اس کی باتیں مسلمانوں کی توجہ کو اللہ کے بجائے، غیر اللہ کی طرف مائل کر دیں گی۔ مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کرنے والا وہ ہے، جس کی رہنمائی سے مسلمانوں میں اللہ پر یقین ان کے اندر اللہ کا تقویٰ پیدا ہو، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے بن جائیں۔ ان کو سب سے زیادہ شوق جنت کا ہو۔ ان کا سب سے زیادہ اہتمام آخرت کے لیے ہو جائے۔ زندگی میں وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ (9:18) کے مصداق بن جائیں۔ یعنی اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنا۔ مگر دجال کی منفی (negative) باتوں سے فریب خوردہ ہو کر ان کا حال برعکس طور پر یہ بن جائے گا کہ وہ دوسری قوموں سے نفرت کرنے لگیں گے۔ دجال ان کے اندر سے انسانی خیر خواہی کا کلی خاتمہ کر دے گا۔ وہ دوسری قوموں کو اپنا دشمن اور سازشی سمجھنے لگیں گے۔ وہ غلط طور پر یہ فرض کر لیں گے کہ ان کے ہر مسئلے کی ذمہ دار دوسری قومیں ہیں۔ اس طرح وہ اسلام کے نام پر غیر اسلامی سرگرمیوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں ان کے اندر دعوت الی اللہ کا ذہن بالکل ختم ہو جائے گا۔ کیوں کہ دعوت الی اللہ کی اسپرٹ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ مسلمانوں کے اندر عام انسان کے لیے یک طرفہ طور پر خیر خواہی کا جذبہ ہو۔