Al-Risala · October 2020

شکایت نہیں

Al-Risala, October 2020, pp. 34–36

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکی مصنف مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب دی ہنڈریڈ (100 The) میں تاریخ کے 100 کامیاب ترین انسانوں کا تذکرہ کیا ہے۔ ان کامیاب انسانوں میں اس نے پیغمبر اسلام کو پہلا مقام دیا ہے۔ اس کا ریزن کیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کون سا طریقہ اختیار کیا، جس کی وجہ سے ان کو اتنی عظیم کامیابی حاصل ہوئی۔ یہ کوئی پراسرار واقعہ نہیں۔ قرآن میں کئی مقام پر آیا ہے کہ خدا نے آپ کو کتاب اور حکمت کے ساتھ بھیجا ہے۔ کتاب سے مراد ہے اللہ کا کلام یعنی اور حکمت کا مطلب ہے پریکٹیکل وزڈم۔ دوسرے الفاظ میں، پیغمبر اسلام نے انسانوں کو دو چیزیں دی ہیں نظریاتی طور پر اللہ کی کتاب، اور عملی سطح پر حکمت (practical wisdom)۔ اللہ کی کامیابی کا جو خاص راز ہے، وہ ہے پریکٹیکل وزڈم۔ پریکٹیکل وزڈم کا مطلب عملی پہلوؤں پر غور وفکر کرنا، اور عملی تقاضے جو ہیں، اس کو کنسیڈر (consider) کرکے آگے بڑھنا۔ مثلاً یہ کہ جب پیغمبر اسلام نے 610 عیسوی میں اپنا توحید کا مشن شروع کیا تو بڑے پیمانے پر آپ کی مخالفت کی گئی۔ آپ کو مختلف قسم کے ناموں سے پکارا گیا مجنون (دیوانہ)، مذمم، مگر آپ نے ان باتوں کا کوئی منفی اثر نہیں لیا۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول نے کبھی اُس کے خلاف احتجاج اور شکایت کا طریقہ اختیار

اس کے برعکس، آپ نے جو کیا، وہ یہ تھا کہ آپ نے مسائل کو اگنور کیا، اور مواقع پر فوکس مسائل کیا تھے، مثلاً مخالفین کی جانب سے آپ کو برے ناموں سے پکارا گیا۔ مگر آپ نے اس کا کوئی منفی نوٹس نہیں لیا۔ پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہمیشہ منفی واقعات کے اندر مثبت پہلو تلاش اس سلسلے میں ایک روایت حدیث کی کتابوں میں اس طرح آئی ہے، پیغمبر اسلام نے کہا: أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ، یَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا، وَيَلْعَنُونَ

مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3533)۔ یعنی کیا تم کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی کہ اللہ مجھ سے قریش کے سب وشتم اور لعنت کو کس طرح دور کر رہا ہے۔ مجھے وہ مذمم کہہ کر شتم کرتے ہیں، مذمم کہہ کر وہ مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ حالانکہ میں تو محمد ہوں۔

اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبرِ اسلام کا طریقہ سب وشتم پر مشتمل ہونا نہیں ہے، اور نہ فریق مخالف کے خلاف شکایت اور احتجاج کرنا ہے۔ بلکہ اس سے اعراض کرنا ہے۔ یہ بلند اخلاقی کا معاملہ ہے، نہ کہ قانونی سزا کا معاملہ۔ یہ اعلیٰ سوچ کی ایک انوکھی مثال ہے۔ چنانچہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ممکن ہوا کہ آپ مسائل کے درمیان مواقع کو دیکھ سکیں، اور ان کو ادیل کریں۔ حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا۔

وہ مواقع کیا تھے۔ مثلاً یہ کہ قدیم کعبہ جو توحید کا سینٹر ہونے کے باوجود بتوں کا مرکز بن گیا یہ بات توحید کے پیغمبر کے لیے ناقابل برداشت تھی کہ وہ ایسا ہوتے ہوئے دیکھے، اور اس کے خلاف احتجاج نہ کرے۔ مگر پیغمبرِ اسلام کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ان بتوں کو کعبہ سے ہٹانے کی کوئی بات نہیں کی۔ اس کے برعکس، آپ نے حالات سے اوپر اٹھ کر عمل یعنی آپ نے گہرے مطالعے کے بعد سمجھا کہ جس کعبہ میں بت رکھے ہوئے ہیں، اسی بت کی وجہ سے پورے عرب سے روزانہ بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں، جو پٹینشل آڈینس کی حیثیت اگر بتوں کے خلاف آواز اٹھائی جائے، تو بت نہیں ہٹے گا، مگر نقصان یہ ہوگا کہ زائرین، یعنی پٹینشل آڈینس کا آنا بھی بند ہو جائے گا۔ اس کے برخلاف، جب بتوں کے خلاف ہنگامہ نہ کیا جائے تو زائرین، یعنی آڈینس آئیں گے، جن کو آسانی سے اپنا پیغام پہنچایا جاسکتا ہے۔ نے یہی طریقہ اختیار کیا، اور سارا عرب آپ کے لیے توحید کا آڈینش بن گیا۔ اس طرح آپ نے بتوں کے اجتماع کو بیچ کر کے اس کو توحید کا آڈینش بنا دیا۔

اسی طرح یہ کہ پیغمبرِ اسلام نے اپنا مشن قدیم مکہ میں شروع کیا۔ وہاں آپ کی شدید مخالفت یہاں تک کہ انھوں نے آپ کو الٹی میٹم دے دیا کہ آپ مکہ کو چھوڑ دیں، ورنہ ہم آپ کو قتل

کر دیں گے۔ ان حالات میں آپ نے مکہ کو چھوڑ دیا ، اور خاموشی کے ساتھ مدینہ آ کر وہاں رہائش اختیار کر لی۔ عام رواج کے مطابق کوئی شخص آسانی سے اپنا وطن نہیں چھوڑتا، بلکہ اس فیصلہ کو بدلوانے کی ہر کوشش شروع کر دیتا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ کے سرداروں کے اس فیصلہ کو قبول کر لیا ، اور خاموشی سے مدینہ آ کر آباد ہو گئے۔ اپنے نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ ایک نہایت حکیمانہ عمل تھا۔

ایسے حالات میں عام طور پر لوگ جوابی ذہن کے تحت سوچتے ہیں، اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار لیکن پیغمبر اسلام نے مسائل پر احتجاج کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے ملے ہوئے مواقع کو اویل کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ کا منصوبہ مکمل طور پر کامیاب رہا۔ آپ کا یہ طریقہ اتنا کامیاب ہوا کہ صرف دس سال کے اندر پہلے مکہ اور پھر سارا عرب آپ کے دائرے میں آگیا۔ یہ اسوۂ رسول ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھ کر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ تمام دنیا کے مسلمان پیغمبر اسلام کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے نفرت اور شکایت اور احتجاج کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ یہ نفسیات اتنا زیادہ عام ہے کہ مسلمانوں کے ہر طبقہ، تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ دونوں کے درمیان یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کا یہ منفی ذہن (negative mind) بظاہر دوسروں کے خلاف ہے۔ مگر عملی نتیجہ کے اعتبار سے خود اپنے خلاف ہے۔ نفرت اور جھنجھلاہٹ میں جئے گا۔ اس قسم کا مزاج انسان کے اندر تخلیقی صلاحیت میں رکاوٹ ہے۔ نے 15 ستمبر 1997 میں ٹائمس آف انڈیا میں ایک مضمون لکھا تھا۔ جس کا موضوع تھا: Not By Grievances Alone: Indian Muslims' Failure تقریباً سو سال سے مسلمانوں کی جو سیاست رہی ہے، اس پر یہ ایک جامع تبصرہ ہے۔ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ رسول اللہ نے امت کو پریکٹیکل وزڈم کا نمونہ دکھایا تھا۔ پریکٹیکل وزڈم کا مطلب ہے، حالات کے خلاف احتجاج مت کرو، بلکہ حالات کو پیچ کر کے موافق (favourable) لیکن امت اس نمونے پر چلی نہیں۔ اس لیے وہ مسائل میں پھنسی ہوئی ہے۔

Printed page