Al-Risala · November 2020

عقیدہ خدا اور سائنس

Al-Risala, November 2020, pp. 6–8

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین اسی علمِ فطرت کا ظہور ہے، جس کی خبر پیشگی طور پر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے— (ترجمہ) ہم لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اور انفس یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے (41:53)۔ سائنس کی جدید تحقیقات کی روشنی میں کائنات کی جو نئی تصویر بنی ہے، وہ عین وہی ہے، جو قرآن میں پیشگی طور پر بتادی گئی تھی۔ سے جدید سائنسی دریافتیں گویا کتاب الہی کے اشارات کی تفصیل ہیں، اور اسی کے ساتھ اس کی دلیل یہاں مختصر طور پر ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جدید دریافت کے مطابق، کائنات کی ابتدا تقریباً 13.8 بلین سال پہلے ہوئی۔ اس کے بعد مختلف تدرجی انقلابات سے گزرتے ہوئے وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی۔ اس پورے سفر کی روداد اس موضوع کی کتابوں میں پڑھ کر معلوم کی جاسکتی اس کے علاوہ اس کو محسوس طور پر کسی سائنسی پلینیٹریم (Planetarium) میں دیکھا میں نے یہ پورا منظر واشنگٹن کے نیشنل پلینیٹریم میں دیکھا ہے۔ سائنسی مطالعہ بتاتا ہے کہ 13.8 بلین سال پہلے خلا میں ایک سپرائٹم ظاہر ہوا۔ یہ ان تمام ذرات (particles) کا مجموعہ تھا ، جو موجودہ کائنات میں پائے جاتے ہیں۔ گویا موجودہ پوری کائنات ایک بہت بڑے فٹ بال جیسے گولے کی صورت میں شدت کے ساتھ باہمی طور پر چمٹی ہوئی اس گولے کے تمام ذرات بے حد طاقت ور کشش کے ساتھ ایک دوسرے سے داخلی طور پر جڑے ہوئے تھے۔ معلوم طبیعیاتی قانون کے مطابق ، یہ ناممکن تھا کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہوکر بیرونی سمت میں سفر کریں۔ اس وقت اس سپرائٹم کے اندر نہایت طاقتور دھماکہ ہوا۔ اس دھماکہ کے فورا بعد سپرائٹم کے ذرات بکھر کر تیزی سے بیرونی سمت میں سفر کرنے لگے۔ اس کے بعد یہ ذرات وسیع خلا میں مختلف مجموعوں کی صورت میں اکٹھا ہوگئے ۔ انھیں مجموعوں سے خلا میں پائی جانے والی وہ دنیا ئیں بنیں، جن کو ستارہ، سیارہ، کہکشاں، شمسی نظام، زمین اور چاند جیسے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ سپرائٹم کا یہ دھماکہ بیک وقت دو چیزیں ثابت کرتا ہے ۔ ایک یہ کہ یہاں کائنات سے الگ

ایک طاقتور ہستی پہلے سے موجود تھی، جس نے اپنی ارادی مداخلت کے ذریعے یہ غیر معمولی واقعہ کیا کہ سپر ایٹم کے ذرات داخلی رخ پر سفر کے بجائے بیرونی رخ پر سفر کرنے لگے۔

اس واقعے کا دوسرا عظیم پہلو یہ ہے کہ دھماکہ (explosion) ہمیشہ تخریبی نتائج کا سبب بنتا پٹاخہ سے لے کر بم تک ہر دھماکہ بلا استثنا یہی خاصیت رکھتا ہے۔ مگر سپر ایٹم کا دھماکہ استثنائی طور پر غیر تخریبی تھا۔ اس نے مکمل طور پر صحت مند اور تعمیری نتائج پیدا کیے ۔ یہ استثنائی واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات کا خالق لا محدود قدرت کا مالک ہے۔ وہ یہ استثنائی اختیار رکھتا ہے کہ واقعے کے ساتھ نتائج پر مکمل کنٹرول کر سکے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ ہماری کائنات ایک پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) ہے۔ وہ غبارہ کی مانند مسلسل طور پر بیرونی سمت میں پھیل رہی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کائنات کا ایک متعین آغاز ہے۔ اگر کائنات ابدی ہوتی تو وہ اپنی اس پھیلتی ہوئی نوعیت کی بنا پر اب تک ختم ہو چکی ہوتی۔ یہ ثابت ہونا کہ کائنات کا ایک آغاز ہے، یہ بھی ثابت کر دیتا ہے کہ اس کا کوئی آغاز کرنے والا ہے۔ ایک غیر موجودہ چیز کا آغاز اسی وقت ممکن ہے، جب کہ اس سے پہلے کوئی موجود ہو، جو اپنے ارادے سے اُس کا آغاز کر سکے۔ کائنات میں ایسے بے شمار شاہد ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ کائنات کا منصوبہ ساز اور اس کا ناظم صرف ایک ہے۔ اگر ایک سے زیادہ ناظم ہوتے تو یقینی طور پر کائنات میں فساد برپا ہو جاتا۔ مثال کے طور پر زمین اور سورج کا فاصلہ تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے۔ یہ فاصلہ مسلسل طور پر اپنی حالت پر برقرار رہتا ہے۔ اگر اس فاصلہ میں تبدیلی آ جائے تو اس کے مہلک نتائج پیدا مثلاً اگر یہ فاصلہ بڑھ کر 20 کروڑ میل دور ہو جائے تو زمین پر اتنی ٹھنڈک پیدا ہو کہ پانی، حیاتیات، حیوانات اور انسان سب منجمد ہو جائیں۔ اسی طرح یہ فاصلہ اگر کم ہو کر 5 کروڑ میل ہو جائے تو زمین پر اتنی گرمی پیدا ہو کہ تمام چیزیں بشمول انسان جل کر ختم ہو جائیں۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سورج اور زمین دونوں کا خدا ایک ہے۔ اگر دونوں کے خدا الگ الگ ہوتے تو دونوں الگ الگ اپنی مرضی چلاتے اور پھر یقینی طور پر یہ فاصلہ گھٹتا یا بڑھتا رہتا اور اس بے قاعدگی کی بنا پر زمین پر انسانی تہذیب کا وجود نا ممکن ہو جاتا۔

نامعلوم حد تک وسیع کائنات میں ہمارا زمینی سیارہ ایک نادر استثناء ہے۔ یہاں پانی اور ہوا اور نباتات جیسی ان گنت چیزیں پائی جاتی ہیں جو انسانی زندگی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہیں۔ کہ وسیع خلا میں معلوم طور پر کوئی بھی ایسی دنیا موجود نہیں جہاں بقائے حیات کا یہ سامان پایا جاتا ہو۔ یہ استثناء بتاتا ہے کہ یہ دنیا محض بے شعور مادہ کے ذریعہ نہیں بنی۔ بلکہ وہ ایک باشعور ہستی کا تخلیقی کرشمہ اگر وہ محض مادی قوانین کے بے شعور تعامل کا نتیجہ ہوتی تو کائنات میں بہت سی ایسی زمینیں ہوتیں، نہ کہ صرف ایک ایسی زمین۔

ہماری دنیا کی ہر چیز انتہائی حد تک با معنی ہے۔ چیزوں کی معنویت یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ دنیا ایک باشعور تخلیق کا نتیجہ ہے۔ کوئی دوسرا نظریہ اس حکمت اور معنویت کی توجیہہ نہیں کر سکتا۔ کے حجم (size) کو لیجیے۔ زمین کا موجودہ حجم تقریباً 25 ہزار میل کی گولائی میں ہے۔ یہ حجم بے حد معنی چنانچہ یہ حجم اگر 50 ہزار میل ہوتا تو زمین کی کشش اتنی زیادہ بڑھ جاتی کہ وہ انسانی جسم کی بڑھوتری کو روک دیتی۔ اس کے بعد زمین پر صرف بالشتیے قسم کے انسان (dwarf) دکھائی دیتے اس کے برعکس اگر زمین کا حجم گھٹ کر 12 ہزار میل ہوتا تو اس کی قوت کشش اتنی کم ہو جاتی کہ وہ انسانی بڑھوتری کو روک نہ سکتی۔ انسان کا قدٹاڑ (palm) کی طرح لمبا ہو جاتا۔ اس کے سوا اور بے شمار قسم کے غیر موافق حالات پیدا ہوتے جو انسان کی تمام تمدنی ترقیوں کو ناممکن بنا دیتے ۔ مذکورہ پہلوؤں پر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ سائنسی اعتبار سے، یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ اس دنیا کا ایک خالق ہے، اور وہ یقینی طور پر صرف ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے لیے جو انتخاب ہے، وہ با خدا کائنات (universe with God) اور بے خدا کائنات (universe without God) میں نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے لیے حقیقی انتخاب باخدا کائنات (universe with God) اور غیر موجود کائنات (no universe at all) میں ہے۔ یعنی اگر ہم خدا کے وجود کا انکار کریں تو ہم کو کائنات کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ چوں کہ ہم کائنات کے وجود کا انکار نہیں کر سکتے اس لیے ہم خدا کے وجود کا بھی انکار نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں ہمارے لیے دوسرا ممکن انتخاب موجود نہیں۔

Printed page