برج مِحن سے نکلا سورج روشن اپنا مستقبل ہے
Al-Risala, October 2020, pp. 44–45
By Maulana Wahiduddin Khan
میں روزانہ طلوع سورج (sunrise) کا منظر اس امید سے دیکھتا ہوں کہ شاید آج کی صبح وہی صبح ہو، جس کے اشتیاق میں ایک فریڈم فائٹر نے ایک کتاب لکھی تھی، جس کا ٹائٹل تھا: روشن میں ہر دن نکلنے والے سورج کا استقبال ان الفاظ میں کرتا ہوں— وہ صبح کبھی تو آئے گی، وہ صبح کبھی تو آئے گی۔
انڈیا نے پیس فل اسٹرگل (peaceful struggle) کے ذریعے اپنی تاریخی آزادی حاصل کی تھی۔ اب انڈیا کی تعمیر نو کا کام بھی صرف پیس فل اسٹرگل کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے۔ انڈیا نے پیس فل اسٹرگل کے ذریعے آزادی حاصل کر کے ایک تاریخ بنائی تھی، اب دوبارہ وقت آ گیا ہے کہ انڈیا کی تعمیر نو کا کام پیس فل اسٹرگل کے ذریعے انجام دیا جائے۔ انڈیا کی طاقت پہلے بھی امن تھی، آج بھی امن (peace) ہے، اور آئندہ بھی امن ہی اس کی طاقت بنی رہے گی۔ 15 اگست 2020 کو انڈیا نے اپنا چوہترواں (74th) یوم آزادی منایا۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ ہم آزاد انڈیا کی حیثیت سے اپنا رخ متعین کریں۔ یوم آزادی ہمارے لیے ٹرینڈ سیٹر (trend-setter) ہونا چاہیے۔ موجودہ سال، یعنی 2020ء کو ہمیں ٹرینڈ سیٹر سال کے طور پر منانا سوچ سمجھ کر ہمیں آخری طور پر یہ طے کرنا چاہیے کہ آزاد نیشن کی حیثیت سے ہمارا نشانہ کیا ہے۔ سوامی وویکانندانے یہ کہا تھا کہ انڈیا کے بارے میں ان کا خواب یہ ہے کہ آزادی کے بعد انڈیا اسپرچول سپر پاور بن کر ابھرے۔ انڈیا پوٹینشل طور پر بلاشبہ اسپرچول سپر پاور ہے۔ پوٹینشل کو ایکچول بنانے کے لیے صرف ایک چیز کی ضرورت ہے، اور وہ ہے جمہوری نظام کے تحت متحد ہو کر کوشش کرنا۔
میں 90 پلس ہوں، اس لحاظ سے مجھے زندگی کا لمبا تجربہ ہوا ہے۔ میں اپنے تجربے کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ انڈیا کے ڈیولپمنٹ کے لیے صرف ایک ہی ماڈل ہے، جو رکیبل ماڈل ہے۔
وہی فطری ماڈل ہے، جس کو امریکن ماڈل ا جاسکتا ہے۔ امریکن ماڈل فری کمپटीशन پر بیس (base) کرتا ہے، یعنی ایسا ماحول پیدا کرنا، جس میں میرٹ کی بنیاد پر کسی کو ترقی حاصل ہو، نہ کہ فیور (favour) کی بنیاد پر۔ ترقی کے لیے اصل چیز کا میپیٹیشن ہے، نہ کہ فیور۔ امریکا میں ہر میدان میں یہ اصول ہے کہ کمپیٹ یا پیرش (compete or perish)، یعنی مقابلہ کرو، یا ختم ہو جاؤ۔ میں اس کو کرو یا مرو (do or die) کہا جاتا ہے۔
فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں کوئی گروہ فیور (favour) کے ذریعے ترقی نہیں وہ صرف مقابلہ (competition) میں اپنے آپ کو اہل ثابت کرکے کامیاب ہوسکتا کمپٹیشن ہے، جو انسان کو مین (man) سے اٹھا کر سوپر مین (super-man) بناتی ہے۔ کیوں کہ خالق نے اس دنیا کو چیلنج ۔ رسپانس (challenge-response) کے اصول پر بنایا فرد کی ترقی یا سماج کی ترقی کا راز یہ ہے کہ فطرت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا اس کے سوا ہر دوسرا اصول انسان کا خود ساختہ اصول ہوگا، جو کبھی عمل میں آنے والا نہیں۔ یہی ماڈل نیچرل ماڈل ہے۔ کمپٹیشن کا ماڈل ماٹیویٹنگ ماڈل (motivating model) اس کے برعکس، نہرو نے رشین ماڈل کو اختیار کیا، جس کو وہ سوشلسٹ ماڈل کا نام دیتے تھے۔ مگر عملًا یہ ماڈل ڈی ماٹیویٹنگ ماڈل (demotivating model) ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس ماڈل کو اختیار کریں، جو ماٹیویشن پر مبنی ہے، اور اس ماڈل کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، جو عملًا ڈی ماٹیویشن کا ماڈل بن جاتا ہے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ ہم انڈیا کے ڈیولپمنٹ کی ری
انڈیا میں امریکا کے سابق سفیر گالبریتھ (John Kenneth Galbraith) نے ایک مرتبہ اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انڈیا ایک فنکشننگ انار کی ہے ( India is a functioning anarchy) ۔ میں اس بیان کو کریٹیسزم کے طور پر نہیں لیتا، بلکہ چیلنج کے طور پر لیتا ہوں، اور یہ دعا کرتا ہوں کہ انڈیا ایک آئیڈیل ڈیموکریسی بنے۔