زحمت میں رحمت
Al-Risala, May 2020, pp. 47–48
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان موجودہ دنیا میں پیدا ہوتا ہے۔ یہاں وہ اپنے صبح وشام گزارتا ہے۔ مختلف تجربات کے دوران یہاں اس کی زندگی کا سفر جاری رہتا ہے۔ ان تجربات کے ذریعے شعوری یا غیر شعوری طور پر انسان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ یہی موجودہ دنیا حقیقی دنیا ہے۔ اس کے مقابلے میں اس کو محسوس ہوتا ہے کہ آخرت کی دنیا غیر حقیقی دنیا ہے۔ دونوں دنیاؤں کے درمیان یہ ظاہر اس فرق کی بنا پر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا تفکیری عمل (thinking process) موجودہ دنیا کے لیول پر جاری ہو جاتا ہے۔ اس کی سوچ اور اس کی منصوبہ بندی میں عملاً آخرت کا کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔ یہ انسان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وسیع تر انجام کے اعتبار سے صحیح یہ ہے کہ انسان کے اندر آخرت رخی سوچ (Akhirat-oriented thinking) بنے، نہ کہ دنیا رخی سوچ۔ کو اس معاملے میں بے راہ روی سے بچانے کے لیے فطرت نے یہ انتظام کیا ہے کہ موجودہ دنیا کو دار الکبد (البلد، 90:4) بنا دیا، یعنی مسائل ومشکلات کی دنیا۔ یہ مسائل انسان کے لیے اسپیڈ بریکر (speed breaker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مسائل اس لیے ہیں کہ انسان موجودہ دنیا کو حقیقی دنیا نہ سمجھے، بلکہ آخرت کے اعتبار سے اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔
حدیث میں آیا ہے کہ جب بھی کوئی بیمار ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے لیے کہتے تھے: لاَ بَأْسَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3616)۔ یعنی کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ یہ پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو پُر اسرار طور پر وہ ایک پاکیزہ انسان بن جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ کوئی آدمی اگر بیماری یا حادثہ، وغیرہ کا تجربہ نہ کرے، وہ مکمل طور پر صحت مند ہو، زندگی میں اس کو کسی نقصان کا تجربہ نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر فخر و ناز کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اُس کا سینہ تواضع کے احساسات سے خالی ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک بے حس انسان بن کر رہ جاتا ہے۔
لیکن جب ایک سچا انسان بیماری یا نقصان میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اپنے عجز کو دریافت اُس کے اندر دردمندی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے بندہ ہونے کی حقیقت کا تجربہ اس طرح بیماری اُس کو دوسری چیزوں سے دور کر کے اللہ سے قریب کر دیتی ہے۔ اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے۔ اُس کے دل سے دعائیں اور التجائیں نکلنے لگتی ہیں۔ بیماری اُس کے لیے اللہ سے قربت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اس طرح بیماری ایک سنجیدہ انسان کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا معاملہ بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا تمام معاملہ سوچ پر مبنی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کبھی بیماری یا مصیبت پیش آنے پر شکایت یا مایوسی کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو۔ بلکہ جب بھی کوئی ناخوشگوار صورت حال پیش آئے تو وہ معتدل ذہن کے ساتھ اس پر غور کرے ۔ وہ منفی واقعے میں مثبت واقعہ کو دریافت کرنے کی کوشش کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کو قانونِ فطرت کی تائید حاصل ہوگی ۔ واقعے میں مثبت پہلو کو دریافت کرلے گا، اور اس طرح وہ اپنے آپ کو مایوسی سے بچانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ مایوسی ایک غیر فطری چیز ہے، وہ کوئی فطری چیز نہیں۔ مثلاً بیماری بظاہر ایک انسان کے لیے غیر مطلوب چیز ہے۔ لیکن اگر ربانی ذہن ہو تو جسمانی بیماری آدمی کے لیے روحانی صحت کا ذریعہ بن جائے گی۔ اس دنیا میں اصل اہمیت ذہنی بیداری کی بیدار ذہن ہی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ واقعات سے سبق لے، اور ذہن کو بیدار کرنے والی سب سے بڑی چیز اس دنیا میں صرف ایک ہے، اور وہ مشکل حالات ہیں۔
زندگی کی اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: (ترجمہ) ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پیداوار کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں، اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں، اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔