Al-Risala · May 2020

کامل بے بسی

Al-Risala, May 2020, pp. 34–35

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی ہر انسان کے لیے ایک سفر ہے، اور موت وہ لمحہ جب کہ اس سفر پر آخری فل اسٹاپ (full stop) لگ جاتا ہے۔ انسان کی زندگی میں بار بار مختلف قسم کے وقفے آتے ہیں۔ مگر یہ وقفے صرف کا ما ( ، ) ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ اپنے وطن سے سفر کر کے کسی دوسرے مقام پر جاتے ہیں، اور پھر اپنے مقام پر دوبارہ واپس آجاتے ہیں تو یہ کا ما ( ، ) کا ایک واقعہ ہوتا ہے، نہ کہ فل اسٹاپ کا ایک مگر موت ہمیشہ پوائنٹ آف نو رٹرن پر آتی ہے۔ موت ہر آدمی کے لیے ایک فل اسٹاپ ہے۔ اس معاملے میں آدمی کے لیے سوچنے کا موقع صرف اس وقت تک ہے، جب کہ اس کی موت نہ آئی موت کے آتے ہی دفعۃً سوچنے کا موقع ختم ہو جاتا ہے۔ موت سے پہلے آدمی کے لیے کرنے کا موقع ہوتا ہے، اور موت کے بعد آدمی کے لیے اپنے کیے ہوئے کو بھگتنے کا موقع۔ موت کا سب سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ وہ اعلان کر کے نہیں آتی، بلکہ اچانک آتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ موت کا فرشتہ پیشگی طور پر آ کر آدمی کو بتا دے کہ فلاں وقت پر موت آنے والی ہے، تم کو جو تیاری کرنا ہے، وہ کر لو۔ اس کے برعکس، جو ہوتا ہے، وہ یہ کہ موت بالکل اچانک آجاتی ہے۔ زندگی اور موت کے درمیان جو واقعہ پیش آتا ہے، وہ صرف اس حادثے کا نام ہے، جس کو انسانی زبان میں غرغرہ کہا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے : اِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ، مَا لَمْ يُغَرْغِرُ (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 4253)۔ یعنی اللہ عز و جل بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے، جب تک اس پر غرغرہ نہ طاری ہو جائے :

Allah accepts the repentance of man so long as the death rattle has not yet reached his throat. موت کسی آدمی کے لیے موجودہ دنیا سے انقطاع کلی (total detachment) کا نام آدمی جب تک موجودہ دنیا میں ہے، وہ اپنے آپ کو دنیا کا ایک اٹوٹ حصہ سمجھتا ہے۔

نفسیات میں جیتا ہے کہ یہ میرا گھر ہے، یہ میری فیملی ہے، یہ میرا مال ہے، یہ میرے لوگ ہیں، یہ میری بنائی ہوئی دنیا ہے، وغیرہ۔ مگر موت آتے ہی اس کی ڈکشنری سے یہ تمام الفاظ اچانک ڈیلیٹ ہو جاتے ہیں۔ اب وہ اپنے آپ کو کامل معنوں میں اکیلا پاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے تو اس کو نہ اپنے آگے کوئی دکھائی دیتا ہے، اور نہ اپنے پیچھے، اس کو نہ اپنے دائیں طرف کوئی دکھائی دیتا ہے، اور نہ اپنے حتی کہ اس کے قدموں کے نیچے کی زمین بھی جہاں وہ کھڑا ہوا ہے، اس کی اپنی زمین نہیں یہ اس کے لیے آخری حد تک ایک تنہائی اور بے بسی کا لمحہ ہوتا ہے۔

موت کا واقعہ آدمی کے لیے موت کے بعد کامل بے بسی کا واقعہ ہوگا۔ لیکن اگر آدمی موت کے واقعے کو موت سے پہلے سوچ لے تو موت کا واقعہ اس کے لیے سب سے بڑے انقلاب کے ہم معنی بن وہ انسان کو ایک اور انسان بنا دے گا۔ اس سوچ سے پہلے آدمی اگر جہنم کے کنارے پر کھڑا ہوا تھا تو اب وہ اچانک اپنے آپ کو جنت کے کنارے کھڑا ہوا پائے گا۔ موت بلاشبہ کسی آدمی کی زندگی کا سب سے بڑا واقعہ ہے، اس سے بڑا واقعہ اور کوئی نہیں۔ موت بظاہر ایک تین حرفی لفظ لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ اتنا بڑا واقعہ ہے کہ ڈکشنری کے تمام الفاظ بھی اس کی سنگینی کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

موت کے بارے میں ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: أَکْثِرُوا ذِکْرَ ھَادِمِ اللَّذَّاتِ، يَعْنِي الْمَوْتَ (سنن ابن ماجه، حدیث 4258)۔ یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ ایک شخص جب مرتا ہے، اور اس کو تکفین کے بعد قبر میں لٹایا جاتا ہے تو وہ ایک طوفان خیز منظر ہوتا ہے۔ آدمی کے اندر اگر بیدار ذہن موجود ہو تو تدفین کے منظر کو دیکھ کر اس کو حقیقی طور پر موت کی معرفت حاصل ہو جائے۔ اس تجربے کے بعد وہ یقینی طور پر ایک نیا انسان بن جائے گا۔ تجربے کے بعد وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا جو ہر اعتبار سے ایک نیا انسان ہوگا، وہ ایسا محسوس کرے گا، جیسے کہ پہلے اگر وہ دنیا میں جینے والا بنا ہوا تھا تو اب وہ پورے معنوں میں آخرت میں جینے والا بن گیا ہے۔ آخرت کی دنیا میں داخل ہونے سے پہلے وہ آخرت کی دنیا میں داخل ہو گیا ہے۔

Printed page