Al-Risala · November 2020

خدا ترس شخصیت

Al-Risala, November 2020, pp. 44–45

By Maulana Wahiduddin Khan

شیخ ریاض موسی ملیباری عرف ریالو صاحب دعوت الی اللہ کے میدان میں میرے ابتدائی معلم و مربی تھے۔ آپ کے ساتھ مجھے کئی اسفار کے مواقع ملے۔ جن کے ذریعے میں نے ریالو صاحب کو بہت قریب سے جانا ہے۔ ریالو صاحب ایک planner اور خدا ترس انسان تھے۔ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کیا کرتے تھے، خدا اور آخرت کے ذکر پر خوب رویا کرتے تھے۔ مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے، جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ کتنا زیادہ خدا اور آخرت کی یاد پر رویا کرتے تھے۔

اگست 2001 کی بات ہے کہ ریالو صاحب کے ساتھ میرا ایک سفر دہلی کا ہوا، جس میں ہمارے ساتھ مولانافیاض الدین عمری (گلبرگہ) بھی تھے۔ جب ہم دہلی پہنچے تو سب سے پہلا پروگرام مولانا وحید الدین خاں سے ملاقات کا بنا۔ مولانا فیاض عمری نے آپ سے فون پر ملاقات کا ٹائم لیا، اور ہم لوگ آپ سے ملنے کی تیاری کرنے لگے۔ اس وقت شیخ ریاض صاحب نے مولانا فیاض الدین عمری سے پوچھا کہ ہم ایک بڑے عالم سے ملنے جارہے ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ ان کو کوئی اچھا تحفہ (gift) دوں، آپ مشورہ دو کہ ان کے لیے کون سا تحفہ مناسب ہوگا تو مولانا فیاض صاحب نے بتایا کہ میں نے مولانا وحید الدین صاحب کی ایک ڈائری میں پڑھا ہے کہ ان کو قلم اور مسواک پسند ہیں۔ ریالو صاحب نے ایک اچھا قلم اور مسواک آپ کو تحفہ میں دینے کے لیے خریدا۔ اس کے بعد ہم لوگ مولانا وحید الدین خاں صاحب سے ملاقات کے لیے ان کے آفس (نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی) پہنچے۔ جب ملاقات ہوئی تو ریالو صاحب نے مولانا کو یہ دونوں تحفہ پیش کیا، اور کہا کہ ہمارے شاگرد فیاض الدین عمری (گلبرگہ ، کرناٹک ) نے بتایا کہ آپ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ آپ کو قلم اور مسواک پسند ہے۔ اسی لیے ہم نے آپ کو یہ تحفہ پیش کیا ہے۔ اس وقت مولانا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ میں نے ایسا لکھا ہے۔

میری ایک پرانی بات ہے، لیکن آج کل میں کچھ اور سوچتا رہتا ہوں۔ تو ریالو صاحب نے پوچھا کہ وہ کیا ہے؟ تو مولانا نے کہا کہ میں اب اپنی عمر کی آخری منزل پر پہنچ چکا ہوں پتہ نہیں کہ کب موت کا فرشتہ مجھے لینے آجائے اور اللہ کے سامنے حاضر کر دے۔ میں خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنی نجات کے لیے کیا پیش کر سکتا ہوں۔

اگر میں یہ کہوں کہ میں نے اسلام پر اتنی کتابیں لکھی ہیں تو ان کی قیمت خدا کے پاس کیا ہو سکتی ہے جب کہ ایک دیا سلائی ان کتابوں کو جلا کر راکھ میں تبدیل کرنے کے لیے کافی ہے۔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے ایک بار یہ کہا تھا: لَنْ يُدْخِلَ أَحَداً مِنْكُمْ قَالُوا: وَلَا أَنْتَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2816)۔ یعنی تم میں سے کسی کو اس کا عمل ہرگز جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ لوگوں نے کہا: آپ بھی نہیں، اے خدا کے رسول؟ آپ نے کہا: میں بھی نہیں۔ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانک لے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود رسول اللہ اپنے عمل سے نہیں بلکہ خدا کی رحمت سے جنت پائیں گے تو میری اور میری کتابوں کی حیثیت کیا ہوگی۔ بس میں اسی سوچ میں رہتا ہوں کہ میں خدا کی رحمت کا کیسے مستحق بن سکتا ہوں۔ یہ کہہ کر مولانا رونے جا رہے تھے، اور مولانا کے ساتھ شیخ ریالو صاحب بھی زار و قطار رونے لگے۔

یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹے کی رہی، جس میں مولانا آخرت کی باتیں کرتے رہے اور شیخ ریالو صاحب روتے رہے۔ یہ پوری ملاقات رونے پر ہی ختم ہو گئی۔ اس واقعے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح سے ریالو صاحب خدا اور آخرت کے ذکر پر رویا کرتے تھے بلکہ میں نے ان کو بہت سی راتوں میں تہجد کے وقت روتے ہوئے پایا ہے۔ یہ تھی شیخ ریالو صاحب کی خدا ترس شخصیت۔ دعا ہے کہ خدا ان کی گریہ وزاری کو قبول فرما کر ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ (مولانا خطیب اسرار الحسن عمری، چینی)

Printed page