Al-Risala · May 2020

حسرت کا دن

Al-Risala, May 2020, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

آخرت کا دن تمام انسانوں کے لیے، بالفاظ دیگر پوری انسانی تاریخ کے لیے فیصلے کا دن ہوگا۔ اس دن موقع گنوانے والے کے ساتھ کیا پیش آئے گا، اس کا ذکر قرآن کئی مقام پر آیا ہے۔ سے ایک آیت یہ ہے : كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ یعنی اس طرح اللہ ان کے اعمال کو انھیں حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ آگ سے نکل نہ دوسری آیت یہ ہے : وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا یعنی اور ان لوگوں کو اس حسرت کے دن سے ڈرا دو جب معاملے کا فیصلہ کر دیا جائے گا، اور وہ غفلت میں ہیں۔ اور وہ ایمان نہیں لا رہے ہیں۔

یوم حسرت سے مراد ہے day of regret۔ آخرت کے دن انسان اس بات پر بے پناہ حسرت کرے گا کہ آہ، اس کو خالق نے کیسا اعلیٰ موقع دیا تھا، لیکن اس نے اس موقع کو اویل (avail) نہیں کیا۔ آخرت میں یہ حسرت انسان کے لیے حسرت کی آگ بن جائے گی۔ کے شدید احساس کے ساتھ سوچے گا کہ کیسا عجیب موقع تھا، جو اس سے کھویا گیا۔ آدمی اپنی گزری ہوئی زندگی کو حسرت کے ساتھ دیکھے گا، اور کچھ نہ کر سکے گا۔

آدمی دنیا میں ناکامی سے دوچار ہوتا ہے تو اس کو موقع ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ نئی زندگی شروع اس کے پاس ساتھی اور مددگار ہوتے ہیں جو اس کو سنبھالنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر آخرت کی ناکامی ایسی ناکامی ہے، جس کے بعد دوبارہ سنبھلنے کا کوئی امکان نہیں۔ حسرت کا لمحہ ہوگا جب آدمی یہ جانے گا کہ وہ سب کچھ کر سکتا تھا۔ مگر اس نے نہیں کیا۔ یہاں تک کہ کرنے کا وقت ہی ختم ہوگیا۔ حسرت (regret) بھی ایک آگ کی مانند ہے۔ جس طرح معروف آگ مادی آگ ہے۔ اسی طرح حسرت نفسیاتی آگ ہے۔ حسرت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو شدید احساس ہو کہ آہ کیسا قیمتی موقع تھا، جو اس سے کھویا گیا۔

Printed page