کون کنٹرول کرے
Al-Risala, November 2020, pp. 25–27
By Maulana Wahiduddin Khan
سر جولین ہکسلے [1887-1975] Sir Julian Sorell Huxley کی ایک کتاب ہے جس کا نام مذہب بغیر الہام“ ہے:
Julian Huxley: Religion Without Revelation (1957), Harper, p. 393 مصنف نے اس کتاب میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ مذہب (معنی انسانی طریقہ) الہام خداوندی کی بنیاد پر قائم کرنے کا دور ختم ہو گیا۔ اب انسان خود اپنا مذہب بنا رہا اس مذہب کی بنیاد عقل (ریزن) پر ہے، اور اس کا نام ہیومنزم ہے۔ مصنف کے نقطہ نظر کا خلاصہ اس کے ان الفاظ میں ہے موجودہ زمانے میں انسان نے بڑی حد تک خارجی فطرت کی طاقتوں کو جاننے، ان کو کنٹرول کرنے اور ان کو استعمال کرنے کی بابت سیکھ لیا ہے۔ اب اس کو خود اپنی فطرت کی طاقتوں کو جاننے اور ان کو کنٹرول کرنے اور ان کو استعمال کرنے کی بابت سیکھنا ہے: Man has learnt in large measure to understand, control and utilize the forces of external nature: he must now learn to understand, control and utilize the forces of his یہی موجودہ زمانے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ملحدین کا عام نظریہ ہے۔ مگر یہ لفظی تک بندی کے سوا اور حقیقت یہ ہے کہ خارجی مادے کو کنٹرول کرنا جتنا ممکن تھا، اتنا ہی یہ ناممکن ہے کہ انسان خود اپنی فطرت کو کنٹرول کرے۔
مادہ خود اپنے آپ کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ اسی طرح انسان بھی خود اپنے آپ کو کنٹرول نہیں انسان کے لیے مادہ کو کنٹرول کرنا اس لیے ممکن ہوا کہ انسان کو اپنے دماغ کی بنا پر مادہ کے اوپر بالاتری حاصل تھی۔ اسی طرح انسان کو وہ ہستی کنٹرول کر سکتی ہے، جس کو انسان کے اوپر بالاتری کوئی بھی ہستی اپنے برابر کو کنٹرول نہیں کر سکتی انسان کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک برتر خدا کا عقیدہ درکار ہے۔ برتر خدائی عقیدے کے سوا کوئی چیز نہیں جو انسان کو قابو میں رکھ سکے۔
ایک ارب سورج سے بھی زیادہ روشن فلکیات (astronomy) میں اجرامِ فلکی (مثلاً، چاند، سیارے، ستارے، نیبولا، گلیکسی، وغیرہ)، اور زمینی کرۂ ہوا کے باہر رونما ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ موسم میں جب فضا بالکل صاف ہوتی ہے، آسمان پر لمبے روشنی کے بادل دکھائی دیتے ہیں۔ کہکشاں (Galaxy) ہے، جس کا نام ملکی وے (Milky Way) ہے۔ اس کے اندر ہمارا سولر سسٹم واقع ہے۔ روشنی کے بادل حقیقت میں بادل نہیں ہیں، بلکہ بے شمار ستاروں کے مجموعے ہیں، جو دور ہونے کی وجہ سے ملے ملے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر آپ دوربین (telescope) سے دیکھیں تو بادل کے بجائے آپ کو الگ الگ ستارے دکھائی دیں گے۔ زمین سے بارہ لاکھ گنا بڑا سورج بظاہر بہت بڑا نظر آتا ہے۔ مگر کہکشاں کے اکثر ستارے اس سے بھی زیادہ بڑے ہیں۔ اس طرح کے بے شمار کہکشانی مجموعے کائنات کی وسعتوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مثلاً فلکیات کی حیران گُن دریافتوں میں سے ایک وہ ہے، جس کو کوئزار (Quasar) کہا جاتا ہے:
Quasar, an astrmonomical object of very high luminosity found in the centres of some galaxies and powered by gas spiraling at high velocity into an extremely large black hole. The brightest quasars can outshine all of the stars in the galaxies in which they reside, which makes them visible even at distances of billions of light-years. Quasars are among the most distant and luminous objects known. (www.britannica.com/science/quasar [accessed on 02.04.2020])
کوئزار زمین سے دور دراز فاصلے پر واقع ایک آسمانی جرم (object) ہے، جس سے ریڈیائی لہریں کثیر مقدار میں نکلتی ہیں۔ کائنات کے انتہائی بعید کناروں پر واقع یہ شبہ ستارے بے حد روشن ہیں۔ ایک پوری کہکشاں جس میں سورج یا اس سے بڑے بڑے ایک ارب ستارے ہوں، جتنی انرجی (روشنی اور حرارت) خارج کرتی ہے، اتنی زیادہ انرجی (energy) تنہا ایک کوئزار خارج کرتا ہے۔
اس قسم کے ستارے وسیع خلا (space) میں سیکڑوں کی تعداد میں معلوم کیے گئے ہیں۔ مزید عجیب بات یہ پائی گئی ہے کہ یہ ستارے اکثر جوڑے جوڑے ہیں، جو ایک دوسرے کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ کائنات میں انرجی پیدا ہونے کا سب سے طاقت ور عمل جواب تک سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے، وہ تھر مو نیوکلیری ری ایکشن (Thermonuclear Reaction) مگر کوئز ار سے خارج ہونے والی بے پناہ طاقت کی توجیہہ کے لیے وہ ناکافی ہے۔ ہے کہ کوئز ار میں انرجی پیدا ہونے کا طریقہ مکمل طور پر کوئی دوسرا طریقہ ہے، جو دیگر ستاروں میں نہیں پایا جاتا۔
A quasar (also known as a quasi-stellar object [QSO]) is an extremely luminous active galactic nucleus (AGN), in which a supermassive black hole with mass ranging from millions to billions of times the mass of the Sun is surrounded by a gaseous accretion disk. As gas in the disk falls towards the black hole, energy is released in the form of electromagnetic radiation, which can be observed across the electromagnetic spectrum. The power radiated by quasars is enormous: the most powerful quasars have luminosities thousands of times greater than a galaxy such as the (www.en.wikipedia.org/wiki/Quasar [accessed on 02.04.2020])
نعمتوں سے بھری ہوئی یہ زمین اللہ کے جمال کی مظہر (manifestation of beauty) ہے، اور خلا (space) کے دہشت ناک ستارے اللہ کے جلال کا مظہر (manifestation of لائف سپورٹ سسٹم والی یہ زمین اگر جنتی زندگی کی علامت ہے تو ستاروں (stars) کی شکل میں دہکتے ہوئے شعلے جہنم کی یاد دلاتے ہیں۔ آدمی اگر زمین و آسمان کی ان نشانیوں (signs) پر غور کرے تو اس کا سینہ خدا کی یاد سے بھر جائے گا۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (3:190) یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔