Al-Risala · May 2020

حصائدِ لسان

Al-Risala, May 2020, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث کی کتابوں میں ایک طویل روایت آئی ہے: معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا۔ ایک دن میں آپ کے قریب ہوا، اور میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول آپ مجھے بتائیں وہ عمل جو مجھے جنت میں داخل کرے، اور جو مجھے آگ سے دور کرے۔ کہا: تم نے بڑی چیز کے بارے میں پوچھا ہے، اور یہ آسان ہے، جس کے لیے اللہ آسان کر دے۔ اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، اور زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، اور بیت اللہ کا حج کرو۔ کیا میں تمہیں خیر کے دروازے کی طرف رہنمائی نہ کروں۔ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو ختم کرتا ہے، جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے، اور آدمی کا آدھی رات کو نماز پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی: ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔ وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈر سے اور امید سے۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، وہ اس میں سے خرچ کرتے تو کسی کو خبر نہیں کہ ان لوگوں کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔ پھر آپ نے کہا: کیا میں تم کو تمام معاملے کی بنیاد اور اس کے عمود، اور اس کی چوٹی سے آگاہ نہ کروں۔ میں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ نے کہا: معاملے کی بنیاد اسلام ہے، اور اس کا عمود نماز ہے، اور اس کی بلند چوٹی جہاد ہے۔ پھر کہا: کیا میں تمہیں اس تمام کی اصل سے باخبر نہ کروں؟ (أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ؟ ) میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنی زبان کو پکڑا، اور کہا: اس کو اپنے کنٹرول میں رکھو (كُفَّ عَلَيْكَ تو میں نے کہا: کیا ہم لوگوں کا مواخذہ ہوگا، جو ہم بولتے ہیں۔ آپ نے کہا: تمھاری ماں تم کو گم کرے، اے معاذ! لوگ آگ میں اپنے منھ کے بل گریں گے، صرف اپنی زبان کی کھیتی کی وجہ سے (وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ) - جامع الترمذی، حدیث نمبر 2616۔ زبان کو آپ نے کیوں اتنا زیادہ اہمیت دی۔ زبان آدمی کے پورے وجود کا خلاصہ ہے، آدمی کو چاہیے کہ زبان کی حفاظت کا آخری حد تک اہتمام کرے۔

Printed page