Al-Risala · May 2020

زندگی ایک موقع

Al-Risala, May 2020, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں زندگی کی ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ یعنی ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان پر لازماً موت کا تجربہ گزرنے والا ہے۔ ہر انسان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آنے والا ہے کہ اس پر موت آئے۔ محدود مدت تک زمین پر رہنے کے بعد وہ مر کر ایک اور دنیا میں پہنچ جائے۔

سروے کے مطابق ، اس دنیا میں انسان کی اوسط عمر تقریباً 80 سال ہے۔ ہر انسان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ وہ ایک بچے کی حالت میں پیدا ہو۔ پھر وہ جوان ہو۔ اس کو بیماری اور حادثہ جیسے تجربات پیش آئیں۔ زندگی کے مختلف مرحلوں سے گزرتے ہوئے وہ بڑھاپے کی عمر تک پہنچے۔ کوئی شخص کم عمری میں مر جائے، اور کوئی شخص زیادہ عمر کو پہنچ کر دنیا سے رخصت ہو جائے۔ موت کا یہ تجربہ رب العالمین کے تخلیقی نقشے کے مطابق پیش آتا ہے۔ اس تخلیقی نقشے کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، پیدا ہونے کے بعد انسان پر زندگی کے جو مختلف مرحلے پیش آتے ہیں، وہ ایک موقع (opportunity) کے طور پر پیش آتے ہیں۔ یعنی مختلف تجربات حیات سے گزار کر انسان کو یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو احسن العمل (best in conduct) کی حیثیت سے ڈیولپ کرے۔ وہ اپنے آپ کو بہترین شخصیت کی حیثیت سے تیار کرے۔ بارے میں نگراں فرشتے یہ ریکارڈ کر رہے ہیں کہ کن حالات میں وہ کیسا رسپانس (response) دیتا اگر اس کی زندگی کا ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے تو اس کا انتخاب جنتی شہری کی حیثیت سے کیا جاتا ہے، ورنہ اس کو کائناتی کوڑا خانے میں ڈال دیا جاتا ہے، جہاں وہ ہمیشہ کے لیے حسرت کی زندگی گزارتا ہے۔

Printed page