حقیقت کی تلاش
Al-Risala, November 2020, pp. 15–18
By Maulana Wahiduddin Khan
گلیلیو گلیلی (1642-1564) اپنی سادہ دوربین سے چاند کا صرف سامنے کا رخ دیکھ سکتا آج کا انسان خلائی جہاز میں لگے ہوئے دوربین کی مدد سے چاند کا پچھلا رخ بھی پوری طرح دیکھ رہا ہے۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کل اور آج میں علمی اعتبار سے کتنا زیادہ فرق ہو چکا ہے۔
مگر ان جدید معلومات تک پہنچنے کی قیمت بہت مہنگی ہے۔ 10 اکتوبر 1980 کونیس میکسیکو میں دنیا کی سب سے بڑی دوربین نصب کی گئی۔ اس کی قیمت 78 ملین ڈالر تھی۔ امریکا کا ایک خلائی جہاز، وائیجر 1 (Voyager 1) جونومبر 1980 میں زحل کے پاس پہنچا اس کی لاگت 340 ملین ڈالر تھی۔ یورپ میں پارٹیکل فرکس کی بین اقوامی لیبوریٹری (CERN) 1981 میں مکمل ہوئی ہے، اس کا مقصد اینٹی میٹر کو ٹوڑ کر میٹر میں تبدیل کرنا ہے، اس لیبوریٹری کی لاگت 120 ملین ڈالر ہے۔ یہ ادارہ ایک اور زیادہ بڑی تحقیقی مشین تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی لاگت 550 ملین ڈالر ہوگی۔ تحقیق کے لیے امریکا میں ایک مشین بنائی گئی ہے، جس کی لاگت 275 ملین ڈالر ہے، وغیرہ۔ پارٹیکل فرکس (ذراتی طبیعیات) میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی دل چسپی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ 1927 میں ہونے والی فرکس کا نفرنس میں 32 سائنس داں شریک ہوئے تھے، جب کہ 1980 میں ہونے والی فرکس کا نفرنس میں شریک ہونے والے سائنس دانوں کی تعداد 800 تھی۔ امریکن فزیکل سوسائٹی (APS) 1899 میں قائم کی گئی۔ اس کے ممبروں کی تعداد 1920 میں 1300 تھی، 1980 میں اس سوسائٹی کے ممبروں کی تعداد 30,000 تھی، اور 2020 میں اس کے ممبران کی تعداد 50,000 ہے۔
ان جدید تحقیقاتی کوششوں کا تعلق اسٹرانومی اور پارٹیکل فرکس (ذراتی طبیعیات) سے ہے۔ ان علوم میں تحقیقات کے نتائج بہت دیر میں نکلتے ہیں۔ تقریباً 50 سال بعد یا اس سے بھی زیادہ۔ اگر اس کا
لحاظ کیا جائے کہ ان تحقیقات میں لگی ہوئی رقم (جس پر کوئی سود نہیں ملتا) کی قیمت ہر سال کم ہوتی رہتی ہے تو پچاس سال بعد ایک سو ڈالر کی قیمت صرف ایک ڈالر کے بقدر رہ جائے گی۔ یہ ظاہر ایک بے فائدہ مد میں اتنی کثیر رقم خرچ کرنے کی وجہ سے بہت سے لوگ ایسے منصوبوں پر اعتراض کر رہے ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے امریکی پروفیسر راجر پنروز (1931 .Roger Penrose [b) نے کہا ہے: Do economists not share with us the thrill that accompanies each new piece of understanding? Do they not care to know where we have come from, how we are constituted, or why we are here? Do they not have a drive to understand, quite independent of economic gain? Do they not appreciate the beauty in ideas? — A civilisation that stopped inquiring about the universe might stop inquiring about other things as well. A lot else might then die besides particle physics. (SUNDAY Weekly [Calcutta] Nov 30, 1980)
کیا اقتصادیات کے ماہرین اس وجدانگیز مسرت میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہیں، جو علم کے ہر نئے اضافے سے حاصل ہوتی ہے۔ کیا ان کو یہ جاننے کا شوق نہیں ہے کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ہماری پیدائش کیسے ہوئی ہے یا یہ کہ اس زمین پر ہم کیوں ہیں۔ کیا اقتصادی فائدہ سے ہٹ کر ان باتوں کو جاننے کا جذبہ ان کے اندر پیدا نہیں ہوتا۔ کیا وہ نظریات میں حسن کی قیمت کو نہیں سمجھتے۔ کوئی تہذیب جو کائنات کے بارے میں تحقیق سے رک جائے، وہ دوسری چیزوں کے بارے میں تحقیق کو بھی روک دے اس کے بعد پارٹیکل فرکس کے علاوہ دوسری بہت سی چیزیں بھی موت کا شکار ہو کر رہ جائیں گی۔ اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی کی حقیقت جاننے کا مسئلہ کس قدر ضروری ہے۔ انسان جو خدا کی بنیاد پر کائنات کی تشریح نہیں کرنا چاہتا وہ بھی انتہائی بے تاب ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز پالے جس کی بنیاد پر وہ اپنی اور کائنات کی تشریح کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ نظر آنے والی کائنات اور اس کے اندر انسان جیسی ایک مخلوق کا موجود ہونا اس قدر حیران کن ہے کہ انسان اس کی ماہیت کے بارے میں سوچے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کوئی بھی دوسری چیز اس کو اس سوال سے بے نیاز کرنے والی
ثابت نہیں ہوسکتی۔ حتی کہ بڑی بڑی ترقیاں بھی۔
انسان دیکھتا ہے کہ وہ ایک لامحدود کائنات میں ہے۔ اس کائنات میں تقریباً ایک کھرب ہر کہکشاں میں لگ بھگ ایک کھرب بہت بڑے بڑے ستارے ہیں، اور ہر ستارہ دوسرے ستارے سے اتنا زیادہ فاصلہ پر ہے جیسے بحر الکاہل (Pacific Ocean) کے قل ودق سمندر میں چند کشتیاں ایک دوسرے سے دور دور تیر رہی ہوں۔ عظیم کائنات میں پھیلے ہوئے ستاروں کی یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر ہر ستارہ کا کوئی یک لفظی نام رکھا جائے، اور کوئی ان ناموں کو بولنا شروع کرے تو صرف تمام ناموں کو دہرانے کے لیے 300 کھرب (30 ٹریلین) سال کی مدت درکار ہوگی (پلینڑتھ، جنوری، 1981)۔
اس ناقابلِ قیاس حد تک عظیم کائنات میں انسان سب سے زیادہ حقیر مخلوق ہے۔ نقشے میں ان چھوٹے جزیروں سے بھی کم ہے، جو بہت چھوٹے ہونے کی وجہ سے عام طور پر دنیا کے نقشوں میں دکھائی نہیں دیتے۔ یہ انسان اپنے تمام چھوٹے پن کے باوجود کائنات کے فاصلوں کو ناپ رہا ہے۔ وہ طبعیاتی ذروں سے لے کر کہکشاتی نظاموں تک کی تحقیق کر رہا ہے۔ وہ ایک ایسا ذہن رکھتا ہے، جو ماضی اور مستقبل کا تصور کر سکے۔ یہ سب کیوں ہورہا ہے اور کیسے ہورہا ہے، اور بالآخر اس عجیب وغریب ڈرامے کا کیا انجام ہونے والا ہے۔ یہ سوالات ہر سوچنے والے انسان کے اوپر منڈلا رہے ہیں۔ وہ ان کی حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہے۔ مگر انسان کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ان سوالات کا جواب دور بینی مشاہدات اور لیبوریٹری کے تجربات میں ڈھونڈ رہا ہے۔ حالاں کہ ان سوالات کا جواب پیغمبر کے الہام کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔
جس کائنات میں اتنی زیادہ دنیا ئیں ہوں کہ صرف ان کا نام لینے کے لیے تین سو کھرب (30 Trillion) سال سے زیادہ مدت درکار ہو۔ اس کی حقیقت کو وہ انسان کیوں کر دریافت کر سکتا ہے، جو پچاس سال یا سوسال زندگی گزار کر مر جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خالق ہی اس راز کو کھول سکتا ہے، اور اسی نے پیغمبر کے ذریعے اس کو کھولا ہے۔
فطرت کی پکار مرطوب اکسیجن، (Yakov Zeldovich) کے مشورے پر اکسے پیدائش 1914 میں ہوئی، اور وفات 1987 میں ۔ وہ روس کی اکیڈمی آف سائنسز کے ممبر رہ چکے ہیں ۔ سوویت یونین کے زمانے میں ماسکو سے شائع ہونے والے انگریزی ماہ نامہ اسپٹک (Sputnik) وریف پرنٹ کے زمانے میں بھی جاری ہے ، کی ریڈیز ماہنامہ ،پ شمارہ اگست 1987 میں ان کا ایک مضمون چھپا تھا، جس کا عنوان ہے: