Al-Risala · January 2020

World Inflation

Al-Risala, January 2020, pp. 40–42

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹائم میگزین پریس جانے سے پہلے حسب قاعدہ مذکورہ اسٹاف کے پاس پہنچا۔ میں ایک بات یہ تھی کہ قدیم لیڈیا کے باشندوں (Lydians) نے پہلی بار دھات کے سکے بنائے ۔ متعلقہ کارکن نے اس کو لائبریری کے محققین کے پاس بھیجا کہ وہ اس کی تحقیق کریں۔ انھوں نے تین

انسائیکلو پیڈیا کو دیکھا تو تینوں میں مختلف بیانات تھے۔ پھر انھوں نے تاریخ زر (History of Money) پر دواہم ٹیکسٹ بک سے رجوع کیا، اور بالآخر اپنے فیصلے سے متعلقہ کارکن کو مطلع کیا۔ اس پورے عمل میں صرف پندرہ منٹ لگے۔

راجہ رام موہن رائے (1772-1833) مشہور ہندو مصلح ہیں۔ انھوں نے سائنسی تعلیم کی زبردست وکالت کی۔ وہ سائنسی تعلیم (science-oriented education) کے حامی تھے۔ انگریزوں نے جب سنسکرت کالج قائم کرنے کا اعلان کیا، تو راجہ رام موہن رائے نے دسمبر 1823 میں انگریز گورنر جنرل لارڈ امہرست (Lord Amherst) کو لکھا کہ سنسکرت کی تعلیم سے زیادہ ہم کو سائنسی تعلیم کی ضرورت ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ ہندوستان میں ایسی تعلیم جاری کی جائے جس میں ریاضی، نیچرل فلاسفی، کیمسٹری، اناٹمی اور دوسری جدید سائنسی تعلیم کا انتظام ہو۔ راجہ رام موہن رائے کے زمانہ میں اور ان کے بعد بھی عرصہ تک مسلمانوں میں کوئی بھی قابل ذکر آدمی نظر نہیں آتا، جس نے جدید دور میں سائنس کی اہمیت کو سمجھا ہو، اور اس کی تعلیم پر اس طرح زور دیا ہو۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی کم از کم ایک وجہ یہ ہے کہ پچھلے دور میں مسلمانوں میں کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا، جو اتنا تعلیم یافتہ ہو جیسا کہ راجہ رام موہن رائے تھے۔ راجہ رام موہن رائے کے سکریٹری (Sandford Arnot) نے لکھا ہے کہ وہ کم از کم 11 زبانوں سے واقف تھے۔ سنسکرت، عربی، فارسی، ہندی، بنگالی، انگریزی، عبرانی، لاطینی، فرانسیسی، اردو، یونانی۔ ان کی پہلی کتاب کا نام تحفۃ الموحدین ہے۔ اس کا دیباچہ عربی میں ہے، اور اصل کتاب فارسی میں ہے۔ انھوں نے پہلی بار ویدوں اور اپنشدوں کا انگریزی اور بنگالی میں ترجمہ کیا۔ میں انھوں نے بنگال گزٹ نکالا، جو کسی ہندوستانی کی ملکیت میں نکلنے والا پہلا انگریزی اخبار تھا۔ کے علاوہ انھوں نے فارسی میں بھی ایک اخبار جاری کیا۔ لال قلعہ کے مغل بادشاہ کو اپنے وظیفہ کی رقم کے سلسلہ میں ایک سفارت انگلستان بھیجنے کی ضرورت پیش آئی۔ اس وقت مغل تاجدار نے جس

ساز کائنات کے 1830ء میں مشہ کرنے ہندستانی کا انتخاب کیا، وہ راجہ رام موہن رائے تھے۔ چنانچہ وہ 1830 میں اس مشن کے تحت

ہند وقوم کو اٹھارھویں صدی میں راجہ رام موہن رائے جیسا آدمی مل گیا۔ اس لیے وہ فوراً سائنس کی تعلیم میں داخل ہوگئی۔ مگر مسلمانوں کو پچھلے دو سو برس میں بھی غالباً کوئی ’’راجہ رام موہن رائے‘‘ نہیں ملا۔ ایسی حالت میں مسلمان اگر جدید تعلیم میں پیچھے ہیں تو یہ عین وہی بات ہے، جو واقعہ کے اعتبار سے ہونی چاہیے ۔

Printed page