Al-Risala · January 2020

(Preceding) ہو چکا ہے

Al-Risala, January 2020, pp. 42–47

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے بطور خود ایک اصطلاح وضع کی ہے، جس کو میں ڈیگال ازم (Degaulism) کہتا مولانا وحید الدین خاں صاحب کی تقریر یا تحریر کے لیے آپ اپنی سہولت کے اعتبار سے درج ذیل میں دیے گئے QR Code کو اپنے موبائل سے اسکین کیجیئے اور مطلوبہ پیچ کوٹ کیجیئے ۔ ڈي جي پور یوٹیوب

ہوں، اس کا مطلب ہے کسی لیڈر کا اپنی لیڈری کی قیمت پر قوم کا مستقبل بنانا۔ موجودہ زمانہ میں فرانس کے جنرل ڈیگال کی زندگی اس قربانی کی ایک مثال ہے۔ اس لیے میں نے انھیں کے نام سے ڈیگال ازم کی اصطلاح وضع کی ہے۔

جنرل ڈیگال (1970-1890) موجودہ صدی کے وسط میں فرانس کے حکمراں بنے۔ وقت فرانس یورپ کا مُرد بیمار‘‘بنا ہوا تھا۔ فرانس کے افریقی مقبوضات میں آزادی کی تحریکیں چل ان تحریکوں کو کچلنے میں خود فرانس کچل اٹھا تھا۔ فرانس کے بے شمار جوان مارے گئے تھے، اور اس کی اقتصادیات دیوالیہ کی حد کو پہنچ گئی تھی۔

فرانس کے افریقی مقبوضات اس کے لیے سرمایہ (asset) نہ تھے، بلکہ اس کے لیے بوجھ (liability) بن چکے تھے۔ مگر اس طرح کی چیزیں قوموں کے لیے پرستیج (prestige) کا مسئلہ بن جاتی ہیں، اور جو چیز پرستیج بن جائے، اس سے دست برداری کے لیے لوگ کسی قیمت پر تیار

جنرل ڈیگال نے اس معاملہ کی نزاکت کو محسوس کیا۔ انھوں نے 60-1950 میں افریقہ کی تمام فرانسیسی نو آبادیات کو آزاد کر دیا۔ اس کے بعد 1962 میں الجیریا کو بھی آزاد کر دیا، جہاں زبردست تحریک آزادی چل رہی تھی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ جنرل ڈیگال سے سخت برہم ہو گئے ،حتیٰ کہ 1969 میں ڈیگال کو مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا۔ اگلے سال جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے جنازے میں صرف چند آدمی شریک تھے۔ مگر جنرل ڈیگال نے خود مر کر فرانس کو زندگی دے دی۔ اس کے بعد فرانس تیزی سے آگے بڑھنا شروع ہوا، یہاں تک کہ آج فرانس یورپ کا طاقتور ترین ملک شمار ہوتا ہے۔

مجھے کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ میں ایک پیدائشی سائنس داں (born scientist) ہوں تکنیکل معنوں میں نہیں بلکہ مزاج کے معنوں میں۔

سائنٹسٹ خارجی حقیقت کا مطالعہ کرتا ہے، اور اس کو انتہائی درست زبان (precise language) میں بیان کرتا ہے۔ سائنس داں کی کامیابی یہ ہے کہ وہ خارجی حقیقت کو ویساہی بیان کر دے جیسا کہ وہ فی الواقع ہے۔ اس سے سائنس داں کے اندر حقیقت واقعہ سے مطابقت کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔ سائنسی مزاج (scientific temper) دراصل حقیقت واقعہ سے مطابقت ہی کا دوسرا

حقیقت واقعہ سے مطابقت کا مزاج میرے اندر بچپن سے پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی میں کسی کی کوئی بات نقل کرتا ہوں، تو آخری حد تک کوشش کرتا ہوں کہ وہی بات نقل کروں، جو کہنے والے نے کہی ہے۔ تا کہ اصل اور نقل میں یکسانیت باقی رہے۔ جب میں کسی کے فکر پر تنقید کرتا ہوں تو اس کو بار بار پڑھتا ہوں، تا کہ میری تنقید عین اسی بات پر ہو جو پیش کرنے والے نے پیش کی ہے، نہ کہ کسی دوسری بات پر۔

اپنے اس مزاج کی وجہ سے اکثر میں یہ کرتا رہتا ہوں کہ جب مجھے اسلام کے موضوع پر کوئی مقالہ یا کتاب لکھنا پڑا، تو میں اس سے پہلے پورے قرآن کو ایک بار پڑھتا ہوں۔ قرآن کو بار بار پڑھنے کے باوجود ہر نئے موقع پر میں پھر سے اس کو ایک بار پڑھتا ہوں، تا کہ میری بات عین قرآن کے مطابق رہے، دونوں کے اندر نامطابقت پیدا نہ ہونے پائے۔

میرا یہ مزاج اتنا بڑھا ہوا ہے کہ وہ ہر معاملہ میں ظاہر ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک معمولی خط کا جواب دیتے ہوئے میں اس خط کو کئی بار پڑھتا ہوں۔ مکتوب نگار کا منشا اچھی طرح سمجھنے سے پہلے میں اس خط کا جواب نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ میرے اوپر لوگوں نے بے شمار تنقیدیں کی ہیں مگر آج تک کوئی یہ نہ کہہ سکا کہ میں نے اس کی بات کو غلط شکل میں پیش کیا ہے۔ مسز اینی بسنٹ (1933-1847) ایک انگریز خاتون تھیں۔ انھوں نے لندن کے ایک اچھے تعلیمی ادارے میں انگریزی، فرانسیسی، جرمن وغیرہ زبانیں سیکھیں۔ ان کے اندر اظہار خیال کی بہت عمدہ

وہ 1893 میں ہندوستان آئیں، اور یہاں کے بہت سے سیاسی اور سماجی کاموں سے وابستہ 21 ستمبر 1933 کو ان کا انتقال ہوا تو ان کی وصیت کے مطابق ان کی قبر پر یہ کتبہ لکھا گیا : She tried to follow truth. اس نے سچائی کے راستے پر چلنے کی کوشش کی۔ مگر عجیب بات ہے کہ مسز اینی بسنٹ عملی طور پر دوسروں کے ساتھ زیادہ دیر تک نہ چل سکیں۔ انھوں نے 1867 میں انگلینڈ کے ایک مذہبی آدمی فرینک بسنٹ سے شادی کی۔ کچھ دنوں کے بعد ان کو احساس ستانے لگا کہ ان کا شوہر آمر یت وہ اس سے نباہ نہ کر سکیں اور انھوں نے 1873 میں اس سے علیحدگی حاصل کرلی۔ وہ ہندوستان کی سیاست میں داخل ہوئیں اور 1917 میں انڈین نیشنل کانگریس کی صدر منتخب مگر عدم تعاون تحریک (non cooperation movement) پر ان کا مہاتما گاندھی سے اختلاف ہوا، اور انھوں نے کانگریس چھوڑ دی۔

مسز اینی بسنٹ کی واقعات سے بھری ہوئی زندگی (eventful life) میں اس طرح کے بہت سے قصے پائے جاتے ہیں۔ وہ سچائی کی ہم سفر تھیں ، مگر وہ سچوں کی ہم سفر نہ بن سکیں۔ ذہنی سفر کا معاملہ عملی سفر کے معاملہ سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ ذہنی سفر میں آدمی اکیلا ہوتا ذہنی سفر میں یہ نزاکت پیش نہیں آتی کہ آدمی کو دوسروں سے نباہ کرتے ہوئے اپنا سفر طے کرنا مگر عملی سفر میں دوسرے لوگ بھی شریک سفر ہوتے ہیں ۔ یہاں ضروری ہوتا ہے کہ آدمی دوسروں سے نباہ کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے ۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ جو ذہنی سفر میں بہت تیز رفتار نظر آتے ہیں، وہ عملی سفر میں بالکل ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ ٹائمس آف انڈیا (28 اپریل 1985) میں ایک رپورٹ چھپی ہے جس کا عنوان ہے : A lifetime of Encyclopaedia اس رپورٹ میں مسٹر بنود کانون گو (عمر 73 سال) کے کام کی تفصیل چھپی ہے۔

(اڑیسہ) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے ایک اڑیا انسائیکلوپیڈیا تیار کی ہے، جو 75 جلدوں میں مکمل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ کام انھوں نے اپنی تنہا محنت سے 30 سال میں مکمل کیا ہے۔ مسٹر بنود کانون گو جب نوجوان تھے تو ان کے کان میں مہاتما گاندھی کی پکار آئی۔ تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی، اور بنیادی تعلیم ہی حقیقی تعلیم ہے۔

No nation grows without education, and basic education is real education. ان الفاظ سے مسٹر بنود کانون گو کے اندر شدید جذبہ ابھرا۔ انھوں نے اڑیا زبان میں انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کی مہم شروع کردی۔ یہاں تک کہ 30 سال کی مسلسل محنت کے ذریعہ اس کو کامیابی تک پہنچا دیا۔ مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسٹر بنود کانون گو نے اس مہم میں اڑیسہ کی ریاستی حکومت اور نئی دہلی کی مرکزی حکومت سے مدد کی درخواست کی۔ مگر ان کو نہ ریاستی حکومت سے کوئی مدد ملی، اور نہ مرکزی حکومت سے۔ اس کے باوجود مسٹر بنود کانون گو نے اپنے محدود ذرائع سے کام لیتے ہوئے اپنی مہم جاری رکھی، یہاں تک کہ اس کو اختتام تک پہنچا دیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں، جو کسی قوم کی تعمیر کرتے ہیں۔ تعمیر کا کام ہمیشہ انفرادی قربانی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ اس کے سوا قومی تعمیر کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ لوہا لوہے کو آگ میں ڈال کر تپاتا ہے۔ یہاں تک کہ لوہا گرم ہو کر لال ہو جاتا ہے۔ وقت لوہار ہتھوڑا مار کر لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق بناتا ہے، چپٹا یا گول یا لمبا۔ لوہا را گر لوہے کو گرم کیے بغیر اس پر اپنا ہتھوڑ امارنے لگے تو وہ لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنے میں کامیاب نہ ہو۔ اسی سے انگریزی کی یہ مثل بنی ہے کہ لوہے کو اس وقت مارو جب کہ وہ خوب گرم ہو: To strike the iron when it is hot. یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ آدمی کو زندگی میں اکثر کوئی اقدام کرنا پڑتا ہے۔ اقدام سے پہلے ضروری ہے کہ حالات کا بھر پور اندازہ کر لیا جائے۔ اگر حالات پوری طرح تیار ہوں،

تو اقدام مفید ہوگا، ورنہ ناکام ہو کر رہ جائے گا۔ لوہا گرم ہونے پر ہتھوڑا مارنے والا اپنے مقصد کو حاصل کرتا ہے۔ جو شخص ٹھنڈے لوہے پر ہتھوڑا مارنے لگے، وہ صرف اپنے ہاتھ کو دکھ پہنچائے گا ، وہ لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں ڈھال سکتا۔

انگریزی کا ایک مثل ہے کہ کیل کے عین سر پر مارنا:

Printed page