Al-Risala · November 2020

Truth, Progress and the Human Soul

Al-Risala, November 2020, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مضمون میں مسٹر زالڈو ویچ نے بنیادی اقدار کی سر کو وہ ایک ادھر ادھر، ہر اس مضمون میں مسٹر زلڈ و وچ لے اپنے بارے میں اقرار کیا ہے کہ وہ ایک اتھیسٹ ہیں، وہ خدا اور مذہب کو نہیں مانتے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ کہتے ہیں کہ انسانی معاشروں میں مذہب کی موجودگی ایک ثابت شدہ تاریخی حقیقت ہے۔ نیز یہ کہ روحانی تقاضے انسان کے شعور میں گہرائی کے ساتھ پیوست ہیں:

Spiritual needs are deeply embedded in human consciousness. انسانی فطرت کی یہ نوعیت اتنی واضح اور اتنی قطعی ہے کہ تمام سنجیدہ لوگوں نے اس کا اقرار کیا قدیم ترین زمانے سے لے کر آج تک تمام انسان اس احساس کو لے کر پیدا ہوتے رہے ملحد معاشروں میں پیدا ہونے والے بچے بھی اپنے آپ کو اس احساس سے خالی نہ کر سکے ۔ فطرت کا یہ تقاضا ایک ایسی مانی ہوئی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس حقیقت کو مان لینے کے بعد صرف یہ سوال رہتا ہے کہ اس تقاضے کا جواب کیا مذکورہ سائنس داں کا کہنا ہے کہ اس کا جواب نیچرل سائنس ہے۔ مگر یہ جواب اپنی تردید آپ اس لیے کہ نیچرل سائنس ایک مادی چیز ہے، اور انسانی فطرت کا تقاضا ایک روحانی چیز ۔ ایک مادی چیز ایک روحانی سوال کا جواب کس طرح بن سکتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب صرف خداوند تعالی ہے ۔ مخلوق اپنے خالق کی تلاش میں ہے، اور خالق کو پانے کے بعد ہی مخلوق کو سکون حاصل ہو سکتا ہے : الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13:28) ۔

Printed page