Al-Risala · May 2020

فاسٹنگ شاک

Al-Risala, May 2020, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

روزہ کے بارے میں ایک حدیث اس طرح آئی ہے: إِنَّ رَبَّكُمْ يَقُولُ : كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ (جامع الترمذی، حدیث نمبر 764)۔ بیشک تمھارا رب کہتا ہے کہ ہر نیکی کا ثواب (reward) دس گناہ سے 700گنا تک ہوتا ہے۔ روزہ میرے لیے ہے، اور میں ہی روزے کا ثواب دوں گا۔ بعض روایتوں میں یہ اضافہ ہے: عَبْدِي تَرَكَ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي (مسند احمد، حدیث نمبر 9138) یعنی میرا بندہ میری رضا کے لیے اپنی خواہشات اور کھانا پانی کو چھوڑتا ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ روزے کا لامحدود ثواب اس لیے ہے کہ روزہ دار کھانا اور پینا محدود مدت تک چھوڑ کر اپنے آپ کو فاسٹنگ شاک کے تجربے سے گزارتا ہے۔ فاسٹنگ شاک کا تجربہ اس کے مائنڈ کو ٹرگر (trigger) کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ اللہ رب العالمین کی نعمتوں کا عالمی تجربہ یہاں تک کہ وہ دریافت کرتا ہے کہ خالق نے اس کے لیے پوری یونیورس کو کسٹم میڈ یونیورس بنا دیا۔ یہ تجربہ روزہ دار کو شکر کے سمندر میں داخل کر دیتا ہے۔ فاسٹنگ شاک (fasting shock) ایک روزہ دار کے لیے ویساہی ہے، جیسانیوٹن کے لیے ایپل شاک (apple shock) تھا۔ ایپل شاک نے نیوٹن کو خالق کی عظیم بلسنگ (blessing) سے واقف کرایا، جس کو سائنس کی زبان میں کشش ثقل (gravitational pull) کہا جاتا ہے۔ زمین کی کشش ہزاروں سال سے انسان کے لیے نامعلوم بنی ہوئی تھی۔ مگر اب انسان جانتا ہے کہ یہ کشش اتنی زیادہ اہم ہے کہ اگر یہ کشش نہ ہو تو زمین پر تہذیب کا وجود نہ ہوگا۔ روزے میں بھوک اور پیاس کا تجربہ اس قسم کا فاسٹنگ شاک ہے، جو انسان کے مائنڈ کو ٹرگر کرتا ہے۔ اس کے بعد انسان کے اندر وہ سوچ جاگتی ہے، جو اس کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ خالق کے نعمتوں کو جانے اور اس کا اعتراف (acknowledge) کرے۔

Printed page