ایک سینیر سٹیزن کی زبانی
Al-Risala, October 2020, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
میری پیدائش یکم جنوری 1925ء کو یوپی میں ہوئی۔ میں برٹش انڈیا میں پیدا ہوا، اور اب اس کے ایک سینیر سٹیزن کی حیثیت سے آزاد انڈیا میں پہنچ گیا ہوں۔ میری پیدائش ایک ایسے گھرانے میں ہوئی، جو فریڈم فائٹر کی حیثیت رکھتا تھا۔ میرے بڑے بھائی اقبال احمد خاں سہیل (ایم اے، ایل ایل بی) ایڈوکیٹ (1955-1884) ایک شاعر تھے۔ انھوں نے اپنی ایک نظم میں کہا تھا: غلط ہے یہ کہ فقط ہندوؤں کا لیڈر تھا کہ تھا تمام جہاں بھر کا رہنما گاندھی اقبال احمد خاں سہیل نے 1936 کے یوپی کے الیکشن میں حصہ لیا تھا، اور الیکشن جیت کر یوپی اسمبلی کے ممبر بنے تھے۔ اس کے بعد جب میں بڑا ہوا، تو مجھے سوامی ویویکانندا (1902-1863) کی کتاب لیٹرز آف وویکانند پڑھنے کو ملی۔ اس کتاب کے لیٹر نمبر 271 میں سوامی وویکانند نے اپنے ایک فرینڈ کو ایک خط مورخہ 10 جون 1898ء میں لکھا تھا۔ اس خط میں سوامی وویکانندا نے آزاد انڈیا کے بارے میں اپنے ویژن کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا:
For our own motherland a junction of the two great systems, Hinduism and Islam—Vedanta brain and Islam body—is the only hope. I see in my mind's eye the future perfect India rising out of this chaos and strife, glorious and invincible, with Vedanta brain and Islam body. (Letters of Swami Vivekananda, p. 427)
انھیں سہانی یادوں کے ساتھ میرے دن گزرتے رہے۔ میں اپنے دائرے میں آزادی کی سرگرمیوں میں شریک رہا۔ مثلاً میں نے آزادی سے پہلے مئو (یوپی) جا کر جواہر لال نہرو (1964-1889) کی تقریر سنی۔ مجھے یاد ہے کہ لوگ ٹرینوں اور بسوں کی چھت پر بیٹھ کر مئو پہنچے اسی طرح میں نے پھولپور (اعظم گڑھ) کے ایک جلسہ میں شریک ہو کر سبھاش چندر بوس
(1897-1945) کی تقیق سنڌ ما اڪابرن جي مٿان ۾ سڀ کان اڳ (1897-1945) کی تحریر سنی۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ سبھاش چندر بوس نے آزاد ہند فوج 1942 میں بنائی تھی ۔ ان کا نعرہ یہ تھا :
اسی طرح میں نے ایک سوشلسٹ اجتماع (gathering) میں شریک ہو کر جے پرکاش نارائن (1902-1979) کی تقریر سنی۔ یہ جلسہ اعظم گڑھ میں ہوا تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے جے پرکاش نارائن بعد کو لوک نائک کے خطاب سے مشہور ہوئے۔ اس طرح میری نوجوانی کے دن گزر رہے یہاں تک کہ 15 اگست 1947 کا دن آ گیا۔ 15 اگست 1947ء کی رات کو میں نے وہ تاریخی تقریر تو نہیں سنی، جس میں اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن (1900-1979) نے ٹارچ ٹریر ہیں۔ اس میں اس وقت کے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے رات کو 12 بج کر ایک منٹ پر آل انڈیا ریڈیو سے اعلان کیا تھا: